پیکج (رپورٹ: عابدعلی عمرانی) ضلع بھر میں وزیر اعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر ماہِ صیام کے دوران مستحق اور نادار خاندانوں میں اشیائے خوردونوش پر مشتمل پندرہ روزہ راشن پیکج کی تقسیم کا عمل جاری ہے، تاہم اس حکومتی اقدام پر مبینہ بدانتظامی، شفافیت کے فقدان اور بددیانتی کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں، جس کے باعث مقامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق راشن کی تقسیم کا مقصد مہنگائی اور بے روزگاری کے ستائے ہوئے غریب، مزدور، معذور اور سفید پوش طبقے کو رمضان المبارک میں فوری ریلیف فراہم کرنا ہے۔ انتظامی سربراہ کا مؤقف ہے کہ حکومت کی واضح ہدایت ہے کہ امدادی سامان ہر صورت حق داروں تک پہنچایا جائے اور اس ضمن میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق ڈپٹی کمشنر نے راشن کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے بلدیاتی نمائندوں، چیئرمینوں اور کونسلرز کو اس عمل میں شامل کرنے کی تجویز دی ہے تاکہ مقامی سطح پر مستحقین کی درست نشاندہی ممکن بنائی جا سکے۔ تاہم سول سوسائٹی اور مختلف سماجی حلقوں نے اس تجویز پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ محدود مقدار میں دستیاب راشن کی تقسیم اگر شفاف اور منظم طریقے سے نہ ہوئی تو اس سے تنازعات جنم لے سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ ضلع حالیہ برسوں میں تین سے چار مرتبہ شدید سیلابی تباہ کاریوں کا سامنا کر چکا ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں خاندان بے گھر اور لاکھوں افراد معاشی طور پر متاثر ہوئے۔ ایسے میں صرف چار سے پانچ ہزار گھرانوں تک ایک سے دو ہفتوں کے راشن کی فراہمی کو بعض حلقے ناکافی قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب متاثرین کی تعداد لاکھوں میں ہو تو محدود پیمانے پر تقسیم کیا جانے والا راشن اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے۔
متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر تقسیم کا واضح اور شفاف میکنزم وضع نہ کیا گیا تو مستحقین کے بجائے بااثر افراد فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ بعض علاقوں سے یہ شکایات بھی سامنے آئی ہیں کہ راشن کی مبینہ بندر بانٹ کی جا رہی ہے، جبکہ سندھ کے ملحقہ اضلاع میں امدادی سامان کی فروخت سے متعلق اطلاعات بھی گردش کر رہی ہیں۔ تاہم ضلعی انتظامیہ نے ان الزامات کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
سماجی رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور پر راشن پیکج کا دائرہ کار وسیع کرے، مستحقین کی تعداد میں اضافہ کرے اور تقسیم کے عمل کی نگرانی کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنائے۔ ان کا کہنا ہے کہ آبادی اور متاثرین کے تناسب سے امدادی سامان میں اضافہ ناگزیر ہے تاکہ حقیقی مستحقین کو ریلیف مل سکے اور کسی قسم کی بدامنی یا بداعتمادی کی فضا پیدا نہ ہو۔
ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ راشن کی تقسیم کا عمل مکمل شفافیت کے ساتھ جاری رکھا جائے گا اور کسی بھی بے ضابطگی کی شکایت پر فوری کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے نہ صرف فوری ریلیف اقدامات کو مؤثر بنائے بلکہ طویل المدتی بنیادوں پر متاثرہ آبادی کی بحالی اور معاشی استحکام کے لیے جامع منصوبہ بندی بھی کرے تاکہ آئندہ ایسے بحرانوں میں عوام کو کم سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔

