کوئٹہ (این این آئی)امیر جمعیت علمائے اسلام بلوچستان سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ قلات جوہان کے انتخابی معرکے میں جمعیت علمائے اسلام اپنی عوامی مینڈیٹ کا ہر قیمت پر دفاع کرے گی اور کسی کو بھی عوام کے فیصلے پر شب خون مارنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ بات انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہی۔انہوں نے واضح کیا کہ پی بی 36 جمعیت علمائے اسلام کا مضبوط اور تاریخی حلقہ ہے، جہاں بارہا عوامی رائے کو متنازع بنانے اور مینڈیٹ کو مسخ کرنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں، مگر جماعت نے ہمیشہ صبر، استقامت اور آئینی جدوجہد کا راستہ اختیار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ قلات جوہان کے حالیہ انتخاب میں دھاندلی کے امکانات کو روکنے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو باہمی اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک مشترکہ اور اصولی مؤقف اپنانا چاہیے۔ اگر سیاسی میدان کو سیاست دانوں کے لیے کھلا اور شفاف نہیں چھوڑا جائے گا تو اس کا خمیازہ پورا نظامِ سیاست کو بھگتنا پڑے گا۔ سیاست کا میدان بند کمروں کی سازشوں سے نہیں بلکہ عوامی اعتماد سے سجتا ہے، اور یہی جمہوریت کی اصل روح ہے۔مولانا عبدالواسع نے کہا کہ میر سیعد لانگو کی عوامی مقبولیت سے انکار درحقیقت زمینی حقائق سے چشم پوشی کے مترادف ہے۔ عوام کے دلوں میں جگہ بنانے والے رہنماؤں کو مصنوعی طریقوں سے کمزور کرنے کی کوششیں نہ صرف غیر جمہوری ہیں بلکہ یہ طرزِ عمل صوبے میں سیاسی بے چینی کو بھی جنم دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبے کی موجودہ مجموعی صورتحال کا سب سے بڑا سبب“جھرلو انتخابات”کی وہ روش ہے جس نے عوام کے اعتماد کو مجروح کیا اور جمہوری اداروں کو کمزور کیا۔ جب بار بار عوامی فیصلے کو تبدیل کیا جائے تو پھر لوگوں کو جمہوری راستوں کی تلقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اب ہمارے پاس اْن عناصر کو کیا جواب باقی رہ گیا ہے جو یہ مؤقف اختیار کرتے تھے کہ جمہوریت اور ایوان ان کے مسائل کے حل کے لیے مؤثر نہیں؟ بدقسمتی سے ایسے اقدامات نے انہی قوتوں کے بیانیے کو تقویت پہنچائی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ملک و صوبے کو استحکام کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو سب سے پہلے انتخابی عمل کو مکمل شفاف، آزاد اور غیر جانبدار بنانا ہوگا۔ عوامی مینڈیٹ کا احترام ہی سیاسی استحکام اور سماجی ہم آہنگی کی بنیاد ہے۔ جمعیت علمائے اسلام ہر حال میں اپنے ووٹرز کے اعتماد کا تحفظ کرے گی اور آئینی و جمہوری دائرے میں رہتے ہوئے اپنے حق کا دفاع جاری رکھے گی۔

