کوئٹہ(این این آئی)پارلیمنٹیرین فورم برائے پاپولیشن ایجنڈا کی پہلی مشاورتی میٹنگ کامیابی سے منعقد کی گئی۔ یہ کنسلٹیشن میٹنگ یو این ایف پی اے، نیدرلینڈز، بلوچستان اسمبلی اور حکومت بلوچستان کے اشتراک سے منعقد ہوئی، جس کا مقصد پاکستان کی مشترکہ مفادات کونسل (CCI) کی جانب سے آبادی سے متعلق پیش کردہ آٹھ سفارشات پر عمل درآمد کے لیے آگاہی پیدا کرنا، صوبائی اسمبلی کے ممبران کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا اور ایڈووکیسی کو فروغ دینا تھا تاکہ ان اہم نکات کو قانون سازی، پالیسی سازی اور عملی اقدامات کا حصہ بنایا جا سکے۔ اجلاس کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ کلام پاک سے کیا گیا۔پروگرام کی میزبانی یو این ایف پی اے کی صوبائی کوآرڈینیٹر سعادیہ عطا نے کی، جنہوں نے بلوچستان اسمبلی کے نمائندوں کو اس اہم فورم کے قیام پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ یہ فورم آبادی سے متعلق مسائل پر مشترکہ حکمتِ عملی اپنانے اور پارلیمانی سطح پر سنجیدہ مکالمہ شروع کرنے کا ایک مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہوگا۔ فورم کے قواعد و ضوابط (TORs) تیار کیے گئے اور اراکینِ اسمبلی کے ساتھ شیئر کیے گئے۔میٹنگ کا آغاز یو این ایف پی اے کے کنٹری رپریزنٹیٹو ڈاکٹر لوئے شہبانے نے کیا، جنہوں نے پاکستان میں آبادی کے بڑھتے ہوئے دباؤ، صحت عامہ پر اثرات اور سماجی و معاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے تین کلیدی پہلوؤں کی نشاندہی کی: قانون سازی، پالیسی پر عمل درآمد، اور مؤثر ایڈووکیسی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاپولیشن اور ہیلتھ کے محکموں کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ آبادی سے متعلق خدمات کو بہتر بنایا جا سکے اور لوگوں تک بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔پارلیمانی سیکرٹری برائے محکمہ بہبود آبادی،ہادیہ نواز نے کہا کہ محکمہ دن رات عوامی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے سرگرم عمل ہے، اور خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق سہولیات کو ضلعی سطح پر دستیاب بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ڈاکٹر سرمد خان، ٹیکنیکل اسپیشلسٹ برائے تولیدی صحت (SRH)، یو این ایف پی اے نے ایک تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی، جس میں بلوچستان میں ماں اور بچے کی صحت سے متعلق تشویشناک اعداد و شمار فراہم کیے۔ ان کے مطابق صوبے میں زچگی کے دوران اموات کی شرح سب سے زیادہ ہے، غذائی قلت، اسکولوں سے باہر بچوں کی شرح، اور تربیت یافتہ عملے کی کمی جیسے عوامل صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔پارلیمانی سیکرٹری برائے کھیل، محترمہ مینا بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کو نیشنل فنانس کمیشن (NFC) سے سب سے کم وسائل ملتے ہیں، ایسے میں آبادی کو مزید محدود کرنے کی بات کرنا غیر مناسب ہے۔ انہوں نے 1100 خواتین کی سالانہ اموات کے حوالے سے درست اور قابلِ بھروسہ ڈیٹا کی ضرورت پر زور دیا۔صوبائی اسمبلی کے رکن اسفندیار کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے جن میں دہشت گردی، کمزور معیشت اور وسائل کی کمی شامل ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ہمارے دستیاب وسائل ناکافی ہیں، لہٰذا عالمی اداروں کو آگے آنا چاہیے اور خاص طور پر صحت کے شعبے میں بلوچستان کی بھرپور مدد کرنی چاہیے، تاکہ خواتین اور بچوں کو بنیادی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ڈپٹی اسپیکر محترمہ غزالہ گولہ نے کہا کہ خاندانی منصوبہ بندی کی ادویات اور تربیت یافتہ عملے کی کمی جیسے مسائل بھی توجہ طلب ہیں۔ انہوں نے کم عمری کی شادی کے خاتمے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔اجلاس میں دیگر معزز اراکین اسمبلی جن میں فرح عظیم شاہ، کلثوم نیاز بلوچ، شہناز عمرانی، سلمیٰ کاکڑ، خیر جان، اصغر رند، میر جہانزیب مینگل شامل تھے، نے بھی شرکت کی۔ اس کے علاوہ سول سوسائٹی اور میڈیا نمائندے بھی اجلاس میں موجود تھے۔عبدالستار شاہوانی، ڈویژنل ڈائریکٹر برائے محکمہ بہبود آبادی، نے صوبائی بجٹ میں اسکیمات کے لیے ناکافی فنڈنگ پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ مسائل کا حل صرف محکمہ پاپولیشن کی ذمہ داری نہیں بلکہ تمام متعلقہ اداروں کا مشترکہ فریضہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خاندانی منصوبہ بندی کی ادویات اور دیگر سہولیات کے لیے صرف 12 کروڑ روپے کا بجٹ دستیاب ہے، جو پورے بلوچستان کی ضروریات کے لیے انتہائی ناکافی ہے۔کنسلٹیشن میٹنگ کے اختتام میں وزیر تعلیم راحیلہ حمید درانی نے فورم کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاپولیشن کا مسئلہ صرف ایک محکمہ کا نہیں، بلکہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے FP2030 کے اہداف کے حصول کے لیے حکومت بلوچستان کے عزم کو دہرایا اور امید ظاہر کی کہ کم عمری کی شادی کے خلاف بل جلد بلوچستان اسمبلی سے بھی منظور ہو گا۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر CCI سفارشات پر عمل کرنا چاہیے، تعلیمی اداروں میں آگاہی کے لیے اقدامات ضروری ہیں اور بین الصوبائی ہم آہنگی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے مرد اراکینِ اسمبلی پر زور دیا کہ وہ خواتین کے مسائل کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں تاکہ حقیقی تبدیلی ممکن بنائی جا سکے۔

