تحریر محمد مظہررشید چودھری
پنجاب میں پچیس برس بعد بسنت اور پتنگ بازی کی مشروط اجازت نے ایک مرتبہ پھر ایک ایسے موضوع کو زندہ کر دیا ہے جس کا تعلق صرف ثقافت یا تفریح سے نہیں بلکہ براہِ راست انسانی جان، قانون کی عملداری اور ریاستی ذمہ داری سے ہے۔ حکومتِ پنجاب کی جانب سے جاری کیا گیا’پنجاب کائٹ فلائنگ آرڈیننس 2025‘ بظاہر ایک تہوار کی واپسی کا اعلان ہے، مگر درحقیقت یہ دو دہائیوں پر محیط ایک تلخ قانونی اور انتظامی تجربے کا تسلسل بھی ہے۔ اس فیصلے کو درست تناظر میں سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ بسنت، پتنگ بازی اور اینٹی کائٹ فلائنگ قوانین کی پوری تاریخ کو درست زمانی ترتیب کے ساتھ دیکھا جائے۔بسنت صدیوں سے پنجاب کی تہذیبی شناخت کا حصہ رہی ہے۔ لاہور میں یہ تہوار بہار کی آمد، شہری زندگی کی رونق اور اجتماعی خوشی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ پتنگ بازی کے ساتھ ایک مکمل معیشت جڑی ہوئی تھی۔ پتنگ سازی، ڈور بنانے، کاغذ، رنگ، بانس، چھوٹے کاریگر، دکاندار، ہوٹل انڈسٹری اور سیاحت، سب بسنت کے دنوں میں عروج پر ہوتے تھے۔ مگر اسی تہوار میں شامل ہونے والا ایک غیر ذمہ دارانہ عنصر آہستہ آہستہ انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن گیا۔بسنت کے حوالہ سے جنرل پرویز مشرف کا دور سب سے زیادہ میڈیا کوریج کا رہا،جنرل پرویز مشرف سات اکتوبر 1998 کو چیف آف آرمی اسٹاف کے عہدے پر فائز ہوئے، بارہ اکتوبر 1999 کو نواز شریف کی حکومت ختم کرکے چیف ایگزیکٹو پاکستان بن گئے،ان کا دورِ حکومت چیف آف آرمی اسٹاف، چیف ایگزیکٹو اور بعد ازاں صدر پاکستان(سات اکتوبر 1998 سے 18 اگست 2008)تک محیط رہا۔ ابتدائی برسوں میں بسنت کو ایک ثقافتی اور سیاحتی سرگرمی کے طور پر دیکھا جاتا رہا، مگر 2001 کے بعد حالات تیزی سے خراب ہونے لگے۔ کیمیکل اور دھاتی ڈور کے استعمال نے بسنت کو خوشی کے تہوار سے جانی خطرے میں بدل دیا۔ موٹر سائیکل سواروں کے گلے کٹنے کے واقعات، بچوں اور بزرگوں کی ہلاکتیں، بجلی کے نظام کو نقصان اور ہوائی فائرنگ سے اموات نے ریاست کو مجبور کیا کہ وہ مداخلت کرے۔اسی پس منظر میں 2001 کے بعد پتنگ بازی کے خلاف کارروائیوں کا آغاز ہوا۔ تاہم یہ بات تاریخی طور پر درست ہے کہ اس مرحلے پر کوئی ایک جامع اور مضبوط صوبائی قانون موجود نہیں تھا۔ زیادہ تر پابندیاں عدالتی احکامات، ضلعی انتظامیہ کے نوٹیفکیشنز اور وقتی حکومتی ہدایات کے تحت نافذ کی جاتی رہیں۔ یہی وجہ تھی کہ پرویز مشرف کے دور میں بسنت کے حوالے سے ریاستی پالیسی واضح اور مستقل نہ رہ سکی۔ ایک طرف جان لیوا حادثات پر تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا، تو دوسری طرف بعض برسوں میں لاہور میں بسنت کو ثقافتی اور سیاحتی ایونٹ کے طور پر اجازت دی گئی۔یہی وہ دور تھا جب پالیسی میں تضاد نمایاں ہوا۔ کہیں مکمل پابندی، کہیں جزوی اجازت، کہیں مخصوص علاقوں تک محدود سرگرمیاں اور کہیں انتظامی چشم پوشی دیکھنے میں آئی۔ نتیجتاً جانی نقصان کم ہونے کے بجائے ریاستی رِٹ کمزور ہوتی چلی گئی۔ بالآخر یہ بات واضح ہو گئی کہ وقتی اقدامات اور غیر واضح حکمتِ عملی مسئلے کا حل نہیں۔2008 کے عام انتخابات کے بعد جب شہباز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہوئے تو بسنت اور پتنگ بازی کے معاملے میں ریاستی رویے میں واضح تبدیلی آئی۔ شہباز شریف کا پہلا دورِ وزارتِ اعلیٰ 2008 سے 2013 تک رہا، اور یہی وہ مرحلہ تھا جب اینٹی کائٹ فلائنگ قوانین کو محض کاغذی کارروائی کے بجائے عملی قانون بنایا گیا۔ 2009 اور 2010 وہ برس تھے جب سخت ترین عملدرآمد دیکھنے میں آیا۔سانچ کے قارئین کرام!اسی دور میں اینٹی کائٹ فلائنگ آرڈیننس اور متعلقہ قوانین کو پوری قوت کے ساتھ نافذ کیا گیا۔ ان قوانین کے بنیادی نکات واضح تھے۔ پتنگ بازی پر مکمل پابندی عائد کی گئی۔ پتنگ، ڈور اور مانجھے کی تیاری، ذخیرہ، نقل و حمل اور فروخت کو قابلِ سزا جرم قرار دیا گیا۔ کیمیکل یا دھاتی تار کے استعمال پر سخت سزائیں مقرر کی گئیں۔ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو بغیر کسی رعایت کے چھاپے مارنے، سامان ضبط کرنے اور مقدمات درج کرنے کے اختیارات دیے گئے۔یہ وہ دور تھا جب ریاست نے واضح پیغام دیا کہ انسانی جان کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ لاہور، گوجرانوالہ، فیصل آباد اور دیگر شہروں میں مانجھے کی فیکٹریاں بند کی گئیں، بڑی تعداد میں گرفتاریاں ہوئیں اور زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی۔ اس سخت عملدرآمد کا نتیجہ یہ نکلا کہ 2010 کے بعد پنجاب میں بسنت عملی طور پر ختم ہو گئی اور پتنگ بازی کے باعث ہونے والے جانی نقصانات میں نمایاں کمی آئی۔2013 میں شہباز شریف دوبارہ وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہوئے اور اینٹی کائٹ فلائنگ قوانین پر عملدرآمد کا یہی تسلسل برقرار رہا۔ بعد ازاں آنے والی حکومتوں نے بھی اسی پالیسی کو جاری رکھا، جس کے نتیجے میں 2024 تک پنجاب میں بسنت سرکاری طور پر ممنوع رہی۔ ایک پوری نسل ایسی تھی جس نے بسنت صرف ماضی کی یادوں اور تصاویر میں دیکھی۔اب 2025 میں حکومتِ پنجاب نے ایک نیا راستہ اختیار کیا ہے۔ ’پنجاب کائٹ فلائنگ آرڈیننس 2025‘ کے ذریعے نہ صرف پرانے آرڈیننس کو منسوخ کیا گیا بلکہ ایک نیا، تفصیلی اور مشروط قانونی فریم ورک متعارف کروایا گیا ہے۔ اس قانون کا بنیادی فلسفہ مکمل پابندی کے بجائے سخت ریگولیشن ہے۔نئے قانون کے مطابق بسنت فروری کے پہلے ہفتے میں منائی جائے گی، جس کی حتمی تاریخ وزیر اعلیٰ پنجاب کی منظوری سے طے ہوگی۔ اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کے لیے پتنگ بازی مکمل طور پر ممنوع قرار دی گئی ہے۔ اگر کوئی کم عمر بچہ قانون کی خلاف ورزی کرے گا تو والد یا سرپرست ذمہ دار ہوگا۔ پہلی خلاف ورزی پر پچاس ہزار اور دوسری بار ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا، جبکہ عدم ادائیگی کی صورت میں قانونی کارروائی ممکن ہوگی۔قانون کا سب سے اہم حصہ مانجھے سے متعلق ہے۔ صرف دھاگے سے بنی سادہ ڈور کے استعمال کی اجازت ہوگی۔ دھاتی، کیمیکل لگی یا تیز دھار مانجھے کے استعمال پر کم از کم تین اور زیادہ سے زیادہ پانچ سال قید اور بیس لاکھ روپے جرمانے کی سزا مقرر کی گئی ہے۔ یہ شق دراصل ماضی کے جانی نقصانات کو سامنے رکھ کر شامل کی گئی ہے۔اس کے علاوہ پتنگ اور ڈور کی تیاری اور فروخت کو بھی ریگولیٹ کیا گیا ہے۔ تمام دکانداروں اور کاریگروں کی رجسٹریشن لازمی ہوگی۔ ہر دکاندار کو’کیو آر‘ کوڈ دیا جائے گا اور پتنگ و ڈور پر بھی’کیو آر‘ کوڈ ہوگا تاکہ بنانے والے اور بیچنے والے کی شناخت ممکن ہو سکے۔ پتنگ بازی کی ایسوسی ایشنز کو بھی متعلقہ ضلع کے ڈپٹی کمشنر کے پاس رجسٹر ہونا ہوگا۔سانچ کے قارئین کرام!معاشی اعتبار سے یہ قانون ایک بند ہوتی ہوئی صنعت کو دوبارہ سانس دینے کی کوشش ہے، مگر ریاست نے اس بار یہ واضح کر دیا ہے کہ انسانی جان پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ اصل امتحان اب قانون کے نفاذ کا ہے۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جب ریاست نے 2008 کے بعد سنجیدگی دکھائی تو حادثات میں کمی آئی، اور جب پالیسی میں ابہام رہا تو جانیں ضائع ہوئیں۔بسنت کی واپسی دراصل ایک تہوار نہیں بلکہ ایک ریاستی امتحان ہے۔ یہ امتحان اس بات کا ہے کہ آیا ہم ماضی کی غلطیوں سے سیکھ چکے ہیں یا نہیں۔ اگر 2025 کا قانون اسی غیر امتیازی سختی سے نافذ ہوا جس طرح اینٹی کائٹ فلائنگ آرڈیننس پر عملدرآمد ہوا تھا، تو ممکن ہے کہ بسنت ایک بار پھر خوشیوں کی علامت بن جائے۔ لیکن اگر نرمی، سیاسی مصلحت اور انتظامی چشم پوشی واپس آ گئی تو تاریخ خود کو دہرانے میں دیر نہیں لگائے گی۔ انسانی جان کی حرمت ہی وہ واحد معیار ہے جس پر اس فیصلے کو پرکھا جانا چاہیے٭
محمد مظہررشید چودھری (03336963372)

