بلوچستان حکومت بجٹ کو صرف اعداد و شمار تک محدود رکھنے کے بجائے عوامی فلاح و بہبود کا حقیقی ذریعہ بنائے، سینیٹر محمد عبدالقادر

کوئٹہ(این این آئی) چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ بلوچستان حکومت کی جانب سے مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش کیا جا رہا ہے، جس سے صوبے کے عوام کو بے حد توقعات وابستہ ہیں۔ ملک کے سب سے بڑے مگر پسماندہ صوبے کے عوام مہنگائی، بے روزگاری، بنیادی سہولیات کی کمی اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں ضروری ہے کہ بجٹ کو صرف اعداد و شمار تک محدود رکھنے کے بجائے عوامی فلاح و بہبود کا حقیقی ذریعہ بنایا جائے بجٹ میں غریب، مزدور، کسان اور کم آمدنی والے طبقے کو خصوصی ریلیف فراہم کرنے کیلئے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔ حکومت آٹا، چینی، گھی اور دیگر ضروری اشیائے خورونوش پر سبسڈی کا اعلان کرے تاکہ مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام کو کچھ سہارا مل سکے۔ اسی طرح پٹرولیم مصنوعات، بجلی اور گیس کے نرخوں میں ممکنہ ریلیف کیلئے صوبائی سطح پر قابل عمل پالیسی مرتب کی جائے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ تعلیم اور صحت کے شعبوں کو بجٹ میں اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں آج بھی معیاری اسکولوں، کالجوں، اسپتالوں اور طبی سہولیات کی شدید کمی ہے۔ اگر ان شعبوں کیلئے خاطر خواہ فنڈز مختص کیے جائیں تو نہ صرف انسانی ترقی کے اشاریوں میں بہتری آئے گی بلکہ صوبے کے نوجوانوں کو بہتر مستقبل بھی میسر آسکے گا۔انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے کی ترقی بلوچستان کی معاشی خوشحالی کی بنیاد بن سکتی ہے۔ خصوصاً چھوٹے کسانوں کو زراعت اور گلہ بانی کیلئے بلا سود قرضے، جدید زرعی آلات، معیاری بیج اور آبپاشی کی بہتر سہولیات فراہم کی جائیں۔ اسی طرح صنعتی شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی، صنعتی زونز کے قیام اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں کی سرپرستی سے روزگار کے ہزاروں نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبے کے شہریوں خصوصاً نوجوانوں اور خواتین کے لیے بلا سود قرضوں کی اسکیمیں متعارف کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس سے خود روزگار کے مواقع بڑھیں گے، غربت میں کمی آئے گی اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ پسے ہوئے اور کمزور طبقات پر کسی نئے ٹیکس کا بوجھ نہ ڈالا جائے کیونکہ وہ پہلے ہی مہنگائی اور معاشی دباؤ سے شدید متاثر ہیں۔چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار نے مزید کہا ہے کہ غربت، بے روزگاری اور محرومیوں کا خاتمہ دہشت گردی اور بدامنی کے خلاف طویل المدتی حکمت عملی کا اہم جزو ہے۔ جب نوجوانوں کو تعلیم، روزگار اور کاروبار کے مواقع میسر آئیں گے تو انتہا پسندی اور جرائم کے رجحانات میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔ بلوچستان کا بجٹ 2026-27 عوام دوست, غریب پرور، ترقی پسند اور فلاحی ہونا چاہیے۔ حکومت تعلیم، صحت، زراعت، صنعت، توانائی اور سماجی تحفظ کے شعبوں پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے غریب عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ بجٹ صوبے کی معاشی ترقی، غربت کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کی جانب اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں