بلوچستان شورش اور جبری گمشدگیوں کی لپیٹ میں ہے، سیاسی حل ناگزیر ہے: ڈاکٹر عبدالمالک

لاہور (رپورٹر) نیشنل پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان اس وقت دو سنگین مسائل، شورش اور جبری گمشدگیوں، کی لپیٹ میں ہے لیکن بدقسمتی سے ان کا کوئی واضح حل نظر نہیں آ رہا۔ لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب بھی وہ اپنے علاقے جاتے ہیں تو روزانہ چار سے پانچ افراد کسی نہ کسی لاپتا شخص کی شکایت لے کر آتے ہیں، جو انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔
ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ ریاست اور سیاسی قیادت کو ان مسائل کا حل نکالنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بلوچستان کو صرف سیکیورٹی مسئلہ سمجھ کر نمٹایا گیا تو حالات مزید خراب ہوں گے، تاہم اگر سیاسی لوگوں اور سیاسی جماعتوں کو شامل کیا جائے تو بہتری آ سکتی ہے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں عوامی جڑیں رکھنے والی سیاسی جماعتوں کے لیے سیاسی گنجائش مسلسل کم کی جا رہی ہے۔ ڈاکٹر مالک نے کہا کہ جن لوگوں کو عوام نے ووٹ دیا انہیں پارلیمان میں آنے نہیں دیا گیا جبکہ دیگر افراد کو محض علامتی طور پر ایوانوں میں بھیج دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے دور میں جبری گمشدگیوں کے خاتمے سمیت کئی نکات پر اتفاق ہوا تھا، مگر ان پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔انہوں نے کہا کہ سیاسی اصلاحات، صوبے کو وسائل کی حوالگی، 1973 کے آئین، 18ویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کا تحفظ ناگزیر ہےڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ سیکیورٹی اداروں کو مکمل طور پر سیاست سے دور ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں کوئی حقیقی الیکشن نہیں ہوا بلکہ وہاں صرف “آکشن” ہوا ہےجس نے جتنا سرمایہ لگایا وہی اقتدار میں آیا۔ ان کے مطابق بلوچستان میں لاپتا افراد اور حاکمیت کا سنگین مسئلہ ہے اور وہاں مذاکرات کا ماحول موجود نہیں انہوں نے کہا کہ حکومت نے خود اعلان کیا تھا کہ یکم فروری سے تمام لاپتا افراد کو جیلوں میں لایا جائے گا، مگر عملی صورتحال اس کے برعکس ہے۔ ڈاکٹر مالک نے کہا کہ ہم جس بھی حلقے میں جاتے ہیں، عوام سوال کرتے ہیں کہ فلاں کا بیٹا اٹھا لیا گیا اور فلاں لاپتہ ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے بلوچستان کے وسائل لوٹے صوبے میں بے روزگاری میں اضافہ ہو چکا ہے اور وسائل پر کھلے عام ڈاکا ڈالا جا رہا ہے ان کا کہنا تھا کہ سرحدی علاقوں میں چیک پوسٹوں پر تعینات افراد تو مستفید ہوتے رہے مگر عام عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں ساٹھ فیصد سے زائد کرپشن ہےاور جب کسی کو کرپشن سے باز رہنے کا کہا جائے تو وہ جواب دیتا ہے کہ جو پیسے دیے گئے ہیں وہ کہاں سے پورے کیے جائیں انہوں نے کہا کہ ریاست کو دل بڑا کرنا ہوگا اور مسائل کا سنجیدہ اور پائیدار حل نکالنا ہوگا۔انہوں نے سرحدی تجارت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بلوچ اور پشتون نسلوں سے چمن سے جیوانی تک غیر رسمی تجارت کرتے آئے ہیں، مگر اسے سمگلنگ قرار دے دیا گیا، حالانکہ پندرہ سے بیس لاکھ افراد کا روزگار سرحدی تجارت سے وابستہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ان حقائق کو نظرانداز کیا گیا تو حالات مزید خراب ہوں گے.

اپنا تبصرہ بھیجیں