کوئٹہ(رپورٹر) نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان نے مطالبہ کیا ہے کہ کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول کے مطابق شفاف اور بروقت انعقاد حکومت کی ذمہ داری ہے جبکہ حکومت انتخابات کے انعقاد سے روگردانی کی کوششوں میں ہے تاکہ ایڈمنسٹریٹرز کے ذریعے رشوت ستانی اور بدعنوانی کا بازار گرم رہے ، ترجمان نے کہا ہے کہ کوئٹہ شہر کو گزشتہ دس سالوں سے مئیر اور کونسلران سے محروم رکھ کر بیوروکریسی کے رحم و کرم پہ چھوڑ دیا گیا ہے اربوں روپے ایڈمنسٹرز کے ذریعے ہڑپ کیا جاچکا ہے کارپوریشن کی اربوں روپے کی مشینری ناکارہ بنادی گئی ہے کوئٹہ شہر کو کھنڈر بنادیا گیا ہے اب جبکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کے لیئے تمام تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں حکومت بلدیاتی انتخابات سے راہ فرار کے لیئے حیلے بہانے ڈھونڈھ رہا ہے کبھی موسم کی خرابی ، کبھی حالات کی خرابی اور کبھی آل پارٹیز کا نام پہ غلط بیانی کرکے الیکشن کمیشن پہ دباؤ ڈال رہا ہے کہ انتخابات ملتوی ہوں کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ فارم 47کے ذریعے آئے ہوئے جعلی مسلط کردہ عناصر بلدیاتی انتخابات میں بری طرح بے نقاب ہوجاہینگے اور ان کی اصل حقیقیت سامنے آہیگی جس سے بچنے کا واحد راستہ بلدیاتی انتخابات کا التوا ہے ، نیشنل پارٹی کا مطالبہ ہے کہ بلدیاتی انتخابات شیڈول کے مطابق شفاف انداز سے منعقد ہوں ، اگر ان انتخابات میں بھی جعلسازی کی کوشش کی گئی تو پھر یہ جعلی حکمرانوں کا آخری دن ہوگا ہر گلی اور ہر سڑک پہ دھرنا ہوگی ، پارٹی ترجمان نے کہا ہے کہ انتخابات کی مدت انتخاب سے شروع ہوکر چار سال کے لیئے ہوگی عوام بلدیاتی انتخابات کا بھرپور تیاری کرچکے ہیں اور فارم 47کے پروردہ حاکموں کو شکست سامنے نظر آرہی ہے ، پارٹی ترجمان نے مطالبہ کیا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان صوبائی وزرا کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے ایم پی ایز ایم این ایز اور مخصوص نشست پرمنتخب نمائندوں کے فنڈز 28ستمبر تک روک کر انہیں الیکشن مہم چلانے سے روک دیں ۔

