کوئٹہ(این این آئی)بلوچستان پولیس نے صوبہ بھر میں جرائم پیشہ عناصر منشیات فروشوں، اشتہاری، مفرور سمیت دیگر سنگین وارداتوں میں ملوث ملزمان کے خلاف جاری مہم کے خصوصی کارروائیوں میں 173 ملزمان کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے 12 مسروقہ گاڑیاں، 42 موٹر سائیکلیں، 17 موبائل فون، 153 پسٹل و ریوالور، 20 کلاشنکوف، 1397 کارتوس،119میگزین برآمد کرنے کے علاوہ9 مغویوں کو بھی بازیاب کرایا۔ آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر کی خصوصی ہدایت پر بلوچستان پولیس نے صوبہ بھر میں منشیات فروشوں، جرائم پیشہ عناصر، موٹر سائیکل گاڑیاں، موبائل فون چھیننے، چوری راہزنی سمیت دیگر مقدمات میں مطلوب اشتہاری، مفرور ملزمان کے خلاف خصوصی مہم کے دوران 173ملزمان کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے 153 پسٹل و ریوالور،20 کلاشنکوف، 10 شارٹ گن،1397 کارتوس، 119میگزین،33کلو 30 گرام دھماکہ خیز مواد،1خود کش جیکٹ، 59دستی بم قبضے میں لی۔ جبکہ منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 230 ملزمان کو حراست میں لیکر ان سے 2845.24چرس، 2443.756 گرام آئس شیشہ، 114 گرام ہیروئن, 15.740 افیوم، 60 گرام مارفین، 1.245 کرسٹل،1132شراب کی بوتلیں اور 564بیئر کین برآمد کیں۔ اس کے علاوہ472 مطلوب مفرور اور اشتہاری ملزمان، جبکہ مختلف جرائم میں 673 ملزمان کو حراست میں لیا گیا اور 9 مغویوں کو بھی بازیاب کرایا گیا ان کارروائیوں کے دوران 12 مسروقہ گاڑیاں،42 موٹر سائیکلیں، 17 موبائل فون، نقدی 632,500 اور 35 تولہ سونا اس کے علاوہ 2782 گاڑیوں سے کالے شیشے اتارے گئے۔ بلوچستان پولیس عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے اپنے فرائض کی ادائیگی کو یقینی بناتے ہوئے صوبہ بھر میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں کررہی ہے۔ کوئٹہ سمیت دیگر 7 رینجز کے اضلاع میں ٹارگٹ آپریشن کئے جارہے ہیں جس میں مختلف سنگین جرائم چوری، ڈکیتی، اشتہاری، مفرور ملزمان کو بھی گرفتار کیا گیا اس کے علاوہ جرائم کی روک تھام اور عوام کے تحفظ کے لئے صوبے بھر میں شہریوں کو پرامن اور جرائم سے پاک ماحول فراہم کرنا مقصود ہے۔واضح رہے کہ آئی جی پولیس بلوچستان کی ہدایات پر خصوصی جاری مہم کے دوران جرائم پیشہ مطلوب اور اشتہاریوں کی ایک علاقے سے دوسرے علاقوں میں کارروائی کے دوران روپوشی کے تدارک کے لئے اقدامات کئے گئے ہیں علاوہ ازیں گرفتار ہونے والے ملزمان کی صوبے کے تما م تھانوں میں مطلوب مقدمات کی چھان بین کے علاوہ ملک کے دیگر صوبوں میں بھی اْن کے خلاف متوقع مقدمات کے حوالے سے بھی تینوں صوبوں کے پولیس حکام سے بھی رابطہ کر کے ریکارڈ کی مکمل چھان بین کی جارہی ہے۔

