پی ٹی آئی کی بلوچستان پر آل پارٹیز کانفرنس، سیاسی جماعتوں کا بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کا مطالبہ

اسلام آباد: تحریک انصاف کے زیر اہتمام بلوچستان پر آل پارٹیز کانفرنس ہوئی جس میں تمام سیاسی جماعتوں نے بلوچستان میں طاقت کا استعمال ترک کرکے بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے، لاپتا افراد کی بازیابی، شفاف انتخابات، مقامی افراد میں وسائل کی تقسیم کے مطالبات پیش کردیے۔
پاکستان تحریک انصاف بلوچستان کے زیر اہتمام بلوچستان کے حالات پر آل پارٹیز کانفرنس خیبرپختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں ہوئی۔ جس کی صدارت اختر خان مینگل نے کی۔

کانفرنس میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سمیت بلوچستان کی نمائندہ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، اختر خان مینگل، جے یو آئی کے صلاح الدین، شاہد خاقان عباسی، اسد قیصر، مصطفیٰ نواز کھوکھر، محسن داوڑ، مولانا شاکر، جان محمد بلیدی، اصغر جان اچکزئی اور دیگر نے شرکت کی۔

جماعت اسلامی کے رہنما مولانا شاکر نے اظہار خیال کیا کہ بلوچستان میں یتیموں، بیواؤں اور قبرستانوں میں اضافہ ہورہا ہے، غربت اور بے روزگاری کی وجہ سے نوجوان ڈاکو بن رہے ہیں، وہاں جموں کشمیر اور غزہ سے بھی بدتر حالات ہیں، بلوچستان میں دہشت گردی اور لاقانونیت انتہا پر ہے، وسائل ہیں لیکن مسائل بے تحاشا ہیں، لاپتا افراد کو بازیاب کرایا جائے، اس وقت حقیقی قیادت نہیں ہے جعلی قیادت ہے۔

کہا گیا چمن بارڈر سے دہشتگردی آرہی ہے، اب بارڈر بند ہے تو دہشتگردی مزید بڑھ گئی، جے یو آئی

رہنما جے یو آئی مولانا صلاح الدین ایوبی نے کہا کہ ملک میں کوئی جمہوریت نہیں، سرمایہ دارانہ نظام بغیر جمہوریت کے وسائل پر قبضہ چاہتا ہے، ہم بھی اسی نظام کے ملازم ہیں، اب اسی مقصد کے لیے دہشت گردی اور اسمگلنگ کا نام دیا جاتا ہے، چمن بارڈر 2 سال سے بند ہے اور کہا گیا کہ دہشت گردی اور اسمگلنگ آرہی ہے، اب چمن بارڈر بند ہے دہشت گردی پہلے سے کئی گنا بڑھ گئی ہے، ہم افغانستان کو 20 فیصد نقصان پہنچاتے ہیں تو ہمیں 80 فیصد نقصان ہوتا ہے، افغانستان کے بارڈرز کی بندش سے پاکستانی تاجروں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

اسلام آباد والے بلوچستان کو سنجیدہ نہیں لیتے اسے مسئلہ سمجھتے ہی نہیں، جان محمد بلیدی

نیشنل پارٹی کے سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا کہ طویل جنگوں کے قصے کہانیاں اچھی نہیں لگتیں، بلوچستان کے موضوع پر پی ٹی آئی نے کانفرنس بلا کر ہمت کی ہے، اس وقت بڑی ملکی سیاسی قیادت بلوچستان سے ہے، مولانا فضل الرحمن، محمود اچکزئی، ایمل ولی خان بلوچستان سے ہیں، ہر مشکل وقت میں بلوچ سیاسی قیادت نے ہراول دستے کا کردار ادا کیا، پی ٹی آئی حکومت گرانے میں یہی بلوچستان کی قیادت پیش پیش تھی، اس وقت پہلا مطالبہ یہی تھا کہ انتخابی عمل سے ریاستی اداروں کا کردار ختم ہو، جب یہ بڑی جماعتیں اقتدار میں آجاتی ہیں تو وعدوں کو نظر انداز کرتے ہیں۔

جان محمد بلیدی نے کہا کہ بلوچستان کی سیٹوں کی تعداد 16 ہے، 16 سیٹیں کیا مدد کرسکتی ہیں؟ اس نظام میں ہماری ساکھ بہت کمزور ہے، سینیٹ سی سی آئی، صدارتی انتخاب میں سب برابر ہیں مگر رویے الگ ہیں، این ایف سی، سی سی آئی میں نہیں جاتیں پارلیمان کا احترام نہیں کرتے، آئین پر عمل داری نہیں کرتے، بلوچستان کا مسئلہ آج کا نہیں دیرینہ ہے، اسلام آباد بلوچستان کو سنجیدہ نہیں لیتے اسے مسئلہ سمجھتے ہی نہیں، اسلام آباد میں بیٹھے لوگ اسے سیکیورٹی مسئلہ سمجھتے ہیں، بلوچستان ایک سنجیدہ سیاسی مسئلہ ہے، بلوچستان کا حل سیکیورٹی نہیں بلکہ اور ہے، بیماری جسم کے کسی بھی حصے میں دیگر حصے ٹھیک نہیں رہ سکتے، بلوچستان کے مسائل پر سنجیدہ ہونا پڑے گا۔

پورا ہلمند اس وقت بلوچستان میں بیٹھا ہے اور افیم کی فصل والوں کو پشت پناہی دی جارہی ہے، اے این پی

عوامی نیشنل پارٹی بلوچستان کے صدر اصغر خان اچکزئی نے کہا کہ جب ملک ٹوٹا تو ہم چھوٹی قومیتوں کے لوگ شیخ مجیب سے پاکستان جوڑنے کی بات کر رہے تھے، ایک لوکل کونسلر سے لے کر قومی اسمبلی تک وفاداری کا حلف اٹھاتے ہیں، بلوچستان میں دو دھرنے چل رہے ہیں لاشیں سامنے پڑی ہیں، عجیب و غریب قوت ہے جسے کبھی فتنۃ الخوارج کبھی فتنہ الہند کا نام دیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وسائل لوٹنے کے لیے دہشت گردی پیدا کی جاتی ہے، آئین پاکستان کا حلیہ محکوم عوام کے وسائل تک پہنچنے کے لیے بگاڑا جا رہا ہے، آج بلوچستان کے موجودہ مسائل پر کہیں بات نہیں کرسکتے، بلوچستان کی واحد اسمبلی ہے جہاں سب کے سب ایک پیج پر ہیں، بجٹ سے لے کر قانون سازی تک بلوچستان اسمبلی سچ ایک پیچ پر ہے، ڈپٹی کمشنر کے لئے اضلاع میں ایک ایک ارب روپے رکھے گئے ہیں، بلوچستان اسمبلی میں دہشت گردی اور جرائم پر بات نہیں ہو سکتی، دس جولائی کا نوٹی فکیشن جاری ہوا کہ افغان کو یہاں سے نکالنا ہے، ایک شریف افغان یہاں کاروبار یا روزگار نہیں کر سکتا، پورا ہلمند اس وقت بلوچستان میں بیٹھا ہے اور افیم کی فصل والوں کو پشت پناہی دی گئی ہے۔

افغانستان میں جن طالبان کی حکومت ہے وہ پاکستان میں ابھی تک پروٹوکول لیتے ہیں، محسن داوڑ

نیشنل ڈیمو کریٹک موومنٹ کے رہنما محسن داوڑ نے کہا کہ نگران حکومتیں آتی ہیں تو وہ بھی بلوچستان کی معدنیات کو فروخت کر جاتی ہیں، افغانستان کے ساتھ بارڈر بند ہے کاروبار کے راستے بند ہیں آج کل پورے ریجن میں ایک ہی پالیسی اپنائی جا رہی ہے کہ لوگ تشدد پر اتر آئیں، ہماری اسٹیبلشمنٹ پراکسی کی جنگ لڑنے کو تیار ہے، افغانستان میں جن طالبان کی حکومت ہے وہ لوگ پاکستان میں ابھی تک پروٹوکول لیتے ہیں، پاکستان کی جتنی بھی کارروائیاں ہوئی ہیں ان میں طالبان کا کوئی ایک بھی اہم بندہ نہیں مارا گیا، پاکستان کے حملوں سے افغان حکومت مضبوط ہوئی ہے انہیں عوامی حمایت حاصل ہوئی ہے۔

محسن داوڑ نے کہا کہ پورے ڈی آئی خان میں دہشت گردوں کا کنٹرول ہے لیکن وہ پنجاب میں داخل نہیں ہوتے، خیبر پختونخوا کی حکومت بھی وہاں کی بد امنی میں برابر کی شریک ہے، خیبر پختونخوا میں حالات بلوچستان سے بھی زیادہ خراب ہیں، وہاں جو امن جرگہ ہوا اس کے اوپر عمل درآمد آج تک نہیں ہو سکا، جتنے بھی بلوچستان کے سیاسی قیدی ہیں ان کو رہا کیا جائے۔

آئین کو تباہ کردیا گیا ہے بلوچستان میں ریاستی رٹ ختم ہورہی ہے، مصطفیٰ نواز کھوکھر

مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ سیاست فیل ہوتی جارہی ہے آئین کو تباہ کردیا گیا ہے، بلوچستان میں ریاستی رٹ ختم ہورہی ہے، بلوچستان کے حالات کو اس نہج تک پہنچانے میں سب کا کردار ہے، منشیات کی خرید و فرخت، کانفلکٹ انکانومی عروج پر ہے، اس صورتحال پر اب بھی ہم اکھٹے بیٹھ کر حل نہیں نکالتے تو واپسی ناممکن ہوگی، اس صدی میں سب سے خطرناک چیز یہ ہے کہ ریاستیں اندر سے پھٹ گئیں، اندر سے پھٹنے کی تپش بہت زیادہ ہوتی ہے، سیریا، لیبیا اور یمن کو دیکھیں ہم کیوں سبق نہیں سیکھ رہے؟ یہ سب ممالک اندر سے پھٹے اور وہاں تباہی ہی تباہی ہے ہم بھی اس نہج پر پہنچ گئے ہیں خدارا ہوش کے ناخن لیں۔

انہوں نے کہا کہ اقتدار کے لمحوں کے لیے لوگوں نے ضمیر بیچے، خطرے کی گھنٹی بج رہی ہے، فیصلہ ساز اسے سن نہیں رہے، بلوچستان کے مسائل کا حل کسی کے پاس نہیں، ہم مسائل کے حل کی جانب سفر شروع کرنا چاہتے ہیں اور اس کی ابتدا صاف شفاف انتخابات سے ہوگی، ہمارا بلوچستان سے متعلق انتخابی اسٹرکچر بنایا ہی ایسا گیا ہے کہ کوئی بلوچستان کی 17 نشستوں پر توجہ ہی نہیں کرتا اس کے بجائے کراچی، لاہور اور فیصل آباد پر زور لگایا جاتا ہے، فارمولا بہتر کرنا ہوگا مین اسٹریم سیاسی جماعتوں کو بھی اپنی ترجیحات بدلنا ہوں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں