کوئٹہ(این این آئی)بلوچستان میں زرعی ٹیو ب ویلز کو سولر پر منتقل کرنے کے منصوبے کو ایک سال ہوگیا مگر 26ہزار زمینداروں میں سے صرف 13ہزار زمینداروں کو رقم کی ادائیگی کی جاسکی ہے بلوچستان اور وفاقی حکومتوں کی جانب سے زمینداروں کو اب بھی 29ارب روپے کی ادائیگی کرنا ہے محکمہ توانائی کے حکام کے مطابق جولائی کے آخر تک زمینداروں کو رقم کی ادائیگی کرکے منصوبہ مکمل کرلیا جائے گا۔بلوچستان میں 27 ہزار 437زرعی ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کا منصوبہ گذشتہ سال نو جولائی کو شروع ہوا تھا جب وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے کوئٹہ آکر اس منصوبے کو تین ماہ میں مکمل کرنے کا اعلان کیا تھا،55 ارب روپے مالیت کے اس منصوبے میں 70 فیصد حصہ وفاقی حکومت اور 30 فیصد بلوچستان حکومت ادا کر رہی ہے،مگر اب تک 13 ہزار 400 سے زائد کاشت کاروں کو 26 ارب 85 لاکھ روپے کے چیک جاری کیے گئے ہیں۔ محکمہ توانائی کے حکام کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے زمینداروں کو اب بھی 29ارب روپے کی ادائیگی کرنا ہے وفاقی حوکمت کی جانب سے رقم ملنے کے بعد جولائی کے آخر تک زمینداروں کو رقم کی ادائیگی کرکے منصوبہ مکمل کرلیا جائے گا دوسری جانب کیسکو ترجمان کا کہنا ہے کہ زرعی ٹیوب ویلز کی سولرائزیشن کے تین مراحل کے دوران مجموعی طور پر13 ہزار 428 زرعی کنکشنز منقطع کیے تین ہزار 702 پولز اور پانچ ہزار 593 ٹرانسفارمرز اتار لیے ہیں۔کیسکو حکام کے مطابق ٹیوب ویلز کی سولرائزیشن سے اب تک مجموعی طور پر 67.4 میگاواٹ لوڈ کم ہوا ہے تاہم منصوبے مکمل ہونے پر بجلی کی طلب میں 400 میگاواٹ سے زائد کی کمی آسکتی ہے۔

