فضل الرحمان نے عمران خان کی جیل سے اسپتال منتقلی کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیدیا

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان ایک معقول دوری ہونی چاہیے اور بلاوجہ تعصب، نفرت یا محض مخالفت برائے مخالفت سے گریز ضروری ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان سے بانی پی ٹی آئی کو اسپتال منتقل کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر سوال کیا گیا تو انہوں نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ اچھی بات ہے۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا بنیادی فرض ہے کہ وہ حکومت کی کمزوریوں کی نشاندہی کرے اور ان کی اصلاح میں کردار ادا کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی معاملات میں سنجیدگی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جانا چاہیے۔

مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ صوبوں کے معاملے پر حمایت اور مخالفت کے درمیان واضح لکیر کھینچ دینے سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ اس حوالے سے تھوڑی بحث کرنے دیں، اس کی اصولی حیثیت عملی حیثیت کیا ہے یہ معلوم کرنے دیں، ماحول تیار ہے یا نہیں ہے یہ معلوم کرنے دیں۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ نے کہا ہے کہ مریض کو صحت کے حوالے سے شکایت ہو تو فوری کارروائی ہونی چاہیے، تاخیر نہیں ہونی چاہیے، پی ٹی آئی کا احتجاج اس کا اندرونی معاملہ ہے جبکہ صوبوں کا معاملہ اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے اٹھایا گیا ہے، وسائل کے بغیر نئے صوبے کیسے بنیں گے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پہلے وہ سرائیکی صوبے کی حمایت کر چکے ہیں، اُس وقت اسٹیبلشمنٹ بھی صوبوں کی مخالف تھی، آج پھر کون سی وحی آ گئی ہے کہ صوبوں پر بات شروع ہو گئی؟ حکمران باہر سرخ قالین کا مزہ لینے کے بجائے پہلے اپنا گھر درست کریں۔

انہوں نے کہا کہ بنوں اور ٹانک میں پولیس کی رٹ ختم ہو چکی ہے، پولیس اہلکار اغوا ہوئے ہیں اور حالات تشویش ناک ہیں، پارلیمنٹ پوری قوم کی نمائندہ ہے، قوم کی آواز سننی چاہیے۔

مولانا فضل الرحمان نے مطالبہ کیا کہ اپوزیشن لیڈر آل پارٹیز کانفرنس بلائیں اور پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلا کر حکومت کو سکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دے اگر وزیراعظم پارلیمانی لیڈرز سے بات کر سکتے ہیں تو پارلیمنٹ کو بریفنگ کیوں نہیں دی جا سکتی؟حکومت کی جانب سے لشکر بنانے کی کوئی تجویز نہیں آنی چاہیے، ہمارے سوالات کو سنجیدہ لیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں