منی پور میں نسلی فسادات کی نئی لہر، مودی سرکار حالات پر قابو پانے میں بری طرح ناکام

بھارتی ریاست منی پورمیں نسلی فسادات کی نئی لہر جاری ہے، جہاں مودی سرکارحالات پرقابوپانےمیں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔

ہندو انتہا پسند تنظیم بی جے پی کے کٹھ پتلی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کی یک طرفہ اور ناکام پالیسیوں نے منی پورکو آگ میں جھونک دیا ہے، جس کے نتیجے میں وہاں نسلی فسادات شدت اختیارکرگئے ہیں۔

بھارت کااپنا جریدہ دی اسٹیٹ مین منی پورمیں اٹھنےوالے نئے فسادات کی تفصیلات سامنے لے آیا، جس میں بتایا گیا ہے کہ بھارتی ریاست منی پورکے ضلع امپھال کےجنوبی علاقے میں متعدد مکانات کو آگ لگادی گئی ہے۔

بھارتی جریدے کے مطابق نسلی فسادات کے دوران گھروں کو آگ لگانےاوربڑھتی کشیدگی نے منی پورکےامن کو پھرخطرے میں ڈال دیا۔ واقعے کے فوری بعد علاقے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظرسیکیورٹی فورسز کی بڑی تعداد تعینات کر دی گئی ہے۔

دی اسٹیٹ مین کےمطابق واقعےمیں ملوث ہونے پر ہینگ جنگ گاؤں کے سربراہ سمیت 2 افرادکو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

بھارتی انسانی حقوق کی کارکن نندتا ہاکسر نے منی پور کی صورتحال پر مودی سرکار کوآڑے ہاتھوں لیتے ہوئےکہا ہے کہ مودی سرکار منی پورمیں پرتشدد واقعات کی اصل وجوہات چھپانے کے لیے غیر ملکی مداخلت کےالزام کو جوازبنا رہی ہے۔

حالیہ فسادات کے واقعات سےثابت ہوتا ہےکہ مودی سرکارمنی پور میں امن وامان برقراررکھنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں