کوئٹہ (این این آئی) تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ کوئٹہ شہر موجودہ کرپٹ،نااہل فارم47 کی پیداوار زر وزور کی مسلط حکومت کی غلط،عوام دشمن اور بنیادی انسانی حقوق کے خلاف پالیسیوں کی وجہ سے کوئٹہ مسائلستان بن چکا ہے، شہر کے عوام غیر جمہوری وغیر قانونی حکومت کے ناروا اقدامات سے ذہنی مریض بن چکے ہیں۔عوام کی تائید و حمایت سے محروم فارم 47 کی مسلط غیر قانونی حکومت نے بلاوجہ کوئٹہ شہر اور صوبے میں انٹر نیٹ کو بند کر رکھا ہے،انٹر نیٹ کی بندش سے کاروباری،معاشی،تعلیمی و سماجی سرگرمیوں پر شدید منفی اثرات مرتب ہوچکے ہیں۔لاکھوں افراد جن کا کا روبار انٹرنیٹ کے ذریعے آن لائن ہوتا ہے ختم ہوچکا ہے،اور ہزاروں افراد بے روز گار ہوچکے ہیں، یہ بات بی این پی کے مرکزی سیکرٹری آغا حسن بلوچ، صوبائی سینئر نائب صدر پاکستان تحریک انصاف ایڈووکیٹ خورشید کاکڑ، صوبائی جنرل سیکرٹری پشتونخواملی عوامی پارٹی کبیر افغان، صوبائی نائب صدر مجلس وحدت المسلمین علامہ ولایت حسین اور دیگر رہنماؤں نے ہفتہ کو پشتونخواء ملی عوامی پارٹی کے دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ غربت کے موجودہ بدترین صورتحال میں انٹر نیٹ کی بندش اور آن لائن کاروبار کے خاتمے نے عوام کی معاشی طور پر کمر توڑ دی ہیں،انٹر نیٹ کی بندش سے تعلیمی اداروں میں درس وتدریس کا سلسلہ شدید متاثر ہوا ہے اور نظام تعلیم پر اس کے گہرے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں،ہزاروں طلبا وطالبات کا تعلیمی مستقبل داو پر لگ چکا ہیں،اسی طرح پرنٹ والیکٹرونک میڈیا سے منسلک دفاتر، دیگر نجی دفاتر،سوشل میڈیا کا استعمال کرنے والوں کو بھی شدیدمشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔ نام نہاد مسلط حکومت وقت انٹر نیٹ سے اس قدر خوفزدہ ہوچکی ہے کہ اسے اپنے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتی ہے اور اب کوئٹہ اور صوبے میں مستقل طور پر انٹر نیٹ کی بندش کی سازش کی جارہی ہے،حکومت عوام کی مکمل زبان بندی، اظہار رائے پر پابندی اور عوامی شعور کوختم کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ اور یہ اقدام آئین میں انسانی حقوق کی بنیادی خلاف ورزی پر مبنی ہے۔ اگر مسلط حکومت وقت نے انٹر نیٹ کی مکمل بحالی کے اقدامات نہیں اٹھائے تو تحریک تحفظ آئین پاکستان اس کے خلاف عوام کی تائید اور حمایت سے سخت احتجاج کا حق محفوظ رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ شہر میں آئے روز بڑی بڑی شاہراہیں،سڑکیں بلا وجہ بند کرنے، شدید ٹریفک جام،جگہ جگہ ناکے لگانے،گھنٹوں گھنٹوں گاڑیوں میں بیٹھ کر عوام کو سڑکوں پر ذلیل و خوار کیا جاتا ہے،طلبا وطالبات وقت پر تعلیمی اداروں میں نہیں پہنچ پاتے،مریض گھنٹوں ٹریفک جام میں پھنے رہتے ہیں،بڑی بڑی شاہراہوں کو توڑ کر کوئٹہ شہر کو کنڈرات میں تبدیل کردیا گیا ہیں،جبکہ شہر میں داخلی اور اندرون شہر مختلف مقامات پر سیکورٹی فورسز کی جانب سے مین شاہراہوں پر ناکے لگاکر گاڑیوں کی تلاشی کرنے کے عمل نے نہ صرف کوئٹہ شہر کے تیس لاکھ سے زائد آبادی بلکہ شہر میں داخل ہونیوالے مختلف اضلاع کے عوام کو بلیلی کے مقام پر عوام کو ذہنی کوفت کا شکار بنادیا ہے۔ جس سے عوام اور تمام ٹرانسپورٹ کمپنیاں کوئٹہ آنے سے بیزار ہوچکے ہیں اور انہیں شدید نقصانات سے دوچار ہونا پڑرہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ شہر اور صوبے میں سردیوں کے آغاز کے ساتھ ہی گیس کی لوڈ شیڈنگ،گیس پریشر میں کمی عوام کے لیے وبال جان بن گئی ہے اور گھریلوں صارفین کو اذیت میں مبتلا کر دیاہے،کوئٹہ کے مختلف علاقوں مشرقی بائی باس،تختانی،غوث آباد،سریاب،محمود مینہ،مسلم اتحاد کالونی،بروری،ہزارہ ٹاون،پشتون ٓباد،شالدرہ،سیٹلائٹ ٹاون،شیخان،ہدہ،دیبہ،ترخہ،خروٹ آباد،پشتون باغ،کچلاک،نواں کلی،سرہ غوڑ گی،مری اباد،عالمو،شیخ ماندہ،کلی گل محمد،نوحصار،سمگلی،عثمان قلعہ،کواری روڈ،ملک فقیر محمد کاسی روڈ،زمان روڈ، جان محمدکاسی روڈ،سرکی روڈ، کاسی روڈ، کلی برات، کلی عالمو، کلی الماس،ہنہ اوڑک، سرہ غوڑگئی،پود گلی چوک وغیرہ میں عوام گیس پریشر میں کمی اور لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے اذیت ناک صورتحال سے دوچار ہیں۔عوام کے پاس متبادل ایندھن کا کوئی بندوبست و انتظام موجود نہیں ہیں،شدید سردی میں بوڑھے،بچے مختلف موسمی بیماریوں میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ گیس لوڈشیڈنگ کی وجہ سے درجنوں قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں اور گھروں میں دھماکوں نے عورتوں،بچوں کو شدید زخمی کیا ہے اور آج بھی کئی لوگ معذوری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔سوئی سدرن گیس کمپنی کے حکام سے بارہا اس حوالے سے ملاقاتیں کی گئی ہیں لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی ہیں اب عوام سوئی سدرن گیس کمپنی اور غیر نمائندہ حکومت کے خلاف سخت احتجاج پر مجبور ہیں۔اگر سوئی سدرن گیس کمپنی نے اپنی ہٹ دھرمیوں کا سلسلہ بند نہ کیا اور عوامی مشکلات و مسائل کے حل کیے لیے ٹھوس اقدامات نہ اٹھائے تو اس کی تمام تر ذمہ داری حکومت اور سوئی سدرن گیس کمپنی کے حکام پر عائد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ شہر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ، وولٹیج میں کمی نے گھریلو صارفین اور کاروباری طبقے کو بڑے نقصانات سے دوچار کیا ہے۔ بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے نظام زندگی مفلوج ہوچکی ہے۔ سریاب، موسیٰ کالونی، خلجی کالونی، پرکانی آباد، پشتون آباد، پشتون باغ، مشرقی بائی پاس، مغربی بائی پاس، ہزار گنجی، نواں کلی، کچلاک، نوحصار، غبرگ، سمنگلی، شالدرہ، شیخان، دیبہ، ہدہ، ترخہ، منو جان روڈ، پودگلی چوک، احمد خانزئی بائی پاس، سرپل، سرہ غوڑگئی، ہنہ اوڑک، عالمو، کلی گل محمد، خروٹ آباد، ہزارہ ٹاؤن میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور وولٹیج میں کمی سے بجلی سے چلنے والی مشینری /گھریلو اشیاء کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔ اور بجلی کے بھاری برکم بلوں نے غریب عوام کو نان شبینہ کا محتاج بنا دیا ہے اور موجودہ بل عوام جمع کرنے سے مکمل طور پر قاصر ہیں۔ کیسکو کے حکام اور حکومت اپنے عوام دشمن رویے اور اقدامات پر نظرثانی کریں بصورت دیگر تحریک تحفظ آئین پاکستان کے پلیٹ فارم سے کیسکو کے خلاف کوئٹہ کے سڑکوں، شاہراہوں پر سخت احتجاج کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ شہر میں پینے کے صاف پانی کا مسئلہ عوام کے لیے وبال جان بن چکا ہے، سرکاری ٹیوب ویلز اکثر ٹرانسفارمرز وغیرہ سے محروم ہیں اور غیر معیاری ثمرسیبل مشینوں کے استعمال سے پانی کی درکار مقدار باہر نہیں نکالی جاسکتی اور آئے روز مشینیں وولٹیج کی کمی کی وجہ سے جل جاتی ہیں اور عوام کو ٹینکرز مافیا کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا جاتاہے۔ کوئٹہ واسا کے آفیسران عوامی مسائل کو حل کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں اور تمام سرکاری ٹیوب ویلز عوام کی ضروریات پوری نہیں کرتے۔جبکہ اس کے مقابلے میں پرائیویٹ ٹیوب ویلز سے عوام پانی غربت کی اس شدید صورتحال میں خریدنے پر مجبور ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ کوئی سرکاری ٹیوب ویل خرابی کے بغیر نہیں جبکہ پرائیوٹ ٹیوب ویلز خراب نہیں ہوتے۔ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سرکاری ٹیوب ویلز میں ناکارہ اور غیر معیاری مشینری کے استعمال سے مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔ محکمہ واسا اپنی موجودہ روش کو ٹھیک کرے بصورت دیگر واسا کے خلاف عوام سخت احتجاج پر مجبور ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ شہر میں جرائم پیشہ عناصر کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں نے شہریوں کو جان ومال کے سنگین مسئلے دوچار کر رکھا ہے۔ ہر شاہراہ،گلی محلے کی سطح پر سٹریٹ کرائمز، چوری،ڈکیتی، موبائل، نقدی، موٹر سائیکل کی گن پوائنٹ پر لیجانے، گاڑیوں کی چوری ہونے، منشیات کے اڈوں، جرائم پیشہ عناصر کی ہر علاقے میں موجود کمین گاہوں نے شہریوں بالخصوص نوجوان نسل کے مستقبل کو خطرے سے دوچار کر رکھا ہے۔ منشیات فروش اور ان کے آلہ کار تعلیمی اداروں،طلباء، کم عمر نوجوانوں کو نشے کا عادی بناکر انہیں جرائم پر مجبور کررہے ہیں اور حتیٰ کہ انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دیکر ان سے معاشرے کے منفی اور بداخلاقی پر مبنی کام لیا جارہا ہے۔ ان جرائم پیشہ عناصر کو بعض پولیس تھانوں کی پشت پناہی حاصل ہے اور بعض منشیات فروشوں کو بڑے پیمانے پر حکومتی سرپرستی بھی حاصل ہے جس کے خلاف کارروائی کرنے میں پولیس ودیگر انتظامیہ مکمل طو رپر ناکام ہے۔ جرائم کی بڑھتی ہوئی تشویشناک صورتحال کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نشے کے عادی افراد شہر بھر میں لوگوں کے گھروں میں ڈکیتی کرنے، گاڑیوں کے سائیڈ شیشے، بیٹریاں لیجانے، گاڑی، شہریوں سے موبائل چھیننے انہیں زخمی کرنے ودیگر جرائم میں ملوث ہیں اور شہر کے مین سٹی نالے میں اب بھی منشیات فروشوں کے باقاعدہ ٹھکانے موجود ہیں جن کا خاتمہ اور نشے کے عادی افراد کا علاج ومعالجہ حکومت، سوشل ویلفیئر کے متعلقہ اداروں کی ذمہ داری میں شامل ہے۔ اس پریس کانفرنس کی توسط سے آئی جی پولیس، ڈی آئی جی پولیس ودیگر متعلقہ اداروں ومحکموں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ امن وامان کی صورتحال کو بہتر بنانے اور عوام کے سرومال کی تحفظ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر ٹھوس اقدامات اٹھائیں جائیں۔ حکومت نے موثر اقدامات نہ کیئے تو تحریک تحفظ آئین پاکستان عوام کی مدد سے احتجاج کی راہ اپنائے گی جس کی تمام تر ذمہ داری مسلط حکومت پر عائد ہوگی۔

