اسلام آباد:
ہائی کورٹ نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کے اپارٹمنٹ مالکان کی بے دخلی سے متعلق بڑا حکم جاری کردیا۔
ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کے سب لیز ہولڈر اپارٹمنٹ مالکان کی انٹراکورٹ اپیلوں پر سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محمد اعظم خان اور جسٹس انعام امین منہاس نے کی۔
یہ اپیلیں سابق ایئر چیف مجاہد انور خان، سابق صدر آئی سی سی احسان مانی اور سابق چیئرمین سینیٹ وسیم سجاد سمیت دیگر کی جانب سے دائر کی گئی تھیں، جن میں اپیل کنندگان نے تھرڈ پارٹی رائٹس کے تحفظ کے لیے سنگل بینچ کے پیراگراف 30 کو چیلنج کر رکھا ہے ۔
اپیل کنندگان کی جانب سے تیمور اسلم اور علی رضا ایڈووکیٹ جبکہ سی ڈی اے کی جانب سے کاشف علی ملک ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔
دوران سماعت سی ڈی اے کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ چیئرمین سی ڈی اے بیرون ملک تھے، کل ہی واپس آئے ہیں۔ اس کے باجود میں نے اس حوالے سے جواب جمع کرایا ہے ۔
جسٹس انعام امین منہاس نے کہا کہ مکمل کیس تو بعد میں سنیں گے، اسٹے کی حد تک ان کی درخواست ہم نے آج دیکھنی ہے، جس پر سی ڈی اے کے وکیل نے کہا کہ ہمارا مؤقف ہے کہ یہ اپیلیں قابل سماعت نہیں ہیں۔
جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ جب یہ معاملہ سپریم کورٹ میں تھا تو کیا ان اپارٹمنٹ مالکان کے معاملے کو دیکھا گیا تھا ؟ انہوں نے جس آرڈر کو چیلنج کیا ہے اس کے مطابق بھی ان کا رائٹ تو موجود ہے ۔
وکیل کاشف ملک نے کہا کہ اس پیراگراف کے ساتھ ساتھ سنگل بینچ کا مکمل فیصلہ پڑھنا پڑے گا۔ اس موقع پر عدالت کی ہدایت پر اپارٹمنٹ مالکان سے متعلق فیصلے کا پیراگراف پڑھا گیا ۔
جسٹس انعام امین منہاس نے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ نے ایڈمنسٹریٹر کب تعینات کیا ؟ جس پر اپیل کنندگان کے وکیل علی رضا نے بتایا کہ 12 مارچ 2023 کو سی ڈی اے نے ایڈمنسٹریٹر تعینات کیا تھا ۔
وکیل سردار تیمور اسلم نے مؤقف اختیار کیا کہ سی ڈی اے بورڈ کی ہدایات کے لیے سی ڈی اے نے آج تک وقت مانگا تھا ۔ ان کے بقول چیئرمین سی ڈی اے پی بیرون ملک تھے بورڈ میٹنگ کا معاملہ تو بعد کا ہے ۔ ریزیڈنس کمیٹی بنائی گئی تھی جو بلڈنگ چلا رہی تھی ۔ ہماری گزارش صرف اتنی ہے کہ سی ڈی اے کو تو مسئلہ ہی نہیں ہونا چاہیے ۔
وکیل کے مطابق وزیر اعظم نے بھی کمیٹی بنائی ہوئی ہے، ان کی سفارشات آنی ہے، کابینہ سے منظوری ہونی ہے۔ پھر وہ معاملہ سی ڈی اے بورڈ میں جانا ہے ۔ کیا یہ چاہتے ہیں کہ عید کے دنوں میں انہوں نے قبضہ لینا ہے؟۔
وکیل علی رضا نے مؤقف اختیار کیا کہ سی ڈی اے مالکان کے رائٹس کو اس سے قبل سی ڈی اے مان چکا ہے ۔ 15 یا 18 فیصد لیز کی رقم بھی سی ڈی اے وصول کر چکا ہے ۔
جسٹس انعام امین منہاس نے پوچھا کہ جو لوگ اس بلڈنگ میں داخل ہوئے آپ نے ان کو recognise کیوں کیا ؟ اسی طرح جسٹس اعظم خان نے استفسار کیا کہ کیا اس بلڈنگ کو مکمل کرنے کا سرٹیفکیٹ ملا تھا ؟
سی ڈی اے وکیل نے جواب دیا کہ ابھی تک اس بلڈنگ کو مکمل ہونے کا سرٹیفکیٹ نہیں ملا ۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ کیا سی ڈی اے سو رہا تھا جب مکمل کرنے کا سرٹیفکیٹ بھی نہیں ملا تھا اور رہائشیوں نے وہاں رہنا شروع کر دیا ؟۔ جسٹس انعام امین منہاس نے کہا کہ اگر بی این پی سنگل بینچ کے فیصلے کے خلاف اپیل نہیں کرتا تو کیا ان کا کوئی رائٹ نہیں ہو گا ؟۔
وکیل سی ڈی اے کاشف ملک نے مؤق اختیار کیا کہ قانون کا کیس ہے، ان کی اپیلیں قابل سماعت نہیں ہیں ۔
بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو اپارٹمنٹ مالکان کو بے دخلی سے روکنے کا فیصلہ کرتے ہوئے حکم دیا کہ تاحکم ثانی اپارٹمنٹ مالکان کو بے دخل نہ کیا جائے۔

