یہ دھرتی آج بھی گواہ ہے
کہ جب سچ نے سر اُٹھایا تھا
تو دار کی سولی نے پوچھا تھا
کس کے ساتھ ہے تیرا راستہ؟
وہ مسکرایا —
اور نام لیا مزاحمت کا۔
اے حمید بلوچ!
تیرا لہو فقط ایک قصہ نہیں،
یہ تاریخ کے ماتھے پر لکھی
سرخ روشنائی ہے۔
جب جبر کے موسم میں
محمد ضیاء الحق کا اندھیرا تھا،
جب کوڑوں کی چاپ سے
زنجیریں بولتی تھیں،
تب تُو نے درس دیا
کہ خوف سے بڑی کوئی قید نہیں،
اور سچ سے بڑی کوئی رہائی نہیں۔
تو نے کہا تھا:
یہ نوجوان
کسی اور کی جنگ کے ایندھن نہیں،
یہ اپنے خوابوں کے امین ہیں،
اپنی مٹی کے وارث ہیں۔
ظفار کی گونج سے لے کر
مچھ کی دیواروں تک
تیری صدا پھیلی —
کہ مزاحمت جرم نہیں،
شعور کی پہلی سیڑھی ہے۔
آج بھی جب
بلوچستان کی ہوائیں
ریت اڑاتی ہیں،
وہ تیرے قدموں کے نشان ڈھونڈتی ہیں۔
ہر طالبِ علم کی آنکھ میں
تیرا عکس چمکتا ہے،
ہر احتجاجی نعرہ
تیرا ادھورا جملہ مکمل کرتا ہے۔
اے شہید!
تو مرا نہیں —
تو سوال بن کر زندہ ہے،
تو للکار بن کر زندہ ہے،
تو اس وعدے کی صورت زندہ ہے
کہ ظلم جتنا بھی پرانا ہو
سچ اس سے زیادہ جوان ہوتا ہے۔
ہم تیری یاد کو
صرف آنسوؤں سے نہیں،
عہد سے زندہ رکھیں گے —
کہ مکالمہ ہوگا،
کہ حق لکھا جائے گا،
کہ نوجوان اپنی تقدیر خود لکھیں گے۔
اور جب بھی
کوئی دار سجے گا
کسی سچ کے لیے،
تاریخ پھر گواہی دے گی —
مزاحمت کبھی ہارتی نہیں۔

