گوادر(این این آئی) پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے شہرگوادر میں جاری قومی حفاظتی ٹیکہ جات مہم کے تحت انسدادِ پولیو مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا جس کے دوران ساحلی ضلع میں پانچ سال سے کم عمر 35,664بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔گوادر پرو کے مطابق ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے قومی یومِ حفاظتی ٹیکہ جات (این آئی ڈی) فروری مہم کا افتتاح ایک تقریب کے دوران ایک بچے کو پولیو کے قطرے پلا کر کیا۔ اس موقع پر ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔گوادر پرو کے مطابق یہ مہم 17 فروری تک جاری رہے گی اور ضلع کی تمام 20 یونین کونسلوں میں پیدائش سے لے کر پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو کور کیا جائے گا۔ ضلعی ہیلتھ آفیسر کے مطابق مجموعی طور پر 35,664 بچوں کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اور گھر گھر جا کر ویکسینیشن کیلئے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ نے کہا کہ پولیو ایک خطرناک اور لاعلاج بیماری ہے اور اس وائرس سے پیدا ہونے والی عمر بھر کی معذوری سے بچاؤ کا واحد مؤثر ذریعہ ویکسینیشن ہے۔انہوں نے والدین، کمیونٹی رہنماؤں، اساتذہ، علمائے کرام اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سے اپیل کی کہ وہ پولیو ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون کریں تاکہ ہر اہل بچے تک ویکسین پہنچائی جا سکے۔فروری کی اس مہم کی تیاریاں جنوری میں مکمل کر لی گئی تھیں، جب ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی رابطہ اجلاس منعقد ہواجس میں لاجسٹکس، سیکیورٹی اور آپریشنل منصوبہ بندی کا جائزہ لیا گیا۔گوادر پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی کوششوں کے حوالے سے ایک اہم ضلع تصور کیا جاتا ہے۔ ضلع میں 2015 کے بعد سے پولیو کا کوئی تصدیق شدہ کیس رپورٹ نہیں ہواتاہم 2025 میں حاصل کیے گئے ماحولیاتی نمونوں میں وائلڈ پولیو وائرس ٹائپ ون (WPV1)کی موجودگی سامنے آئی تھی، جو وائرس کے پھیلاؤ کے مسلسل خطرے کی نشاندہی کرتی ہے۔ محکمہ صحت کے حکام کے مطابق بچوں کے تحفظ اور بیماری کے دوبارہ پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مسلسل ویکسینیشن مہمات ناگزیر ہیں۔رپورٹ کے مطابق پاکستان بھر میں 2025 کے دوران پولیو کے 30 کیسز رپورٹ ہوئے جو 2024 میں سامنے آنے والے 74 کیسز** کے مقابلے میں نمایاں کمی ہے، جبکہ بلوچستان میں گزشتہ سال پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ حکام کا کہنا ہے کہ گوادر سمیت ملک بھر میں پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے ویکسینیشن مہمات کا تسلسل ضروری ہے۔

