تحریر: محمد مظہررشید چودھری
کچھ ملاقاتیں محض ملاقاتیں نہیں ہوتیں، وہ سوچ کو ترتیب دیتی ہیں اور ذہن میں کئی سوالوں کے جواب خاموشی سے رکھ دیتی ہیں۔ جامع مسجد عثمانیہ، گول چوک میں ہونے والی ہماری حالیہ ملاقات بھی کچھ ایسی ہی تھی۔ بظاہر مقصد ایک مبارکباد تھا، مگر واپسی پر جو احساس دل و دماغ میں ٹھہر گیا وہ اس سے کہیں بڑھ کر تھا۔خطیبِ شہر حضرت مولانا قاری سعید احمد عثمانی حفظہ اللہ کا تخصص فی الفقہ، یعنی مفتی کورس مکمل کرنا ایک ایسی خبر ہے جسے صرف رسمی انداز میں نہیں دیکھا جا سکتا۔ آج کے دور میں جب علمِ دین کو یا تو محض خطابت تک محدود کر دیا گیا ہے یا پھر اسے زمانے سے کٹا ہوا سمجھا جاتا ہے، ایسے میں کسی خطیب کا باقاعدہ فقہی تخصص حاصل کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ سنجیدہ دینی قیادت ابھی زندہ ہے۔راقم الحروف (محمد مظہررشید چودھری)،ضلعی صدر مسلم لیگ (ن) شعبہ خواتین مس صائمہ رشید ایڈووکیٹ ہائی کورٹ اور طالبات ارفع رشید، آئرہ رشید اور تزئین اعجاز کے ہمراہ جامع مسجد عثمانیہ پہنچے تو استقبال میں جو شفقت اور سادگی نظر آئی، وہی دراصل اس ملاقات کی بنیاد بن گئی۔ قاری سعید احمد عثمانی کا انداز نہ رسمی تھا، نہ مصنوعی۔ ایک طالب علمانہ تواضع اور ایک عالم کی سنجیدگی ساتھ ساتھ محسوس ہو رہی تھی۔مبارکباد کے بعد گفتگو کا آغاز ہوا تو جلد ہی احساس ہوا کہ یہ محض ایک رسمی نشست نہیں بلکہ ایک فکری مکالمہ ہے۔ میں ذاتی طور پر اس بات سے متاثر ہوا کہ حضرت مفتی قاری سعید احمد عثمانی نے گفتگو کو وعظ یا جذباتی بیان کی سمت نہیں موڑا بلکہ دلیل، فقہ اور حوالہ کے ساتھ بات کی۔ یہی وہ فرق ہے جو ایک خطیب اور ایک مفتی کے درمیان واضح ہوتا ہے۔بات موجودہ دور کے ان مسائل تک پہنچی جو ہر صاحبِ شعور کو پریشان کرتے ہیں۔ بالخصوص اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد کو احتساب سے استثنا دینے کا رجحان۔ ایک عام شہری کے طور پر یہ سوال میرے ذہن میں ہمیشہ رہا ہے کہ کیا اسلام میں بھی طاقتور کے لیے الگ اور کمزور کے لیے الگ معیار ہے؟ حضرت مفتی قاری سعید احمد عثمانی نے اس سوال کا جواب کسی جذباتی جملے میں نہیں بلکہ فقہی اصولوں کی روشنی میں دیا۔ انہوں نے حضرت مفتی تقی عثمانی دامت برکاتہم العالیہ کے فتاویٰ کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ اسلام میں عدل کی بنیاد ہی یہ ہے کہ امیر و غریب، حاکم و محکوم سب قانون کے سامنے برابر ہوں۔ یہ بات سن کر احساس ہوا کہ مسئلہ دین کا نہیں، ہماری نیتوں اور ترجیحات کا ہے۔سود کے موضوع پر گفتگو میرے لیے خاص طور پر غور و فکر کا باعث بنی۔ ہم ایک ایسے معاشی نظام میں سانس لے رہے ہیں جہاں سود کو ناگزیر بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ حضرت مفتی قاری سعید احمد عثمانی نے نہ کسی نعرے بازی سے کام لیا اور نہ ہی کسی جذباتی فتوے سے، بلکہ یہ سمجھایا کہ سود کیوں حرام ہے اور یہ فرد، خاندان اور معاشرے کو کس طرح آہستہ آہستہ کھوکھلا کر دیتا ہے۔ ان کی گفتگو میں ایک درد بھی تھا اور ایک ذمہ داری کا احساس بھی، جو شاید اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب علم محض کتابوں تک محدود نہ رہے۔وراثت کے اسلامی قوانین پر بات ہوئی تو مجھے بار بار اپنے اردگرد کے وہ خاندان یاد آتے رہے جہاں وراثت ناانصافی کی نذر ہو چکی ہے۔ حضرت مفتی قاری سعید احمد عثمانی نے جس وضاحت سے وراثت کے احکام بیان کیے، اس سے یہ بات واضح ہوئی کہ اسلام نے کسی طبقے کو محروم کرنے کے لیے نہیں بلکہ خاندان کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے یہ نظام دیا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہم نے ان قوانین کو صرف کاغذی سمجھ رکھا ہے۔اس نشست کا ایک پہلو جو مجھے ذاتی طور پر بہت متاثر کر گیا، وہ حضرت کی طالبات سے خصوصی توجہ تھی۔ انہیں دینی کتب کا تحفہ دینا، سوالات سننا اور ان کی حوصلہ افزائی کرنا اس بات کی علامت ہے کہ علمِ دین کو آئندہ نسل تک منتقل کرنے کا شعور موجود ہے۔ مولانا عبدالعزیز رائپوری رحمہ اللہ کی منازل اور مولانا خیر محمد جالندھری رحمہ اللہ کی نمازِ حنفی جیسے تحائف محض کتابیں نہیں بلکہ ایک فکری وراثت ہیں۔آخر میں پرتکلف لنگر کا اہتمام کیا گیا۔ میں نے اس لمحے یہ سوچا کہ ہماری دینی روایت میں لنگر کیوں اتنی اہمیت رکھتا ہے۔ شاید اس لیے کہ یہ علم کے بعد عمل اور مساوات کی علامت ہوتا ہے۔ ایک ہی دسترخوان، ایک ہی کھانا، کوئی امتیاز نہیں۔ یہی وہ روح ہے جو دین کو زندہ رکھتی ہے۔جامع مسجد عثمانیہ سے واپسی پر یہ احساس شدت سے ابھرا کہ اگر ہمارے شہروں میں ایسے مفتیانِ کرام موجود ہوں جو فقہ کے ساتھ عصرِ حاضر کی سمجھ بھی رکھتے ہوں تو بہت سے ابہام خود بخود ختم ہو سکتے ہیں۔ حضرت مفتی قاری سعید احمد عثمانی کا تخصص فی الفقہ مکمل کرنا محض ایک ذاتی کامیابی نہیں بلکہ ایک اجتماعی امید ہے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں علم پر عمل کی توفیق عطا فرمائے، ان کے فتاویٰ کو امت کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بنائے اور ہمیں بھی ایسے اہلِ علم کی قدر کرنے کی توفیق دے۔ کیونکہ علم جب منصب بن جائے تو معاشرے کی سمت درست ہونے لگتی ہے
محمد مظہررشید چودھری (03336963372)


