نصیرآباد میں نفرت کی سیاست کا خاتمہ بیرسٹر چیف سردار بابا غلام رسول خان عمرانی کی جدوجہد

تحریر :محمد یونس عمرانی

نصیرآباد وہ خطہ ہے جہاں ایک طویل عرصے تک سیاست کا مقصد عوامی خدمت نہیں بلکہ ذاتی مفاد، نفرت، اور قبضے کی طاقت بن گیا تھا۔ کئی برسوں تک یہاں ایک خاص طبقہ اپنی طاقت کو دوام دینے کے لیے بھائی کو بھائی سے لڑواتا رہا، منشیات کو فروغ دیتا رہا، بھتہ خوری کو جائز بناتا رہا، اور پورے علاقے کو خوف و فساد کی آماجگاہ بنائے رکھا یہ وہ سیاہ دور تھا جب عوام کی آواز دبائی جاتی تھی، زمینیں چھینی جاتی تھیں، اور نوجوان نسل کو تباہی کے دہانے پر دھکیلا جا رہا تھا۔ علاقے میں ترقی کا کوئی تصور نہیں تھا، اور سیاست صرف طاقت کی نمائش بن کر رہ گئی تھی۔لیکن جب بیرسٹر چیف سردار بابا غلام رسول خان عمرانی نے سیاست میں قدم رکھا، تو ایک نئی صبح کا آغاز ہوا۔ وہ صرف تعلیم یافتہ نہیں، بلکہ درد شناس اور عوام کے حقیقی ترجمان بن کر سامنے آئے۔ بیرسٹر چیف سردار بابا غلام رسول خان عمرانی نے سیاست کو نفرت سے نکال کر خدمت کے قالب میں ڈھالا۔نفرت سے امن کی طرف سفر بیرسٹر چیف سردار بابا غلام رسول خان عمرانی نے واضح موقف اختیار کیا کہ،سیاست کا مطلب لڑوانا نہیں، جوڑنا ہے عوام کو خوف میں رکھنا قیادت نہیں، ظلم ہے منشیات فروشوں کو تحفظ دینا جرم ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ نصیرآباد صرف چند لوگوں کی جاگیر نہیں، یہ پورے عوام کا ہےسردار بابا غلام رسول خان عمرانی نے وہ کام کیا جو کئی دہائیوں میں کوئی نہ کر سکانفرت، خونریزی، اور قبضہ کی سیاست کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا۔عوام کا اعتماد، دشمنوں کی بوکھلاہٹ۔بیرسٹر چیف سردار بابا غلام رسول خان عمرانی کی عوامی مقبولیت نے مخالفین کو بوکھلا دیا۔ جو لوگ سالوں تک خوف کی سیاست کرتے رہے، آج وہ اپنی طاقت کھوتے دیکھ کر سازشوں پر اتر آئے۔ لیکن عوام نے ہر بار ثابت کیا کہ وہ اب جاگ چکے ہیں ،وام نے یہ تسلیم کر لیا کہ سردار بابا غلام رسول خان عمرانی وہ رہنما ہے جو صرف وعدے نہیں کرتا، بلکہ نجات دہندہ ہے اس بدبودار نظام سے۔نصیرآباد کی تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی کہ ایک تعلیم یافتہ، جرات مند نوجوان آیا، جس نے نفرت کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ جس نے نوجوانوں کو قلم پکڑنے کی ترغیب دی، اور جو یہ پیغام دے کر آیا کہ یہ زمین عوام کی ہے، اور ان کے ساتھ کوئی ظلم برداشت نہیں کیا جائے گا۔بیرسٹر چیف سردار بابا غلام رسول خان عمرانی کا نام اب صرف ایک رہنما کا نہیں،بلکہ نصیرآباد میں نئی سیاست، امن، ترقی اور خدمت کا نشان بن چکا ہے۔نصیرآباد کا وارث سردار بابا غلام رسول خان عمرانی عوامی شعور کا سفر، خدمت کی سیاست بلوچستان کا دل کہلانے والا نصیرآباد گزشتہ بیس سالوں سے سیاسی استحصال، زبردستی کی طاقت، زمینوں پر قبضے، منشیات کے فروغ، اور بھائی کو بھائی سے لڑانے والی سازشی سیاست کا شکار رہا ہے۔ ایسے میں یہاں کے عوام نے ہر بار تبدیلی کے خواب تو دیکھے، مگر ہر بار انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسے ماحول میں جب عوام ہر طرف سے مایوس ہو چکے تھے، تب ایک نئی سوچ، ایک نئی قیادت، اور ایک نئی امید کے ساتھ میدان میں آئے سردار بابا غلام رسول خان عمرانی یہ نوجوان صرف ایک نام نہیں، بلکہ ایک وژن ہے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ، بیرسٹر کی حیثیت سے بین الاقوامی مواقع رکھتے ہوئے بھی سردار بابا غلام رسول خان عمرانی نے دنیا کی آسائشوں کو ترک کر کے اپنے علاقے، اپنی مٹی، اور اپنے لوگوں کے لیے آواز بلند کی۔ جب سردار بابا غلام رسول خان عمرانی نے جب نصیرآباد میں قدم رکھا تو حالات انتہائی خراب تھے۔ زمینوں پر قبضے، قتل و غارت، نفرت کی سیاست، اور سب سے بڑھ کر نوجوان نسل کو منشیات کی دلدل میں دھکیلنے کا عمل جاری تھا۔ مگر سردار بابا غلام رسول خان عمرانی نے اس گندے نظام سے سمجھوتہ نہیں کیا، بلکہ اس کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا۔ سردار بابا غلام رسول خان عمرانی نے کہا میں خاموش نہیں رہوں گا۔ میں نصیرآباد کے عوام کا سپاہی ہوں۔خدمت، خلوص اور استقامت کا سفر سردار بابا غلام رسول خان عمرانی نے نہ صرف مسائل کی نشاندہی کی بلکہ ان کے عملی حل بھی پیش کیے۔ سردار بابا غلام رسول خان عمرانی نے،مظلوموں کی زمینوں کے تحفظ کے لیے آواز اٹھائی منشیات کے خلاف مؤثر موقف اپنایا نوجوانوں کے لیے تعلیم،۔ روزگار،اور شعور کی راہیں ہموار کیں بھائی کو بھائی سے لڑوانے والی سیاست کا خاتمہ کرنے کا عزم کیا ہر طبقے کی نمائندگی کی، خواہ وہ کسان ہو، مزدور ہو یا طالبعلم ان کے خلاف پروپیگنڈا بھی کیا گیا، سازشیں بھی ہوئیں، مگر عوام نے ہر بار اُن کا ساتھ دیا کیونکہ وہ جان چکے ہیں کہ یہ شخص صرف وعدے نہیں کرتا، وہ درد بھی بانٹتا ہے اور عمل بھی کرتا ہے۔نصیرآباد کی شناخت بننے والا نام آج جب بھی کوئی نوجوان حق، تعلیم اور خودداری کی بات کرتا ہے، تو اس کی زبان پر پہلا نام سردار بابا غلام رسول خان عمرانی کا آتا ہے۔وہ صرف ایک لیڈر نہیں، ایک تحرک، ایک مشن، اور ایک عوامی جدوجہد کی علامت بن چکے ہیں۔سردار بابا غلام رسول خان عمرانی کا پیغام واضح ہے۔سیاست کا مقصد کرسی نہیں، عوام کی خدمت ہے۔ جینا مرنا عوام کے ساتھ ہے۔نصیرآباد کے باشعور عوام اب فیصلہ کر چکے ہیں کہ وہ ماضی کی طرح مزید استحصال برداشت نہیں کریں گے۔ اب ان کے پاس ایک ایسا رہنما موجود ہے جو تعلیم یافتہ بھی ہے، جرات مند بھی، اور سب سے بڑھ کر مخلص بھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں