عدمِ توجہی

تحریر۔شاہد شکیل
دنیا کی اکثریت،بالخصوص بچوں اور نوجوانوں کا طبقہ آج عدمِ توجہی جیسی کیفیت سے نظر آتا ہے،تاہم یہ کوئی ایسی عارضی یا عضوی بیماری نہیں جسے محض تجربہ گاہوں میں قید کر کے پرکھا جائے بلکہ یہ انسانی ذہن کی ایک فطری کیفیت ہے، ذہن کبھی سکون پذیر نہیں ہوتا،وہ جمود کو قبول نہیں کرتابلکہ ہر لمحہ، ہر ثانیہ سوچ کی نئی کروٹ بدلتا رہتا ہے،یہی تغیر یہی بے قراری اس کی اصل پہچان ہے۔کسی بھی بات کو سننے اور اُس کی گہرائی تک پہنچنے کے لئے توجہ کی اَشد ضرورت ہوتی ہے،جب اِنسان عدمِ توجہی کا شکار ہوتا ہے تو اُس کی بنیادی طور پر دو وجوہات ہوتی ہیں، یا تو اُس کی سماعت کمزور ہوتی ہے یا پھر زیرِ گفتگو موضوع اُس کے لئے غیر دلچسپی کا باعث ہوتا ہے،اِن دونوں صورتوں میں اکثر یوں ہوتا ہے کہ وہ اہم اور ناگزیر باتوں کو بھی نظر انداز کر دیتا ہے جس کا خمیازہ بعد ازاں نقصان کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے۔صحت کے ادارے برائے اطفال،نوجوانان، صحت و تعلیم نے بچوں اور نوجوانوں میں پائی جانے والی عدمِ توجہی کے مسلئے پر ایک تفصیلی تحقیق انجام دی،اِس رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ توجہ کی کمی کو محض ایک بیماری قرار دینا درست نہیں، اکثر بچے طبعی طور پر زیادہ دیر ایک جگہ سکون سے نہیں بیٹھ سکتے اور مختلف حرکات کے ذریعے یا تو خود کو مشغول رکھتے ہیں یا دوسروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروانے کی کوشش کرتے ہیں، بعض بچوں کو کسی بات پر مرتکز کرنے اور سمجھانے کے لئے طویل وقت درکار ہوتا ہے کیونکہ وہ فطری طور پر ہائپر ایکٹیویٹی(عدمِ توجہی) کا رحجان رکھتے ہیں۔ ہر بچے کی سوچ، فہم اور صلاحیت دوسرے بچے سے فطری طور پر مختلف ہوتی ہے،جو اُسے پیدائش سے ہی حاصل ہوتی ہے،کوئی بچہ اپنی فطرت میں جارحانہ مزاج رکھتا ہے،جبکہ کوئی نرم دل،حساس اور گونا گوں صلاحیتوں سے مالا مال ہوتا ہے۔ یہی انفرادی تفاوت بچوں کی شخصیت کو الگ پہچان عطا کرتا ہے اور اُنہیں ایک دوسرے سے ممتاز بناتا ہے۔ مطالعہ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ توجہ سے محروم بچوں اور نوجوانوں کے دِماغ کے بعض حصوں میں تسلسل اور ضبطِ عمل کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت کمزور ہوتی ہے،اِسی عدمِ توازن کے باعث وہ ذہنی بے چینی اور اِضطراب کا شکار رہتے ہیں کیونکہ اُن کے دِماغ اور سوچ کے درمیان ہم آہنگی متأثر ہو جاتی ہے جو اُنہیں شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیتی ہے، یہی کیفیت اُنہیں عدمِ توجہی کی طرف دھکیل دیتی ہے اور کسی بھی عمل پر درست انداز میں عمل درآمد اُن کے لئے دشوار ہو جاتا ہے،مزید برآں،مختلف اسباب اور عوامل کی باہمی شراکت اُن کی نفسیات میں خلل کو بڑھا دیتی ہے، غیر مستحکم ماحول، گھریلو کشیدگیاں اور خاندانی مسائل بھی اِس کیفیت کے اہم اور نُمایاں محرکات میں شمار کئے جاتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض بچوں میں ہائپر ایکٹیویٹی کی بنیادی وجہ والدین کی ناکافی توجہ اور مناسِب دیکھ بھال کا فقدان بھی ہو سکتا ہے۔ اِ س کیفیت کی اِبتدائی علامات عموماََ بچے کے پہلے سات برسوں ہی میں ظاہر ہو جاتی ہیں جہاں یہ اندازہ ہونے لگتا ہے کہ بچے کی سوچ اور توجہ کتنی مضبوط، متوازن اور با صلاحیت ہے یا وہ جارحانہ رحجان کی طرف مائل ہو رہا ہے،اگر بچپن میں بچے کو منصفانہ، پُر خلوص اور مشفقانہ ماحول میسر نہ آئے تو اُس کی صلاحیتیں بری طرح متأثر ہوتی ہیں، اِس لئے کہ گھریلو زندگی،والدین کا رویّہ اور اِرد گِرد کا ماحول بچے کی ذہنی و نفسیاتی نشو و نما سے گہرا تعلق رکھتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ بچے کے لئے گھر اور اُس کا ماحول سب سے زیادہ اہم اور فیصلہ کن کِردار ادا کرتا ہے۔دوسرے مرحلے میں جب بچہ نرسری یا کنڈر گارٹن جانا شروع کرتا ہے تو اُس کی پوشیدہ صلاحیتیں رفتہ رفتہ اجاگر ہونے لگتی ہیں، مثلاََ کھیل کود،تعمیری سرگرمیاں، سماجی میل جول اور دوستی جیسی مثبت سرگرمیاں اُس کی شخصیت کو نکھارتی ہیں جبکہ اس کے برعکس جارحانہ مزاج کے تحت توڑ پھوڑ،بے جا ضد اور دیگر منفی رویّے اُسے مزید مشکلات سے دوچار کر سکتے ہیں۔تیسرے مرحلے میں سکول کا کردار نہایت اہمیت اختیار کر لیتا ہے،جہاں اکثر بچے عدم توجہی کے باعث مختلف مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں، وہ ہوم ورک اور سکول کے دیگر معاملات میں دلچسپی نہیں لیتے اور اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برتنے لگتے ہیں۔لکھنے پڑھنے،حروف کی پہچان اور تعلیمی سر گرمیاں کم ذہین یا عدم توجہ کے شکار بچوں کے لئے ایک بڑا چیلنج بن جاتی ہے، مزید یہ کہ گھریلو زندگی کے منفی اثرات بھی سکول میں بچے کے رویوں پر نمایاں طور پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ہائپر ایکٹیویٹی کے اثرات عموماََ تین برس کی عمر سے ہی ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور اگر بروقت اس پر قابو نہ پایا جائے تو یہ کیفیت تما م عمر بھی برقرار رہ سکتی ہے۔عدم توجہی کے شکار بچے خصوصی توجہ اور امداد کے طلبگار ہوتے ہیں،ان کے روزمرہ کے مسائل،ضروریات اور تقاضوں کو بہتر انداز میں سلجھانے کیلئے ملبوسات،خوراک اور ہوم ورک کی مناسب اور باقاعدہ نگرانی کو بھی علاج کے غیر دواوی طریقوں میں شامل کیا جاتا ہے، ایک منظم طرزِ زندگی، اصول و ضبط کے تحت معاملات کو ترتیب دینے میں والدین کا کردار نہایت اہم ہوتا ہے کیونکہ وہی بچوں کیلئے سب سے بڑے مددگار اور ساتھی ثابت ہوتے ہیں،والدین کی یہ معاونت بچوں میں زندگی کے چیلنجز سے نمٹنے کی قوت پیدا کرتی ہے جس کے نتیجے میں اُن کی خود مختاری، خود اعتمادی اور اپنی صلاحیتوں کو درست طور پر بروئے کار لانے کی صلاحیت میں نمایاں اِضافہ ہو تا ہے۔والدین کا فرض ہے کہ بچوں کو تنہا نہ چھوڑیں، اُن کی صحت پر توجہ دیں اور بھرپور حوصلہ افزائی کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں