آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے بُرہان مظفر وانی کی 10ویں برسی کے موقع پر ’’بُرہان وانی۔۔ایک تحریک ،ایک سنگ میل‘‘ کے عنوان سے تقریب کا انعقاد

کراچی (رپورٹر) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے بُرہان مظفر وانی کی 10ویں برسی کے موقع پر ’’بُرہان وانی۔۔ایک تحریک ،ایک سنگ میل‘‘ کے عنوان سے تقریب کا انعقاد حسینہ معین ہال میں کیا گیا جس میں آل پاکستان پارٹیز حریت کانفرنس، جموں و کشمیر کے کنوینر غلام محمد صفی، مہمان خصوصی شرمیلا فاروقی، حریت رہنما شیخ عبدالمتین، سردار صغیر احمد ایڈووکیٹ، تجزیہ نگار سردار نزاکت خان، ایڈووکیٹ پرویز شاہ نے اظہار خیال کیا جبکہ نظامت کے فرائض بشیر سدوزئی نے انجام دیے، تقریب میں سیاسی رہنماؤں سمیت بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر غلام محمد صفی نے اظہارِ خیال میں کہا کہ بھارت کی خارجہ پالیسی اور اس کے توسیع پسندانہ عزائم کو سمجھنا ناگزیر ہے، بھارت نے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ مختلف ادوار میں تنازعات کو جنم دیا اور خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کی، قائداعظم محمد علی جناح نے کہا تھا ’’کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے‘‘ ، برہان مظفر وانی اور کشمیری عوام نے یہ حقیقت سمجھ لی تھی کہ آزادی کی جدوجہد صرف عسکری، سفارتی یا سیاسی محاذ تک محدود نہیں بلکہ سوشل میڈیا بھی ایک مؤثر محاذ بن چکا ہے۔ برہان وانی نے سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا کے سامنے کشمیر کی صورتحال اور بھارتی اقدامات کو اجاگر کیا، جس سے عالمی رائے عامہ پر بھی اثر پڑا۔ کشمیری عوام اور پاکستان کے درمیان کسی قسم کا تنازع نہیں۔ مہمان خصوصی سیاسی رہنما شرمیلا فاروقی نے کہا کہ کشمیر کا فیصلہ کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور سے لے کر آج تک جب بھی پاکستان پیپلز پارٹی کو موقع ملا، اس نے ہر قومی اور بین الاقوامی فورم پر کشمیر کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کیا۔شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اقوامِ متحدہ میں جس جرات اور استدلال کے ساتھ کشمیر کا مقدمہ لڑا، وہ تاریخ کا اہم باب ہے۔ بعد ازاں محترمہ بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری نے بھی اسی عزم کے ساتھ کشمیری عوام کی آواز عالمی سطح پر بلند کی۔ حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے بعد بلاول بھٹو زرداری نے مختلف ممالک کے دوروں کے دوران کشمیر کا مقدمہ مؤثر انداز میں دنیا کے سامنے رکھا، جس کے نتیجے میں مسئلہ کشمیر ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا۔انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر صرف زمین کا تنازع نہیں بلکہ لاکھوں انسانوں کی شناخت، انصاف اور حقِ خودارادیت کا مسئلہ ہے۔ تحریکیں کبھی نہیں تھکتیں اور ہر دور میں نوجوان اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر انہیں نئی قوت بخشتے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں نوجوانوں کو پیلٹ گنز سے بینائی سے محروم کیا گیا، ہزاروں افراد گرفتار ہوئے۔ بے شمار خاندان اپنے پیاروں کی جدائی اور گمشدگی کا کرب سہہ رہے ہیں، مگر اس کے باوجود کشمیری عوام کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔چین، ترکیہ، آذربائیجان سمیت کئی دوست ممالک نے کشمیر کے معاملے پر پاکستان کے مؤقف کی حمایت کی،کشمیری عوام کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی۔ ماؤں کی دعائیں، یتیم بچوں کی آہیں اور شہداء کا لہو ایک دن ضرور رنگ لائے گا اور کشمیری عوام کو ان کا جائز حق ملے گا۔برہان وانی جیسے نوجوان تحریکِ آزادیٔ کشمیر کی علامت بن چکے ہیں اور آنے والی نسلیں بھی اس جدوجہد کو جاری رکھیں گی۔ پاکستان پیپلز پارٹی ہر مرحلے پر کشمیری عوام کے شانہ بشانہ کھڑی رہے گی، آخر میں شرمیلا فاروقی نے ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کا نعرہ بھی لگایا۔ حریت رہنما شیخ عبدالمتین نےکہا کہ برہان مظفر وانی کشمیری عوام کے ہیرو ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا کو مؤثر انداز میں استعمال کرتے ہوئے نہ صرف بھارت بلکہ پوری دنیا تک یہ پیغام پہنچایا کہ کشمیری کس مقصد کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ کشمیریوں کی جدوجہد حق پر مبنی ہے۔ جموں و کشمیر کے عوام کے مستقبل کا فیصلہ ابھی ہونا باقی ہے، 8جولائی کو شہید برہان وانی کی برسی کے موقع پر آرٹس کونسل سے پریس کلب تک ریلی نکالی جائے گی، کراچی میں مقیم پاکستانی عوام، بالخصوص میڈیا نمائندگان سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ حریت کانفرنس کی ریلی میں شرکت کریں ۔تجزیہ نگار سردار نزاکت نے کہاکہ برہان مظفر وانی کی سوشل میڈیا مہم کے بعد نہ صرف ریاست جموں و کشمیر بلکہ پوری دنیا میں آزادی کی تحریکوں سے وابستہ افراد، خصوصاً نوجوانوں کے لیے آج بھی مشعلِ راہ ہے، کشمیری، خواہ ہمارا تعلق مقبوضہ کشمیر سے ہو یا آزاد کشمیر سے، پاکستان سے ایک مضبوط اور واضح موقف چاہتے ہیں۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ ہم کشمیر کے لیے ہزار سال تک جنگ لڑیں گے، محترمہ بے نظیر بھٹو نے بطور وزیراعظم مظفرآباد کے دورے کے موقع پر کہا تھا کہ’’جہاں کشمیریوں کا پسینہ گرے گا، وہاں پاکستانیوں کا خون بہے گا۔” یہی وہ کمٹمنٹ تھی جس کی وجہ سے کشمیری عوام یہ نعرہ لگاتے تھے کہ “ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے۔‘‘ ریاست ایک ماں کی مانند ہوتی ہے، جو اپنے ہر بچے سے یکساں محبت کرتی ہے مگر بیشتر وفاقی وزراء ایسے بیانات دے رہے ہیں جو جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہیں۔ایڈووکیٹ پرویز شاہ نے کہاکہ تحریکِ آزادیٔ کشمیر میں بے شمار عظیم رہنما گزرے، جنہوں نے لازوال قربانیاں دیں لیکن نوجوان قیادت کے حوالے سے جو خلا موجود تھا، اسے شہید برہان مظفر وانی نے پُر کیا۔ دنیا نے دیکھا کہ برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد ہزاروں برہان مظفر وانی پیدا ہو گئے۔سردار صغیر احمد ایڈووکیٹ نےکہا کہ آج بھی لوگ مقبوضہ کشمیر میں کالی کوٹھڑی میں زندگی گزار رہے ہیں، ہمیں برہان وانی کے مشن کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں