اسلام آباد (این این آئی)وفاقی حکومت نے مالی سال26- 2025 کے لیے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں گوادر کے مختلف انفراسٹرکچر، تعلیم، توانائی اور سماجی ترقی سے متعلق منصوبوں کے لیے 13.63 ارب روپے سے زائد کی خطیر رقم مختص کی ہے۔اس فنڈنگ کا مقصد گوادر کی تیز تر ترقی اور قومی ترقی کے وسیع تر اہداف کو حاصل کرنا ہے۔ گوادر پرو کے مطابق زیادہ تر منصوبے ضلع گوادر میں واقع ہیں، جن میں شہری ڈھانچے، سروسز اور ادارہ جاتی اصلاحات پر توجہ دی گئی ہے، تاہم بعض منصوبے جیسے کہ گوادر-رتوڈیرو روڈ، بیرونی رابطے کے لیے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ اگرچہ یہ منصوبے جغرافیائی طور پر شہر سے باہر ہیں، لیکن یہ گوادر کو اندرون ملک پاکستان سے جوڑنے اور اقتصادی بہاؤ میں مدد دینے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ گوادر پرو کے مطابق گوادر-رتوڈیرو روڈ (ایم-8) کی تعمیر کے لیے سب سے بڑی مالیاتی رقم مختص کی گئی ہے۔ یہ منصوبہ جنوری 2021 میں ایکنک سے ترمیم و منظوری کے بعد 38.02 ارب روپے کی لاگت سے شروع کیا گیا تھا، جس پر اب تک 32.89 ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔ پی ایس ڈی پی25- 2025 میں اس منصوبے کی تکمیل کے لیے مزید 3 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ، جو علاقائی و بین الاقوامی فضائی رابطوں کے فروغ کے لیے ایک نمایاں منصوبہ ہے، کو رواں مالی سال میں 4 ارب روپے فراہم کیے جائیں گے۔ اس منصوبے کی مجموعی لاگت 54.98 ارب روپے ہے، جس میں سے 42.71 ارب روپے پہلے ہی خرچ ہو چکے ہیں۔گوادر سیف سٹی پراجیکٹ، جس کا مقصد نگرانی کے جدید نظام کے ذریعے شہری سلامتی کو مؤثر بنانا ہے، کے لیے 1.5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس منصوبے کی کل لاگت 2.48 ارب روپے ہے، جبکہ اب تک 73 کروڑ 80 لاکھ روپے خرچ ہو چکے ہیں۔ گوادر پرو کے مطابق یونیورسٹی آف گوادر کے قیام (فیز ون)، جو 2022 میں 2.49 ارب روپے کی مجموعی لاگت سے منظور ہوا تھا، کے لیے رواں مالی سال میں 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ صاف پانی کی فراہمی، صفائی اور تقسیم کے لیے درکار بنیادی سہولیات کے طویل المدتی منصوبے، جو 2010 میں منظور ہوا تھا، کے لیے رواں مالی سال میں 47 کروڑ 6 لاکھ 48 ہزار روپے مختص کیے گئے ہیں۔ منصوبے کے آغاز سے اب تک اس پر 23 ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔ گوادر پرو کے مطابق اولڈ ٹاؤن گوادر کی بحالی (درکار بنیادی سہولیات کی فراہمی) کا منصوبہ، جو 2021 سے جاری ہے، کے لیے موجودہ پی ایس ڈی پی میں 40 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اسی طرح، ضلع گوادر میں شہزینک ڈیم کی تعمیر، جسے 2021 میں منظور کیا گیا تھا، کے لیے رواں سال 22 کروڑ روپے فراہم کیے گئے ہیں، جبکہ اب تک اس منصوبے پر مجموعی طور پر 1.75 ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔ گوادر پرو کے مطابق صفائی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے گوادر سمارٹ ماحولیاتی صفائی نظام اور لینڈفل پراجیکٹ، جسے مئی 2024 میں منظور کیا گیا، کے لیے 20 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اسی طرح، گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے بزنس پلان، جسے ابتدائی طور پر 2010 میں منظور کیا گیا تھا، کے لیے 25 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ گوادر پرو کے مطابق تعلیم کے شعبے میں، ایف جی جونیئر پبلک اسکول گوادر کے قیام کے لیے 10 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ یہ منصوبہ فروری 2024 میں منظور ہوا تھا جس کی کل لاگت 38.47 کروڑ روپے ہے، اور اب تک 18.47 کروڑ روپے خرچ ہو چکے ہیں۔اسی طرح، 2017 میں شروع کی گئی ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کی اسکالرشپ اسکیم کے تحت گوادر کے طلبہ کو وظیفے دینے کے لیے اس سال 1.83 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جس سے کل ادا کی جانے والی رقم 14.68 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ابھرتے ہوئے بلیو اکانومی شعبے میں، گوادر بلیو اکانومی سینٹر (فیز-I)، جسے جون 2024 میں سی ڈی ڈبلیو نے کل لاگت 3.92 ارب روپے کے ساتھ منظور کیا تھا، کو رواں مالی سال میں 1.5 کروڑ روپے فراہم کیے جائیں گے۔ گوادر پرو کے مطابق گوادر ماسٹر پلان کے تحت گراندانی جنوبی میں 750 ایکڑ زمین کے حصول کے لیے 11.1 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ یہ منصوبہ جون 2024 میں منظور ہوا تھا جس کی مجموعی لاگت 39.2 ارب روپے ہے۔گوادر میں جی پی اے ہاؤسنگ کمپلیکس کی ضمنی سہولیات کے لیے 12.54 کروڑ روپے فراہم کیے جائیں گے، جبکہ اس منصوبے کی کل لاگت 22.54 کروڑ روپے ہے۔ ماڈل کسٹمز کلیکٹریٹ گوادر کی تعمیر کے لیے 68.08 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ گوادر پرو کے مطابق شہر کی بجلی کی سہولت کو مضبوط بنانے کے لیے فری زون نارتھ اور ساؤتھ کے لیے جاری چھ فیڈرز کے منصوبے کے لیے 38.4 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ یہ منصوبہ گزشتہ مالی سال کے اختتام تک 54.47 کروڑ روپے خرچ کر چکا ہے۔ گوادر پرو کے مطابق سمندری شعبے میں، گوادر اوشینوگرافک ریسرچ سب اسٹیشن کو مضبوط بنانے کے لیے، جو 2021 میں 3 کروڑ روپے کی لاگت سے منظور ہوا تھا، پی ایس ڈی پی26- 2025 میں 15 کروڑ روپے فراہم کیے گئے ہیں۔ گوادر شپ یارڈ کے قیام کے لیے پروجیکٹ مینجمنٹ سیل، جو 2020 میں 7.73 ارب روپے کی لاگت سے منظور ہوا تھا، کو اس سال 18.6 کروڑ روپے دیے گئے ہیں۔ اب تک اس منصوبے پر کل 928 کروڑ روپے خرچ ہو چکے ہیں۔ گوادر پرو کے مطابق آف ڈاک ٹرمینل گوادر کے انفراسٹرکچر کے کام، جو مئی 2025 میں 4.96 کروڑ روپے کی لاگت سے منظور ہوا تھا، کو 10 کروڑ روپے دیے جائیں گے۔ جبکہ ایسٹ بے ایکسپریس وے فیز-II، جو ابھی تک غیر منظور شدہ ہے اور جون 2025 میں ایکنک کو بھیجا گیا ہے، کے لیے 20 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس منصوبے کی مجموعی لاگت 301.3 ارب روپے ہے۔آخر میں، گوادر سے جیکب آباد تک (کلو میٹر 901 سے 387) ریل رابطے کے لیے زمین کے حصول کے لیے 1 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ یہ منصوبہ 2024 میں منظور ہوا تھا جس کی کل لاگت 155.9 ارب روپے ہے۔

