لاہور (این این آئی)امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ گزشتہ دو مالی سالوں میں ”جعلی اور فلائنگ انوائس‘‘کے ذریعے 22 کھرب روپے سے زائد مالیت کے ٹیکس چوری کا انکشاف، کمزور حکومتی رٹ اور پالیسی کے نفاذ میں غیر سنجیدگی کی عکاسی کرتا ہے جو کہ مجرمانہ غفلت کے مترادف ہے،پاکستان میں ٹیکس چوری کا تخمینہ تقریباً 5.8 کھرب روپے سالانہ ہے، یہ ملک کی جی ڈی پی کا تقریباً 6.9 فیصد ہے، المیہ یہ ہے کہ پاکستان میں سب سے زیادہ ٹیکس تنخواہ دار طبقہ دیتا ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار مختلف تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اغیار کی غلامی میں دینے والے فارم 47کے حکمران خود کو قوم کے سامنے جوابدہ نہیں سمجھتے۔ آج پاکستان کی معیشت برباد ہو چکی ہے۔حکمرانوں کی عیاشیاں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی،ضرورت اس بات کی ہے اسلام کے معاشی نظام کے لئے ہم متحد ہوں۔ ملک غربت اور جہالت میں ڈوبا ہوا ہے لیکن ہماری سول اور غیر سول افسرشاہی اپنے ٹھاٹھ باٹھ چھوڑنے تیار نہیں ہے۔ملٹی نیشنل کمپنیاں خون نچوڑ رہی ہیں۔ جو حکومت آتی ہے وہ پروٹوکول اور اپنی مراعات کے حصول میں کمی تو کرتی نہیں بلکہ الٹا ملک کو مزید قرضوں کے بوجھ تلے دبا دیتی ہے۔ بد قسمتی سے ملکی اور قومی مسائل کے بارے میں پالیسیاں بنانے والے اصل لوگ درحقیقت عوام کو درپیش مسائل سے واقفیت ہی نہیں رکھتے۔مٹھی بھر اشرافیہ نے سب کچھ یرغمال بنایا ہوا ہے۔محمد جاوید قصوری نے اس حوالے سے مزید کہا کہ صرف جماعت اسلامی ہی ملک میں نظام کی تبدیلی کی بات کرتی ہے۔ ہماری اصل لڑائی موجودہ کرپٹ نظام سے ہے۔”بدل دو نظام کو“ کے سلوگن کے ساتھ اپنی آواز کو ہر سطح پرپہنچائیں گے۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کی قیادت میں پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک اسلامی فلاحی ریاست بنائیں گے۔نوجوان پاکستان بچانے کے لئے ہمارا ساتھ دیں۔

