کراچی (ایم پی پی/ میڈیا سیل) ایم پی پی کی مرکزی کمیٹی نے بلدیاتی اداروں کو مستحکم کرنے اور آئین کی شق 140-Aمیں ترمیم کی متفقہ قرارداد کی منظور پر پنجاب اسمبلی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلدیاتی اداروں کو فنڈز اور صوبہ کی اجارہ داری سے نکالنے اور انہیں خود مختار بنا نے کے لئے یہ بہترین فیصلہ ہے اب دیگر صوبے بھی تائید کریں اور قومی اسمبلی فوری اس بل کو منظور کرکے آئین کا حصہ بنائے۔ یونیفارمیٹی پالیسی اپناتے ہوئے ملک بھر میں اس بل کی منظوری کے بعد بلدیاتی الیکشن ایک ہی وقت پر چاروں صوبوں میں الیکشن کرائے جائیں۔ مرکزی کمیٹی نے کہا کہ اسوقت صوبے اٹھارویں ترمیم کے نشے میں اتنے بدمست ہیں کہ عوام کو بنیادی اداروں کی سہولیات سے محروم کر رکھا ہے۔ بلدیاتی اداروں کو ڈی ایف سی ایوارڈ کبھی نہیں دیا گیا۔ این ایف سی ایوارڈ کو پی ایف سی ایوارڈ تک محدود رکھا گیا۔ ترمیم میں بلدیاتی اداروں کو ایک چھتری تلے لانے کے لئے سٹی گورنمنٹ نظام کی طرز پر تمام محکمے جو بلدیات سے متعلق ہیں انکے حوالے کئے جائیں۔ جس طرح پرویز مشرف کے نظام میں تھے۔ دنیا بھر کے میٹروپولیٹن نظام کو اپنانے اور پاکستان میں ترقی کے سفر کو آگے بڑھانے کے لئے کرپشن فری بلدیاتی ادارے ہونے چاہئیں۔ اسوقت سندھ میں کرپشن اور بالخصوص کراچی منی پاکستان کو بدترین شہر اور چائنا کٹنگ، اصل مالکان کی ملکیتوں پر قبضے اور سسٹم مافیا کے راج نے برباد کر کر رکھ دیا ہے۔ تھرڈ پارٹی آڈٹ کرکے ان اداروں کے فنڈز چیک کئے جائیں۔نیب زدہ اور جعلساز افسران کو گھر بھیجا جائے۔ سزا یافتہ اور ایف آئی آرز اور اینٹی کرپشن و نیب کیسوں میں ملوث افسران فوری عہدوں سے سبکدوش کرکے اداروں میں نیک اور ترقی کے شوقین افسران جو کراچی کو ڈیلیور کریں لگائے جائیں۔ کے ایم سی، ٹی ایم سیز۔ ایل ڈی اے، ایم ڈی اے، کے ڈی اے، واٹر کارپوریشن اور ریونیو سمیت متعدد افراد کو سسٹم مافیا سے نجات دلا کر کراچی کو ترقی یافتہ شہر بنائیں۔ سندھ کے ہر شہر دیہات اور قصبے میں ترقی یقینی بنائی جائے۔ گورنر سندھ، وزیر اعلی اور وزیر اعظم اس میں فعال کردار ادا کریں، پنجاب کو پہل کرنے پر مبارکباد اور ترقی کے سفر کے لئے مثا ل قرار دیتے ہیں بلا تاخیر قومی اسمبلی سے اسکی منظوری لی جائے۔
رضوان احمد فکری
ایم پی پی

