اوتھل میں ماہِ رمضان المبارک کے پہلے روزے ہی سے مہنگائی نے عوام کی چیخیں نکال دیں

اوتھل (این این آئی) اوتھل میں ماہِ رمضان المبارک کے پہلے روزے ہی سے مہنگائی نے عوام کی چیخیں نکال دیں روزمرہ استعمال کی اشیاء، خصوصاً آٹا، دالیں، گھی، چینی، سبزیاں، پھل، مصالحہ جات اور گوشت کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ بکرے اور اونٹ کا گوشت عام آدمی کی دسترس سے باہر ہو چکا ہے جبکہ مرغی کے گوشت کی قیمتوں میں بھی غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔بازاروں کا منظر دل گرفتہ کن ہے۔ خریدار قیمتیں سن کر حیران و پریشان دکھائی دیتے ہیں اور اکثر لوگ بغیر خریداری کے واپس لوٹنے پر مجبور ہیں۔ مہنگائی کی اس لہر نے سب سے زیادہ دیہاڑی دار مزدور طبقے کو متاثر کیا ہے، جو روزانہ 500 سے 1000 روپے کما کر اپنے اہلِ خانہ کی ضروریات پوری کرتا ہے۔ اب حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ دو وقت کی روٹی کا حصول بھی ایک چیلنج بن گیا ہے۔متعدد سفید پوش اور غریب خاندان افطار اور سحر کے اوقات میں محض کھجور اور پانی پر گزارا کرنے پر مجبور ہیں، جو کہ ایک اسلامی معاشرے کے لیے لمح? فکریہ ہے۔شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ رمضان جیسے بابرکت مہینے میں جہاں ایثار اور ہمدردی کا جذبہ فروغ پانا چاہیے، وہاں منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔دوسری جانب دکاندار حضرات کا مؤقف ہے کہ انہیں اشیائے ضروریہ کراچی اور بڑے بیوپاریوں سے پہلے ہی مہنگے داموں ملتی ہیں، جس کے باعث وہ معمولی منافع رکھ کر اشیاء فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی ٹرانسپورٹ لاگت اور تھوک مارکیٹ کی قیمتوں میں اضافے نے بھی ریٹ متاثر کیے ہیں۔پہلے روزے سے ہی مہنگائی کی اس لہر سے عوامی حلقوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ شہریوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں، سستے بازار قائم کیے جائیں اور غریب بیواؤں، مستحق خاندانوں اور دیہاڑی دار مزدوروں میں مفت راشن تقسیم کیا جائے تاکہ وہ سکون کے ساتھ رمضان المبارک کے روزے رکھ سکیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو مہنگائی کا یہ طوفان مزید سنگین سماجی مسائل کو جنم دے سکتا ہے، جس کے اثرات پورے ضلع لسبیلہ میں محسوس کیے جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں