کوئٹہ (این این آئی) ایکشن کمیٹی اخباری صنعت بلوچستان کا علامتی احتجاجی کیمپ 48 ویں روز بھی جاری رہا۔ علامتی احتجاجی کیمپ میں اخبارات،جرائد اور اخبار مارکیٹ کے نمائندگان موجود رہے۔ علامتی احتجاجی کیمپ کے شرکاء کا کہنا تھا کہ ہماری جدوجہد کا محور صرف بلوچستان کے پرنٹ میڈیا کی بقاء ہے کیونکہ حکومت کی جانب سے اشتہارات کو مکمل طور پر BPPRA پر منتقل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے یہ عمل بلوچستان کے پرنٹ میڈیا کے تمام شعبہ جات کو بند اور ہزاروں افراد کو بیروزگار کر دے گا۔ صوبائی حکومت کی جانب سے اشتہاراتی بجٹ میں اضافہ کو بے حد پذیرائی اور اخباری صنعت دوست عمل قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ بلوچستان کا پرنٹ میڈیا ہمیشہ مالی مشکلات کا شکار ہونے کی وجہ سے دوسرے صوبوں کا مقابلہ نہیں کر سکا اب امید کی جارہی ہے کہ اگر صوبائی حکومت کی جانب سے بلوچستان کے حقیقی پرنٹ میڈیا کی سرپرستی کی جائے تو دیگر صوبوں کے مقابل کھڑے ہوسکتے ہیں۔ علامتی احتجاجی کیمپ کے شرکاء کا مزید کہنا تھا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اشتہارات کو BPPRAپر منتقل کرنے کے ڈرافٹ کو مسترد کرتے ہوئے بلوچستان کے پرنٹ میڈیا کی سرپرستی کریں گے کیونکہ بلوچستان میں صنعتی زونز نہ ہونے کی وجہ سے حکومت بلوچستان کی جانب سے جاری ہونے والے اشتہارات پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ شرکاء کا مزید کہنا تھا کہ ایک ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود ہمارے حوصلے بلند ہیں۔

