کوئٹہ (این این آئی)امیر جمعیت علماء اسلام بلوچستان سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ اس وقت عالم اسلام کے حالات انتہائی نازک دور سے گزر رہے ہیں فلسطین کے مظلوم عوام پر اسرائیل کی جاری بربریت، ایران کی خودمختاری پر مغربی قوتوں کے حملے، اور دنیا کے مختلف خطوں میں مسلمانوں کے خلاف جاری ظلم و ستم ایسے حقائق ہیں جن پر خاموشی اختیار کرنا انسانی ضمیر کا قتل ہے ان تمام عالمی معاملات میں قائد ملت اسلامیہ حضرت مولانا فضل الرحمن نے ہمیشہ دو ٹوک، نڈر اور باوقار مؤقف اختیار کرتے ہوئے امت مسلمہ کے اجتماعی احساسات کی حقیقی ترجمانی کی ہے۔ ان کی قیادت میں جمعیت علماء اسلام نے ہر ظالم کے خلاف اور ہر مظلوم کے حق میں نہ صرف آواز بلند کی بلکہ عملی میدان میں بھی کردار ادا کیا۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ افسوس اس بات کا ہے کہ گزشتہ دو برسوں میں ہماری جماعت کی بصیرت افروز آواز کو دانستہ طور پر نظر انداز کیا گیا قائد جمعیت کی جانب سے خارجہ پالیسی کے حوالے سے دی گئی دوراندیش تجاویز اور بروقت تنبیہات اگر ریاستی ادارے اور حکومت وقت سنجیدگی سے لیتے تو آج پاکستان اندرونی طور پر عدم استحکام کا شکار نہ ہوتا۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی اس وقت انتشار، تذبذب اور وقتی مفادات کی اسیر بن چکی ہے، جس کی قیمت ملکی خودمختاری اور اعتماد سے محرومی کی صورت میں ہم ادا کر رہے ہیں۔ملکی معیشت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مولانا عبدالواسع نے کہا کہ معیشت کی بحالی کے جھوٹے دعوے کرنے والے حکومتی نمائندے پہلے یہ بتائیں کہ وہ اپنے ہی مقرر کردہ جی ڈی پی اہداف کا پچاس فیصد بھی پورا کر پائے ہیں؟ عوام کو سبز باغ دکھا کر بار بار قربانی کا مطالبہ کیا جاتا ہے، لیکن اس کا اصل فائدہ صرف وہ اشرافیہ اٹھاتی ہے جو ہمیشہ سے ریاستی وسائل اور پالیسیوں پر قابض ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، ٹیکسوں کا بوجھ اور ضروریات زندگی کی قلت عوام کا مقدر بنا دی گئی ہے، جبکہ چند مخصوص طبقات کو نوازنے کے لیے معاشی پالیسیاں مرتب کی جاتی ہیں۔ یہ طبقاتی استحصالی نظام اب ناقابل برداشت ہو چکا ہے اور عوام مزید دھوکہ برداشت نہیں کریں گے۔انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی اسلامی اقدار کے خلاف اقدامات کا ایک تسلسل شروع کیا۔ مدارس کی رجسٹریشن کے نام پر ان کی خودمختاری کو محدود کرنے کی کوشش کی گئی، سودی نظام کے تحفظ میں قانون سازی کی گئی، اور کم عمری کی شادی کے خلاف بل لاکر اسلامی خاندانی اقدار پر حملہ کیا گیا۔ لیکن ان تمام مذموم کوششوں کے خلاف مولانا فضل الرحمن ایک مردِ میدان کی حیثیت سے صف آراء ہوئے اور ہر سطح پر ان باطل پالیسیوں کو بے نقاب کیا۔ اسلام دشمن ایجنڈے کو کسی بھی قیمت پر نافذ نہیں ہونے دیا جائے گا جب تک جمعیت علماء اسلام اس ملک میں موجود ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جمعیت علماء اسلام ایک نظریاتی تحریک ہے جو صرف سیاسی اقتدار کے لیے نہیں بلکہ دین اسلام کی بالادستی، آئین کی پاسداری، اور عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم عمل ہے۔ بلوچستان میں بدامنی کی سنگین صورتحال، خیبرپختونخواہ میں دہشت گردی کی نئی لہر، جیسے مسائل پر قائد جمعیت نے وقتاً فوقتاً حکومت کو خبردار کیا، لیکن ان کی باتوں کو ہمیشہ سیاسی عناد کی نظر سے دیکھا گیا۔ آج جب یہ خطرات حقیقت بن کر عوام کے سامنے ہیں، تو قوم کو سمجھ آنا چاہیے کہ بصیرت والی قیادت کس کو کہتے ہیں۔مولانا عبدالواسع نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام کے مینڈیٹ کو جس بیدردی سے کچلا گیا، وہ جمہوریت کی روح کے ساتھ بدترین کھلواڑ ہے ہم پر سیاسی انتقام کی آڑ میں دباؤ ڈالنے کی کوششیں ہوئیں، لیکن جمعیت علماء اسلام نے نہ کبھی سر جھکایا ہے اور نہ جھکائے گی۔ ہماری آواز نہ صرف پارلیمان میں گونجتی ہے بلکہ گلیوں، بازاروں اور ہر عوامی محاذ پر بھی بلند ہے ہم ایک پلیٹ فارم تک محدود نہیں، ہم ہر میدان میں موجود ہیں اور ہر سازش کے خلاف صف آرا ہیں۔انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام صرف ایک سیاسی جماعت نہیں، بلکہ یہ ایک تحریک ہے، ایک نظریہ ہے، ایک قوم کا احساس ہے، جو قوم، دین، آئین اور نظریہ پاکستان کی حفاظت کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہے۔ آج بھی ہم پوری دنیا کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ ہم ظالم کے خلاف اور مظلوم کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم صرف نعرے نہیں لگاتے، بلکہ اپنی عملی جدوجہد سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ ہم کسی دباؤ کے آگے نہیں جھکتے۔انھوں نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب تک اس ملک میں اسلام کے خلاف قانون سازی کی کوششیں ہوتی رہیں گی، جب تک معاشی و سیاسی استحصال جاری رہے گا، اور جب تک عوامی حقوق کو پامال کیا جاتا رہے گا جمعیت علماء اسلام میدان عمل میں موجود رہے گی، اور ان شاء اللہ حق کا پرچم ہمیشہ بلند رہے گا۔

