کوئٹہ (رپورٹر) نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میر کبیر احمد محمدشہی نے کہا ہے کہ 8 فروری 2024 پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک اور سیاہ باب کا اضافہ تھا جس میں غیرجمہوری قوتوں نے بدترین انتخابی دھاندلی کے زریعے عوامی مینڈیٹ کو پامال کیا اور کروڑوں عوام کے ووٹوں کو نیلام کرتے ہوئے فارم 47 کی واردات کے زریعے قومی و صوبائی اسمبلی نشستوں کو ریوڑیوں کی طرح تقسیم کیا گیا جس کے نتیجے میں آج جمہوریت کے لبادے میں ملک کو غیرمنتخب پارلیمان اور غیرنمائندہ حکومتوں کے زریعے آمرانہ طرز پر چلایا جارہا ہے۔ 8 فروری کی انتخابی دھاندلی اور سیاسی انجینئرنگ کے زریعے عوام کو حکومت اور نظام حکمرانی کی تشکیل سے لاتعلق کرکے حکمرانوں کی رعیت بنا دیا گیا ہے۔ ماضی کے تجربوں کی طرح عوامی مینڈیٹ کی حالیہ پامالی کے باعث ملک ایک مرتبہ پھر سنگین بحرانوں کی زد میں ہے جہاں گورننس، سیکورٹی اور معیشت زبوں حالی کا شکار جبکہ آئین، پارلیمان، حکومت، عدلیہ، میڈیا سمیت ہر شعبہ اور ریاستی ستون اپنی آئینی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں ناکام ہے۔ حکمران ملکی استحکام کو داو پر لگا کر اپنا شوق اقتدار پورا کررہے ہیں۔ بلوچستان میں جس بدترین دھاندلی اور نیلامی کے زریعے پورے انتخابی عمل کو غیرموثر کردیا گیا اس کی نظیر پورے ملک میں نہیں ملتی اور اس کا نتیجہ آج سب کے سامنے ہیں۔ فارم 47 کے زریعے نتائج تبدیل کر کے کامیاب امیدواروں کو ہرا کر ان کی جگہ پر تین سے چار سو ووٹ حاصل کرنے والوں کو بھی صوبائی و قومی اسمبلی کا رکن بنا دیا گیا۔ پچھلے دو سال میں یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ ملک کے عوام کسی طور پر حکمرانوں کی رعیت بننے کے لیے تیار نہیں اور اگر عوام کا حق حکمرانی تسلیم نہیں کیا جاتا تو عوام کی شمولیت کے بغیر ملک میں سیاسی و معاشی استحکام اور گورننس کی بہتری ممکن نہیں۔ نیشنل پارٹی ملک میں حقیقی جمہوریت، آئین کی حکمرانی، وفاقیت، عدلیہ کی آزادی اور پارلیمانی بالادستی پر یقین رکھتی ہے اور تمام تر مشکلات اور چیلنجز کے باوجود اپنے اصولی موقف پر استقامت کے ساتھ کھڑی ہے اور اپنی جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی۔

