کوئٹہ(این این آئی)چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ چمن بارڈر، جو پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت اور آمدورفت کا اہم دروازہ ہے، ایک بار پھر ممکنہ خطرات کی زد میں ہے بی ایل اے، ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کی پاکستان کے خلاف مربوط کارروائی کی تیاریاں مکمل کر چکے ہیں اور کای بھی وقت پاکستان کے چمن بارڈر پر بڑا حملہ کر سکتے ہیں ایسا حملہ چمن گیٹ جیسے حساس مقام پر کیا جاتا ہے تو اس کے اثرات محض ایک سرحدی واقعے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ یہ علاقائی سلامتی، سفارتی تعلقات اور معاشی سرگرمیوں پر گہرے اثرات مرتب کرے گادونوں ممالک کے درمیان نارمل حالات کے دوران چمن گیٹ روزانہ ہزاروں افراد اور درجنوں مال بردار گاڑیوں کی گزرگاہ ہوتا ہے کسی بھی بڑی تخریبی کارروائی سے نہ صرف بہت بڑی تعداد میں انسانی جانوں کو خطرہ لاحق ہوگا بلکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سالانہ اربوں روپے کی تجارت بھی طویل عرصے کیلئے بند ہو جائے گی۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ مختلف دہشتگرد گروہ کسی مشترکہ حکمت عملی کے تحت کارروائی کریں تو اس کا مقصد ریاستی رٹ کو چیلنج کرنا اور عالمی سطح پر پاکستان کے استحکام کو متاثر کرنا ہو سکتا ہے تاہم پاکستان کی سیکیورٹی فورسز گزشتہ برسوں میں دہشت گردی کے خلاف وسیع آپریشنز کے ذریعے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت ثابت کر چکی ہیں کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں فوری، مربوط اور فیصلہ کن ردعمل نہ صرف اندرونی سلامتی کو مضبوط کرے گا بلکہ دہشتگردوں کے علاوہ بھارت اور اسرائیل کو واضح پیغام دے گا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور سرحدوں کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتا ریاست پوری سنجیدگی، انٹیلیجنس ہم آہنگی اور سفارتی سطح پر مؤثر حکمت عملی اپناتی ہے تو حملہ آوروں کو غیر معمولی اور تباہ کن نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایسے حالات میں مضبوط ردعمل ہی خطے میں طاقت کے توازن اور قومی سلامتی کے بیانیے کو مستحکم کر سکتا ہے۔

