کوئٹہ (این این آئی)بلوچستان نیشنل پارٹی مرکزی بیان میں کہا گیا ہے کہ فارم 47کے حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے آج بلوچستان کے ہر طبقہ فکر بیروزگاری، معاشی تنگ دستی و مسائل سے دوچارہے موجودہ بجٹ لفظوں کے ہیرپھیر کے سوا کچھ نہیں جسے خود کیلئے پیش کیا گیا ہے ہزاروں کی تعداد میں آسامیوں کو ختم کرنا، بارڈرز پر پابندیاں بلوچستانی عوام کے معاشی قتل کے مترادف ہے حکمران سب کچھ بہتر کی رٹ لگا رہے ہیں جو لفاظی اور جھوٹ پر مبنی ہیں سیاسی اسیران کا پابند سلاسل ہونا، ہزاروں آسامیوں کو ختم کرنا،بارڈرز بندش، عوام کا معاشی قتل عام ہی حکومتی کارکردگی ہے آئے روز بلوچستان کے مختلف علاقوں میں چادر و چار دیواری کی پامالی جاری ہے، بلوچ سیاسی اسیران پابند سلاسل ہیں بلوچ مسئلے کو ہر دور میں طاقت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے بلوچستان میں پانچواں آپریشن ہنوز جاری ہے طاقت، مظالم، ماورائے آئین قتل و غارت گری، گرفتاریاں کسی مسئلے کا حل نہیں اگر مسائل ایسے حل ہوتے تو مشرف دور سے ہنوز حالات مزید گھمیبر نہیں ہوتے رہتے بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالی کے ساتھ ساتھ اب عوام کو نان شبیہ کا محتاج بنایا جا رہا ہے تجارتی سرگرمیاں ماند پڑچکی ہیں زراعت، گلہ بانی سمیت دیگر شعبے ختم ہونے کے دہانے پر ہیں بلوچ پشتون و بلوچستانی عوام جو دو وقت کی روٹی کمانے رہتے تھے انہیں بھی نان شینہ کا محتاج بنا دیا گیا ہے فارم 47کے حکمرانوں کی سرگرمیاں صرف سوشل میڈیا تک محدود ہیں بیان میں کہاگیا ہے کہ بی این پی جیسے قومی جمہوری پارٹی کے خلاف بھی اقدامات کئے جا رہے ہیں تاکہ جمہوری راہ میں روڑے اٹکائے جائیں حکمران بی این پی کے ساتھ ذاتیات پر اتر آئے ہیں اخباری مدیران پر پارٹی بیانات شامل اشاعت نہ کر کے آزادی اظہار رائے پر قدغن لگا رہے ہیں بیان میں کہا گیا کہ قومی تحریکیں کسی بھی فرد یا اخبار کے تابع نہیں ہوا کریں پارٹی اپنی جدوجہد کو غیر متزلزل انداز میں جاری رکھے گی قومی تحریک حکمرانوں کی طرح کسی اخبار کی محتاج نہیں بلکہ پارٹی اپنی جدوجہد کو مزید وسعت دے گی –

