تحریر: محمد مظہررشید چودھری
بلدیہ ہال اوکاڑہ میں آج فضا کچھ مختلف تھی۔ خاموشی میں وقار تھا اور آنکھوں میں نمی۔ یہ کوئی رسمی تقریب نہیں تھی بلکہ ایک ایسے شخص کی یاد میں منعقد کی گئی محفل تھی جس نے لفظ، فکر اور عمل کے ذریعے ایک پورے شہر کو سوچنے کا سلیقہ دیا۔ ترقی پسند فکر، صحافت اور سماجی جدوجہد سے وابستہ معروف دانشور، ادیب اور شاعر حشمت علی خان لودھی کی یاد میں تعزیتی ریفرنس منعقد ہوا، جہاں واقعی ایک عہد کو یاد کیا گیا۔اس تعزیتی ریفرنس کا اہتمام صحافی اور محقق احمد نواز الغنی اور ان کے ساتھیوں نے کیا۔ تقریب میں ادیبوں، شاعروں، صحافیوں، محققین اور سماجی کارکنوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ سب کا مشترکہ احساس یہی تھا کہ حشمت علی خان لودھی کا انتقال محض ایک فرد کا بچھڑ جانا نہیں بلکہ اوکاڑہ کی فکری، ادبی اور سماجی تاریخ میں ایک گہرا خلا پیدا کر گیا ہے۔مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ حشمت علی خان لودھی صرف ایک صحافی یا ادیب نہیں تھے بلکہ ایک سوچ، ایک روایت اور ایک مسلسل جدوجہد کا نام تھے۔ وہ مظلوم مزدور، کسان اور عام انسان کے حق میں بولنے والی آواز تھے۔ اختلافِ رائے کے شور میں بھی انہوں نے کبھی شائستگی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور نظریے کے ساتھ انسان کو ہمیشہ مقدم رکھا۔ یہی وصف انہیں دوسروں سے ممتاز کرتا تھا۔تقریب میں اس بات کا بھی اظہار کیا گیا کہ ایسے لوگ جسمانی طور پر رخصت ہو جاتے ہیں مگر ان کی فکر زندہ رہتی ہے، اور وہ آنے والی نسلوں کو راستہ دکھاتی ہے۔ بلدیہ ہال اوکاڑہ میں آج آنکھیں نم ضرور تھیں، مگر عزم روشن تھا۔ شرکا اس بات پر متفق نظر آئے کہ حشمت علی خان لودھی کی یاد، ان کی سوچ اور ان کا فکری سفر یہاں ختم نہیں ہوگا۔سانچ کے قارئین کرام!گزشتہ دنوں معروف دانشور، ادیب اور شاعر حشمت علی خان لودھی کے انتقال سے اوکاڑہ کی فضا سوگوار ہو گئی تھی۔ انہی کی یاد میں آج اس تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں نہ صرف ان کی خدمات کو یاد کیا گیا بلکہ ان کے چھوڑے ہوئے فکری ورثے پر بھی سنجیدہ گفتگو ہوئی۔تقریب کے دوران راقم الحروف (محمد مظہررشید چودھری) کی ڈاکٹر/ریسرچر احمد نواز الغنی سے گفتگو ہوئی تو انہوں نے کہا کہ یہ تعزیتی ریفرنس انجمن ترقی پسند مصنفین کی جانب سے منعقد کیا گیا ہے۔ ان کے بقول حشمت علی خان لودھی اس چھوٹے سے شہر کے ایک بہت بڑے دانشور تھے، جنہوں نے صدیوں کی دانش کو اپنی ذات میں سمیٹ کر ہمارے عہد تک پہنچایا۔وہ اس شہر کے علم، حکمت اور دانش کے فکری رہنما تھے، جن کا اثر آنے والی نسلوں تک قائم رہے گا۔ احمد نواز الغنی نے مزید کہا کہ حشمت لودھی صاحب ترقی پسند نظریے کے پختہ پابند تھے۔ ایک وضع دار، شفیق اور باوقار شخصیت کے مالک تھے۔ جو بھی ان کے پاس سیکھنے آتا، وہ نہایت سادہ اور آسان الفاظ میں اپنے نظریے، اپنی دانش اور اپنی حکمت کی بات سمجھاتے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی وہ اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں موجود ہیں اور بہت دیر تک موجود رہیں گے۔تعزیتی ریفرنس میں معروف شاعر ڈاکٹر نثار احمداور ڈاکٹر فضل احمد خسرو بھی موجود تھے۔ ان سے جب حشمت علی خان لودھی کے حوالے سے یادوں کے بارے میں پوچھا گیا تو ڈاکٹر نثار احمد نے بتایا کہ ان کی ملاقات مرحوم سے بیس پچیس سال قبل ہوئی تھی۔ اس وقت حشمت لودھی نے یہاں لیبر فرنٹ کے نام سے ایک تنظیم قائم کی تھی، جس میں انہیں بھی مدعو کیا گیا تھا۔ڈاکٹر نثار احمد کے مطابق اس موقع پر قومی سطح کے معروف سیاستدان، جن میں قمر زمان کائرہ اور منظور چودھری شامل تھے، اوکاڑہ آئے اور انہوں نے وہاں یہ اعلان کیا کہ ہم نے سیاست سیکھنے کا ہنر اوکاڑہ کی ملوں کے مزدور لیڈروں سے سیکھا ہے، اور ان میں حشمت لودھی بھی شامل ہیں۔ ڈاکٹر نثار احمد کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے بعد ان کے دل میں حشمت لودھی کا احترام اور بڑھ گیا، اور یہ احترام آج بھی اسی شدت کے ساتھ قائم ہے۔یہ تعزیتی ریفرنس محض رسمی بیانات تک محدود نہیں رہا بلکہ ایک ایسی محفل میں تبدیل ہو گیا جہاں ماضی، حال اور مستقبل ایک دوسرے سے جڑتے محسوس ہوئے۔ ہر مقرر کی بات میں یہ احساس نمایاں تھا کہ حشمت علی خان لودھی نے جو چراغ جلایا تھا، وہ بجھا نہیں بلکہ مزید لوگوں کے ہاتھوں میں منتقل ہو چکا ہے۔آج کے اس دور میں، جہاں مفاد، تیزی اور سطحیت غالب آ چکی ہے، حشمت علی خان لودھی جیسے لوگ ہمیں یہ یاد دلاتے ہیں کہ فکر، اصول اور انسان دوستی اب بھی زندہ رہ سکتی ہے، اگر نیت سچی ہو اور مقصد واضح ہو۔ اوکاڑہ کی مٹی خوش نصیب ہے کہ اس نے ایسے لوگ پیدا کیے، اور اس شہر کے باسی خوش قسمت ہیں کہ انہیں ایسے کردار یاد رکھنے کو ملے۔تعزیتی ریفرنس اختتام پذیر ہوا تو یوں محسوس ہوا جیسے حشمت علی خان لودھی خود کہیں آس پاس موجود ہوں، خاموش مسکراہٹ کے ساتھ، یہ دیکھتے ہوئے کہ ان کی بات، ان کی سوچ اور ان کا خواب ابھی زندہ ہے.

محمد مظہررشید چودھری (03336963372)

