واشک (رپورٹر) پریس کلب واشک کے زیر اہتمام آرگنائزنگ کمیٹی کا ایک اہم اجلاس سابق آرگنائزر نصیب بلوچ کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں بلوچستان کے صحافیوں کو درپیش سنگین مسائل، حکومتی ناانصافیوں اور اندرون بلوچستان کے میڈیا ورکرز کو مسلسل نظر انداز کیے جانے کے خلاف سخت احتجاج ریکارڈ کرایا گیا اجلاس کے مہمانِ خصوصی پاکستان اتحاد میڈیا کونسل کے صوبائی صدر اور سینئر صحافی گلفام شبیر تھے جبکہ اعزازی مہمان سابق صدر عبدالحق ایجباڑی تھے حکومتی بے حسی اور ناانصافی پر شدید برہمی ظاہر کرتے ہوئے مقررین نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں میں کام کرنے والے صحافی بدترین حالات، دھمکیوں، معاشی مشکلات اور جان کے خطرات کے باوجود اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں لیکن حکومت کی جانب سے انہیں مکمل طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے نہ کوئی مراعاتی پیکیج، نہ انشورنس، نہ تحفظ اور نہ ہی کوئی سرکاری سپورٹ یہ رویہ سراسر ظلم اور استحصال ہے انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک امر ہے کہ حکومت صرف کوئٹہ تک محدود چند افراد کو نواز کر پورے صوبے کے ہزاروں صحافیوں کے حقوق غصب کر رہی ہے اجلاس میں اس بات پر شدید ردعمل دیا گیا کہ بلوچستان یونین آف جرنلسٹس خود کو پورے صوبے کی نمائندہ تنظیم ظاہر کرتی ہے جبکہ حقیقت میں اس کا کردار صرف کوئٹہ تک محدود ہے۔م مقررین نے کہا کہ یہ تنظیم اندرون بلوچستان کے صحافیوں کی نمائندگی کرنے میں مکمل ناکام ہو چکی ہے اور صحافیوں کے حقوق پر قابض ہو کر اجارہ داری قائم کیے ہوئے ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا شرکاء نے اعلان کیا کہ اب اندرون بلوچستان کے صحافی اپنے حقوق کیلئے صوبے میں پاکستان اتحاد میڈیا کونسل کے پلیٹ فارم پہ خود میدان میں آئیں گے اور کسی بھی نام نہاد یا مسلط شدہ نمائندگی کو مسترد کرتے ہیں اجلاس کے اختتام پر متفقہ طور پر پریس کلب کا نیا کابینہ تشکیل دے دیا گیا، جس کے تحت:
سرپرستِ اعلیٰ: گلفام شبیر
چیئرمین: عبدالحق ایجباڑی
وائس چیئرمین: نصیر کبدانی
صدر: عمران بلوچ
سینئر نائب صدر: شیر جان بلوچ
نائب صدر: نصیب بلوچ
جنرل سیکرٹری: حمید بلوچ
انفارمیشن سیکرٹری: سلیم کریم بلوچ
جوائنٹ سیکرٹری: یحییٰ بلوچ
فنانس سیکرٹری: امداد دھیانی
نومنتخب عہدیداران نے اعلان کیا کہ
صحافیوں کے حقوق پر کسی قسم کی سودے بازی نہیں ہوگی اندرون بلوچستان کے صحافیوں کو دیوار سے لگانے کی ہر سازش کا بھرپور مقابلہ کیا جائے گا اگر حکومت نے رویہ نہیں بدلا تو دیگر پریس کلبز کے ساتھ مل کر بھرپور جدوجہد کا راستہ اختیار کیا جائے گا پریس کلب واشک صحافیوں کے حقوق کیلئے ہر فورم پر آواز بلند کرے گا مقررین نے کہا کہ اب خاموشی نہیں، مزاحمت ہوگی ناانصافی کے خلاف منظم جدوجہد ہی ہمارا راستہ ہے۔

