یادوں کے جھروکوں سے

زیر نظر تصویر ایک عہد کی نمائندگی کرتی ہے ۔جو بی ایس او کی ستر اور اسی کی دہائی کی تنظیمی اور سیاسی جدوجھد کا پیداوار ہے لیکن جب یہ لاٹ بے منزل مسافر بن گئے تو بی ایس او دو حصوں میں تقسیم ہوگئی ۔ایک طرف رازق بگٹی،حبیب جالب اور ڈاکٹر کہور خان اور ان کے ھم خیال دوست تھے تو دوسری طرف ڈاکٹر عبدالحی،منظور احمد گچکی،ایوب جتک،ڈاکٹر یاسین،اسلم جان گچکی،وحید بلوچ،مولا بخش،فدا احمد،اور ان کے ھم خیال ساتھی تھے۔
آج ان میں سے بیشتر اس دارفانی سے کوچ کر گئے ہیں ۔لیکن بی ایس او کی تقسیم سے جو گہرے زخم بلوچ قومی تحریک کو ملے ہیں وہ ابھی تک مندمل نہیں ہوسکے ہیں۔بلوچ نے بہت خوب کہا ہے کہ
سال رو انت بلے گال اوشت انت
اس تصویر ہمیں اپنے سیاسی کردار کےجائزہ کا مطالبہ کرتی ہے۔کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کل کلاں ہیمیں بھی اسی طرح گمنامی کے ساتھ کسی اور لقب۔۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں