قائداعظم کا یوم ولادت۔۔۔ خراج تحسین یا اجتماعی منافقت؟؟؟

تحریر:سردار محمدریاض
کس منہ سے مناتے ہو میرا یومِ ولادت؟یہ سوال میں عالمِ ارواح سے تم سے نہیں تمہارے ضمیروں سے کر رہا ہوں۔ میں وہی ہوں جس کے نام پر قراردادیں بنتی ہیں۔جس کی تصویر دیواروں پر آویزاں ہے۔ جس کے اقوال نصاب میں درج ہیں مگر جس کے اصول روزانہ پامال ہوتے ہیں۔ تم مجھے یاد تو کرتے ہولیکن مجھے جیتے جاگتے پاکستان میں تلاش نہیں کرتے ہو۔ تم نے میرے نام کو علامت بنا دیا اور میرے نظریے کو رسمی عبارت میں تبدیل کردیا۔میں نے تمہیں ایک ایسا ملک دیا تھا جو وسائل سے محروم ضرور تھا مگر اخلاصِ نیت سے مالا مال تھا۔ میں نے تمہیں سمت دی تھی۔ راستہ بتایا تھا۔ آئین کی بنیاد رکھ دی تھی۔ میں نے واضح کہا تھا کہ ریاست کا پہلا فریضہ انصاف ہے طاقت نہیں۔ میں نے کہا تھا کہ قانون سب کے لیے برابر ہوگا چاہے وہ گلی کا مزدور ہو یا ایوانوں کا مکین ہو۔ آج میں دیکھتا ہوں کہ قانون فائلوں میں دفن ہے۔ فیصلے تاخیر کا شکار ہیں۔ انصاف تاریخ کی کتاب بن چکا ہے۔ عدالتیں بھری ہیں مگر مظلوم خالی ہاتھ لوٹتا ہے۔میں نے کہا تھا کہ ریاست ماں کی طرح ہوگی جو اپنے سب بچوں کو ایک نظر سے دیکھے گی۔ آج یہ ماں کمزور کے لیے اجنبی اور طاقتور کے لیے شفیق بن چکی ہے۔ کہیں آٹا لائن میں کھڑا ہے تو کہیں علاج خواب بن گیا ہے اور کہیں تعلیم ایک طبقے کی جاگیر ہے۔ ریاست ایک دفتر بن گئی ہے جہاں انسان نہیں کاغذ بولتے ہیں۔ فائل آگے بڑھتی ہے تو حق ملتا ہے فائل رک جائے تو زندگی رک جاتی ہے۔فائل کیسے آگے بڑھتی ہے سبھی کو معلوم ہے۔میں نے مذہب کو انسان کی روح کا معاملہ کہا تھا اقتدار کا ہتھیار نہیں۔ آج مذہب نعروں میں بٹا ہوا ہے۔ مسلک سیاست کا ایندھن بن چکا ہے۔ برداشت ایک ناپید لفظ بن گیا ہے۔ تم نے ایمان کو تقسیم کر دیا مگر اخلاق کو یکجا نہ کر سکے۔ مسجدیں آباد ہیں مگر کردار ویران۔عوام سے کہنا چاہتا ہوں کہ تم نے بھی سہولت کے مطابق مجھے یاد رکھا۔ تم مہنگائی پر روتے ہو مگر ووٹ ضمیر کی بجائے خوف کے سائے تلے یااپنے ذاتی مفاد کو سامنے رکھ کردیتے ہو۔ تم بدعنوانی کو برا کہتے ہومگر روزمرہ زندگی میں اسے معمول سمجھ لیتے ہو۔ تم ظلم کے خلاف بات کرتے ہومگر خطرہ آئے تو خاموشی اختیارکر لیتے ہو۔ یاد رکھو ریاست صرف حکمران نہیں بگاڑتے عوام کی خاموشی بھی اس زوال میں شریک ہوتی ہے۔ جب تم ناانصافی دیکھ کر نظریں چرا لیتے ہو تو تم بھی اس جرم کا حصہ بن جاتے ہو۔اشرافیہ سے کہنا چاہوں گا کہ تم نے اس ملک کو تجربہ گاہ بنا لیا۔ تم نے قانون کو مصلحت کے ترازو میں تول کر موڑ لیا۔ تم نے اداروں کو کمزور کیا تاکہ تمہاری گرفت مضبوط رہے۔ تم نے معیشت کو قرضوں کے سہارے چلایا اور قوم کو مستقبل کے بوجھ تلے دبا دیا۔ تم بیرونِ ملک اثاثے رکھتے ہو مگر حب الوطنی کی تقریر پاکستان میں کرتے ہو۔ تم اپنے بچوں کو باہر پڑھاتے ہو مگر نظام کو بہتر بنانے کا دعویٰ پاکستان میں کرتے ہو۔ تم نے طاقت کو استحقاق سمجھا اور خدمت کو کمزوری تصور کرلیا۔حکمرانوں کے نام میں صاف صاف کہتا ہوں کہ اقتدار امانت ہے تماشا نہیں ہے۔ میں نے سیاست کو اصولوں سے جوڑا تھا تم نے اسے مفادات سے باندھ دیا۔ میں نے اختلاف کو جمہوریت کی جان کہا تھا، تم نے اسے غداری کی فہرست میں ڈال دیا۔ میں نے اداروں کو آئین کا پابند دیکھنا چاہا تھا تم نے انہیں دباؤ اور مصلحت کا غلام بنا دیا۔ تم ہر ناکامی کا الزام حالات پر ڈال دیتے ہو مگر یہ نہیں بتاتے کہ تم نے حالات بدلنے کے لیے کیا کیا؟ اگر فیصلے کرنے کی ہمت نہیں تو کرسی پر بیٹھنے کا حق بھی نہیں ہے۔میں دیکھ رہا ہوں کہ معیشت لڑکھڑا رہی ہے۔ نوجوان مایوسی میں ڈوب رہا ہے۔ ہنر مند ہاتھ روزگار کو ترس رہے ہیں۔ میں نے نوجوان کو اس ملک کا سرمایہ کہا تھا تم نے اسے قطاروں اور درخواستوں میں کھڑا کر دیا۔ میں نے تعلیم کو ترقی کی کنجی سمجھا تھا تم نے اسے طبقاتی دیوار بنا دیا۔ میں نے صحت کو ریاست کی ذمہ داری کہا تھا تم نے اسے کاروبار بنا دیا۔تم ہر سال میرا یومِ ولادت مناتے ہو۔ سیمینار ہوتے ہیں تقاریر کی جاتی ہیں۔خصوصی ایڈیشنز شائع ہوتے ہیں مگر اس دن تم اپنے گریبان میں جھانکنے سے گھبراتے ہو۔ تم یہ سوال نہیں اٹھاتے کہ ہم نے کس اصول سے انحراف کیا؟کہاں سچ کو قربان کیا؟کب مفاد کو وطن پر ترجیح دی؟ تم نے میرے نام کو ڈھال بنا لیا تاکہ اپنی کوتاہیوں کو چھپا سکو۔میں نے تمہیں نفرت سے بچنے کا سبق دیا تھاتم نے نفرت کو سیاست کی زبان بنا لیا۔ میں نے اتحاد کی بات کی تھی، تم نے شناختوں کے نام پر خلیجیں گہری کر دیں۔ میں نے کمزور کے ساتھ کھڑے ہونے کو کہا تھا تم طاقتور کے سائے میں پناہ ڈھونڈتے رہے۔اگر تم واقعی میرا یومِ ولادت منانا چاہتے ہو تو رسم چھوڑ دو بلکہ عہد اختیار کرو۔ قانون کو اپنے خلاف بھی قبول کرو۔ سچ کو نقصان کے باوجود بولو۔ فیصلے اپنی انا کے خلاف مگر ریاست کے حق میں کرو۔ اداروں کو مضبوط بناؤ افراد کو نہیں۔ عوام کو حقیقی عزت دو صرف نعروں تک محدود نہ کرو۔ اختلاف کو برداشت کرو اسے دبانے کی کوشش نہ کرو۔۔۔ورنہ یاد رکھو پھول رکھنے سے قبریں مطمئن نہیں ہوتیں۔ تصویریں لگانے سے تاریخ خاموش نہیں ہوتی۔بلند آواز تقریروں سے مردہ ضمیر زندہ نہیں ہوتے اگر تم اسی طرح میرا یومِ ولادت مناتے رہے تو یہ جشن نہیں ہوگا ایک اجتماعی منافقت ہوگی۔میں عالمِ ارواح سے اس امید پر آپ سے مخاطب ہوں کہ شاید کوئی دل لرز جائے۔کوئی آنکھ کھل جائے۔ کوئی ہاتھ ظلم سے رک جائے۔کوئی قدم درست سمت میں اٹھ جائے۔ میں محمد علی جناح ہوں۔ میں نے پاکستان اس لیے نہیں چاہا تھا کہ یہاں قانون کمزور اور طاقتور محفوظ ہوں۔ میں نے پاکستان اس لیے نہیں بنایا تھا کہ یہاں سچ بولنا جرم بن جائے۔ میں نے پاکستان اس لیے نہیں مانگا تھا کہ انصاف راستے میں دم توڑ دے اور ضمیر سہولت کی راہ لے لے۔اگر یہ بات تمہیں تلخ لگتی ہے تو یاد رکھو سچ ہمیشہ تلخ ہی ہوتا ہے مگر یہی تلخی قوموں کو جگاتی ہے اور شاید یہی تمہارے لیے آخری موقع ہے کہ تم جاگ سکو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں