بیجنگ/برسلز: چین اور یورپی یونین نے آبنائے ہرمز میں آزاد، محفوظ اور بلا رکاوٹ بحری آمدورفت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس اہم عالمی بحری گزرگاہ میں کشیدگی کا خاتمہ اور معمول کی صورتحال کی بحالی عالمی مفاد میں ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لن جیان نے بیجنگ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی جہاز رانی کی ایک اہم آبی گزرگاہ ہے، اس لیے یہاں آزاد اور محفوظ نقل و حمل کی بحالی تمام ممالک کے مفاد میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس حساس معاملے کو ذمہ داری اور احتیاط کے ساتھ حل کیا جانا چاہیے تاکہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل متاثر نہ ہو۔
چینی ترجمان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے سفیر نے بیجنگ میں کہا تھا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر نئی فیسیں عائد کی جائیں گی، تاہم چین اور دیگر دوست ممالک کو خصوصی رعایت دی جائے گی۔
دوسری جانب یورپی کمیشن کی نائب صدر کایا کالاس نے کہا ہے کہ یورپی یونین کے وزرائے خارجہ جلد خلیجی ممالک کے نمائندوں سے ملاقات کریں گے تاکہ خطے کی سکیورٹی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان عبوری معاہدہ بظاہر مؤثر ثابت نہیں ہو رہا اس لیے یورپی یونین اس بات پر زور دے گی کہ آبنائے ہرمز میں سابقہ معمول کی صورتحال بحال کی جائے۔
کایا کالاس نے واضح کیا کہ بین الاقوامی جہاز رانی کی آزادی کا ہر صورت احترام ہونا چاہیے اور اس اہم بحری راستے پر کسی قسم کے ٹول ٹیکس یا اضافی فیس عائد نہیں کی جانی چاہیے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شامل ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور گیس کی بڑی مقدار مختلف ممالک کو منتقل کی جاتی ہے۔ اس لیے اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا اضافی پابندی عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور سمندری تجارت پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

