ڈاکٹرسلیم کُرد
سرزمینِ بلوچستان کے گراں قدر فرزِند مُحترم رہبر بسم اللہ خان کاکڑ عُرف مصطفیٰ کی رُحلت ایک ناقابلِ تلافی نُقصان اور پُرسوز صدمہ ہے۔ اس کی موت نےاُن کے پہاڑوں میدانوں شہروں اور دیہاتوں کے کمین گاہوں کو سوگوار کرگیا۔ بسم اللہ خان کاکڑ ہماری دھرتی کے ایک جانباز سالار اور مُترقی رہنُما رہے ہیں، جو ایک عوامی فِکر سے لبریز مُکتبہ فِکر کی حیثیت سے جانے پہچانے جاتے ہیں۔
ماضیِ بعید میں قربانیوں سے بھرپُور ایک مُنصفانہ غیر طبقاتی سماج کی تعمیر کے لیے پُر استقامت پُرعزم و شاندار جدوجہد میں گراں بہا قربانیاں دیں جو اس دھرتی کے جُہدکاروں کے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔
بسم اللہ خان کاکڑ (مصطفیٰ) نے قومی و عوامی فکر کو مدِنظر رکھ کر اپنی ذاتی حیثیت پر اجتماعی حیثیت کو فوقیت دی۔ بسم اللہ خان کی قربانیاں مظلُوم و محکُوم قوموں اور طبقوں کے قافلوں میں ایک توانا آواز کی حیثیت سے جُہدکاروں کے حوصلے بُلند کرنے اور منزلِ مقصُود کی جانب پیش قدمی جاری رکھنے کے لیے حرارت دے گی۔
بسم اللہ خان کاکڑ اب ہم میں نہیں رہے، اس کے نقشِ پا مِٹے نہیں بلکہ نسل در نسل جدوجہد جاری رکھنے کی نشاندہی کرتے رہیں گے، اور ان کا نام قابلِ احترام قائد کی حیثیت سے تاریخ میں زندہ رہے گا۔
بسم اللہ خان امر ہے
بسم اللہ خان زندہ و جاوید ہے۔
سوگوار: ڈاکٹر سلیم کُرد
22 دسمبر 2025

