تحریر جلال غنی
بشیر احمد صاحب کا تعلیمی و تدریسی سفر
پانچ جنوری 1957ء کو تربت کے قدیم محلے عبدالسلام محلہ، سنگانی سر میں ایک ایسے چراغ نے آنکھ کھولی جو بعد ازاں علم و آگہی کی روشن علامت بن گیا۔ آپ کے والدِ محترم حاجی خداداد ایک باوقار اور محنتی انسان تھے، جنہوں نے اپنے بیٹے کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی۔
بشیر احمد صاحب نے اپنی ابتدائی اور ثانوی تعلیم گورنمنٹ بوائز ماڈل تربت سے حاصل کی اور وہیں سے میٹرک تک کا تعلیمی سفر مکمل کیا۔ اس دوران انہیں ایسے اساتذہ میسر آئے جنہوں نے ان کی شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
پہلی جماعت میں واجہ علی بخش، دوسری میں رشید صاحب، تیسری میں محمد عمر بلوچ، چوتھی میں ماسٹر عبداللہ اور دوست محمد جیسے اساتذہ نے ان کی علمی بنیاد مضبوط کی۔
اردو زبان سے خصوصی شغف پیدا کرنے میں اردو کے استاد خورشید صاحب (کوشقلات کے رہائشی) کا کردار نمایاں رہا۔ انہیں اردو سے جنون کی حد تک محبت تھی؛ وہ پڑھاتے پڑھاتے خود اردو کے کسی کردار میں ڈھل جایا کرتے تھے۔ اسی طرح کوشقلات سے تعلق رکھنے والے اساتذہ دوست محمد، ظفر بلوچ اور مولوی یوسف (استادِ دینیات) بھی ان کے تعلیمی سفر کا حصہ رہے۔
کوشقلات کے ایک جید عالمِ دین، جنہوں نے جنوبی افریقہ سے دینی تعلیم حاصل کی تھی، ان کے علمی بیانات سے متاثر ہو کر بشیر احمد صاحب اکثر پیدل کوشقلات جایا کرتے تھے۔ ان کے خطبات سننے والوں کی بڑی تعداد موجود ہوتی تھی۔
اسی دوران سرفراز صاحب (اردو داں سائنس ٹیچر) اور مولوی دین محمد (زامران سے تعلق رکھنے والے فارسی زبان کے استاد) نے بھی ان کی فکری تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ مولوی دین محمد فارسی زبان کے عاشق تھے اور اکثر طلبہ کو سائنس کے بجائے آرٹس کی جانب راغب کرتے تھے، کیونکہ اس وقت سائنس کے نصاب میں فارسی شامل نہیں تھی۔
1974ء میں بشیر احمد صاحب نے ڈگری کالج میں داخلہ لیا، جہاں ان کے اساتذہ میں پروفیسر خالد صاحب شامل تھے۔ اسی ادارے سے انہوں نے ایف اے کی ڈگری حاصل کی۔ اس وقت کالج میں طلبہ کی تعداد تقریباً دو سو تھی۔ ان کے ہم جماعتوں میں مالک بلوچ، ڈاکٹر اکبر ملک، ماسٹر نور بخش، ڈاکٹر جمیل اور کیپٹن اسلم شامل تھے۔
1980ء میں انہوں نے تربت عطا شاد ڈگری کالج سے بی اے کی ڈگری حاصل کی اور اعلیٰ تعلیم کے لیے جامعہ کراچی میں پولیٹیکل سائنس میں داخلہ لیا۔ اس دور میں کراچی میں ایم کیو ایم کی طلبہ تنظیم کے اثرات اور مسلسل ہڑتالوں نے تعلیمی نظام کو متاثر کیا، جس کے باعث ماسٹرز کی تکمیل میں تین سال لگے۔ بالآخر 1983ء میں انہوں نے جامعہ کراچی سے ایم اے پولیٹیکل سائنس کی ڈگری حاصل کی۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے یو ایس ایڈ میں بطور سپروائزر چھ ماہ خدمات انجام دیں۔ 1984ء میں انہیں خاران ڈگری کالج میں لیکچرر مقرر کیا گیا۔ دو سال اور چار ماہ کی ملازمت کے بعد دسمبر 1990ء میں ان کا تبادلہ تربت عطا شاد ڈگری کالج کر دیا گیا۔
1984ء میں انہیں اسسٹنٹ پروفیسر کا اعزاز ملا اور 2009ء میں ترقی پا کر ایسوسی ایٹ پروفیسر بنے۔ اسی سال انہیں کالج کا پرنسپل بھی مقرر کیا گیا۔
یہ ان کی پیشہ ورانہ دیانت داری اور نظم و ضبط کا ثبوت ہے کہ 2009ء سے 2016ء تک ان کے نام ایک بھی غیر حاضری درج نہیں ہوئی۔ بطور منتظم، انہوں نے تمام لیکچررز کو یہ آزادی دی کہ وہ تدریس یا لائبریری کے لیے جس کتاب کی ضرورت ہو، خرید لیں—اور اس کا بل وہ خود ادا کریں گے۔ یہ عمل ان کی علم دوستی اور طلبہ سے محبت کا واضح اظہار تھا۔
بالآخر 2016ء میں بشیر احمد صاحب نے ڈگری کالج سے ریٹائرمنٹ لی، مگر ان کی خدمات، کردار اور علمی ورثہ آج بھی تربت اور مکران کے تعلیمی حلقوں میں قدر و احترام سے یاد کیا جاتا ہے

