تحریر:سردار محمدریاض
آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت پاکستان میں مہنگائی مکمل طور پر قابو سے باہر ہو چکی ہے۔ ریاستی بے حسی کی وجہ سے مہنگائی عوام کے لیے اجتماعی عذاب کی شکل اختیار کرچکی ہے۔یہ محض مہنگائی نہیں یہ ریاستی سرپرستی میں کیا گیا معاشی قتل ہے۔ یہ ایک ایسا منظم ظلم ہے جو آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور پورے پاکستان میں غریب کے دروازے پر دستک نہیں دیتا بلکہ دیواریں پھلانگتا ہے۔تالے توڑتا ہے اور سانسیں چھین لیتا ہے۔ یہ آگ دبے پاؤں نہیں چلتی یہ دہاڑتی ہے، چیختی ہے اور انسانوں کو جیتے جی راکھ بنا دیتی ہے۔ اس آگ کو کسی دشمن نے نہیں بھڑکایا۔ اس میں تیل ریاست کی بے حسی نے ڈالا ہے۔ حکمران طبقہ محفوظ ایوانوں میں بیٹھ کر صبر کے لیکچر بانٹ رہا ہے جیسے بھوک کوئی وقتی وہم ہو۔روٹی اب رزق نہیں ایک نایاب شے ہے۔ آٹا ترازو پر نہیں عزت نفس کے بدلے مل رہا ہے۔ سبزی، دال، دودھ اور گوشت اب اشرافیہ کی ملکیت ہیں۔ غریب کی پلیٹ خالی ہے۔ ماں باورچی خانے میں کھڑی نہیں رہتی شرمندگی میں سمٹ جاتی ہے کہ آج بچوں کو کون سا جھوٹ سنایا جائے۔ باپ تنخواہ کی پرچی نہیں دیکھتا اپنا قد ناپتا ہے جو ہر مہینے چھوٹا ہو جاتا ہے۔ یہ وہ سچ ہیں جو کسی بجٹ تقریر میں نہیں آتے مگر پورے سماج کو اندر سے کھا جاتے ہیں۔علاج اب شفا نہیں ایک کاروبار ہے۔ بیماری جسم سے زیادہ جیب پر حملہ کرتی ہے۔ سرکاری ہسپتال قبرستان کا منظر پیش کرتے ہیں۔ غریب کا مریض بیماری سے نہیں مرتا ادویات کی قیمتوں سے مرتا ہے۔ ماں باپ بچوں کو ڈاکٹر کے پاس نہیں لے جاتے کیونکہ فیس ان کی استطاعت کا مذاق اڑاتی ہے۔ تعلیم اب ترقی کا زینہ نہیں، طبقاتی چھلنی ہے۔ فیسیں بڑھتی ہیں۔کتابیں مہنگی ہوتی ہیں۔غریب کا بچہ اسکول چھوڑتا نہیں نظام اسے دھکے دے کر باہر نکالتا ہے۔ نوجوان ہاتھ میں ڈگری نہیں بے روزگاری کا طوق لیے پھر رہا ہے۔ ذہنی دباؤ، غصہ اور لاچارگی اس نسل کا مستقل روگ بن چکے ہیں۔ پھر یہی ریاست سوال کرتی ہے کہ نوجوان بگڑ کیوں رہے ہیں؟؟؟۔ سوال یہ نہیں کہ وہ کیوں ٹوٹ رہے ہیں؟؟؟ سوال یہ ہے کہ انہیں جان بوجھ کر کیوں توڑا جا رہا ہے؟؟؟تنخواہیں منجمد ہیں مگرقیمتیں درندہ صفت ہیں۔ مہینے کی ابتدا میں آمدن ایک دھوکا لگتی ہے اور آخر تک ایک لطیفہ بن جاتی ہے۔ بجلی، گیس اور پٹرول سہولت نہیں رہی اجتماعی سزا کا روپ دھار چکی ہے۔ ہر بل ایک یاد دہانی ہے کہ غریب ہونا جرم ہے۔ خوددار آدمی ادھار مانگتے ہوئے نظریں نہیں جھکاتاہے نظام اسے جھکا دیتا ہے۔ یہ بحران محض معاشی نہیں، یہ انسان کو اس کی عزت سے محروم کرنے کا منصوبہ ہے۔ذخیرہ اندوز، منافع خور اور مافیا کسی فلم کے ولن نہیں یہ اس ملک کے اصل فیصلہ ساز ہیں۔ انہیں خوف نہیں کیونکہ احتساب دفن ہو چکا ہے۔ قانون ان کے سامنے بچھ جاتا ہے اور غریب کے سامنے تلوار بن جاتا ہے۔ گودام بھرے پڑے ہیں اور گھروں میں چولہے سرد ہیں۔ منڈی میں نرخ آسمان کو چھو رہے ہیں اور ایوانوں میں مردہ خاموشی ہے۔ یہ خاموشی لاعلمی نہیں ملی بھگت ہے۔ ریاست جب آنکھ بند کرتی ہے تو لوٹ مار قانون بن جاتی ہے۔حکمران بیانات دیتے ہیں۔ اجلاس کرتے ہیں۔ کمیٹیاں بناتے ہیں اور مسئلے دفن کرتے ہیں۔ لفظوں کی بارش ہے مگر عمل کا قحط ہے۔ صبر کی تلقین اس عوام کو کی جا رہی ہے جس کے صبر کو بھوک چاٹ چکی ہے۔ قربانی کا درس وہ دیتے ہیں جن کی میزیں بھری ہیں،جن کے بچوں کی فیس محفوظ ہے اور جن کا علاج بیرون ملک ہوتا ہے۔ یہ تضاد نہیں یہ کھلی درندگی ہے۔ عوام کے زخموں پر مرہم نہیں رکھا جا رہا ان پر تقریروں کا نمک چھڑکا جا رہا ہے۔آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں یہ ظلم اور بھی بے نقاب ہے۔ پہاڑوں میں بسنے والے لوگ پہلے ہی نظرانداز تھے اب مہنگائی نے ان کی ہڈیاں تک توڑ دی ہیں۔ ضروری اشیا وہاں پہنچتے پہنچتے سونے کی قیمت اختیار کر لیتی ہیں۔ آمدن قلیل، اخراجات وحشی اور ریاستی توجہ صفر۔ یہ علاقے نقشے پر نشان نہیں بلکہ سانس لیتے انسان ہیں مگر ان کی چیخیں اقتدار کے بند کمروں میں داخلے کی اجازت نہیں رکھتیں۔یہ سب حادثہ نہیں یہ منصوبہ ہے۔ برسوں کی نااہلی، غلط فیصلوں اور عوام دشمن ترجیحات کا نتیجہ ہے۔ معیشت چند طاقتور گروہوں کے حوالے کر دی گئی ہے۔ پیداوار کا گلا گھونٹا گیا۔ درآمد کو نجات کہا گیا۔قرض کو حکمت عملی بنایا گیا۔ ہر قیمت غریب نے ادا کی۔ وہی غریب جو احتجاج کرے تو لاٹھی کھاتا ہے سوال کرے تو غدار کہلاتا ہے اور خاموش رہے تو بھوک سے مرجاتا ہے۔یہ تحریر سوال ہے حکمرانوں کے لیے کہ کب جاگو گے؟؟؟ کب مافیا کا ہاتھ روکو گے؟؟؟ کب غریب کو بوجھ نہیں انسان سمجھو گے؟؟؟ کب معاشی تشدد کو بھی جرم مانو گے؟؟؟غریب رو نہیں رہا وہ ٹوٹ پھوٹ کر بکھر رہا ہے۔ اس کی آہ بکاہ صرف فضا میں ہی نہیں گھل رہی بلکہ تاریخ میں درج ہو رہی ہے اگر آج اس چیخ کو دبایا گیا تو کل یہ خاموشی نہیں رہے گی۔ قوموں کے صبر کی حد ہوتی ہے اور یہ تحریر اسی حد کے آخری کنارے پر لکھی گئی ہے۔ یہ آئینہ ہے، تیز دھار، بے رحم اگر حکمران اس میں اپنا چہرہ نہ دیکھ سکیں تو یہ آئینے کا قصور نہیں ہوگا

