مقبوضہ کشمیر۔۔۔حق خودارادیت اور عالمی ضمیر کی خاموشی

تحریر:رشیداحمدنعیم
حق خودارادیت کوئی رعایت نہیں بلکہ وہ بنیادی انسانی حق ہے جو اقوام کو اپنی شناخت، سیاسی سمت اور اجتماعی مستقبل کے تعین کا اختیار دیتا ہے۔ یہ حق کسی طاقت کے عطیہ کرنے سے وجود میں نہیں آتا بلکہ انسان کے وجود کے ساتھ جڑا ہوا وہ اصول ہے جسے تاریخ، اخلاق اور بین الاقوامی قانون تسلیم کرتے ہیں۔ یہی وہ حق ہے جس کی بنیاد پر دنیا میں غلامی کے نظام ٹوٹے، نوآبادیاتی اقتدار بکھرا اور محکوم اقوام نے آزادی کا سورج دیکھا مگر یہی حق جب کشمیری عوام کے معاملے میں سامنے آتا ہے تو عالمی ضمیر پر جیسے سکتہ طاری ہو جاتا ہے۔انسانی تاریخ گواہ ہے کہ طاقت ور قوتوں نے ہمیشہ کمزور اقوام پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے جبر، فریب اور طاقت کا سہارا لیا۔ اس کے مقابلے میں محکوم قوموں نے شدید قربانیوں کے باوجود اپنے فیصلے کا حق ترک نہیں کیا۔ اسی تلخ تجربے کے نتیجے میں دنیا نے دو عالمی جنگوں کے بعد یہ عہد کیا کہ آئندہ طاقت کے زور پر قوموں کی تقدیر نہیں لکھی جائے گی۔ اسی عہد کی عملی شکل پہلے مجلس اقوام اور بعد ازاں اقوام متحدہ کی صورت میں سامنے آئی جس کے منشور میں حق خودارادیت کو مرکزی حیثیت دی گئی۔برصغیر جنوبی ایشیا بھی اسی سامراجی تاریخ کا حصہ رہا ہے۔ صدیوں سے زرخیز وسائل، جغرافیائی اہمیت اور تہذیبی تنوع کے باعث یہ خطہ بیرونی قوتوں کی توجہ کا مرکز رہا۔ جب برطانوی اقتدار کمزور ہوا تو آزادی کا خواب حقیقت بننے کے قریب تھا مگر تقسیم کا طریقہ ایسا اختیار کیا گیا جس نے نئے تنازعات کو جنم دیا۔ برطانوی حکومت نے جاتے جاتے ریاستوں کو اختیار دیا کہ وہ اپنی جغرافیائی و عوامی حیثیت کے مطابق فیصلہ کریں مگر اس اصول پر خود انہی کی مقرر کردہ انتظامیہ نے کھلا سمجھوتہ کیا۔ریاست جموں و کشمیر اس بددیانتی کی سب سے نمایاں مثال بن کر سامنے آئی۔ مسلم اکثریتی آبادی، جغرافیائی تسلسل اور عوامی خواہش کے باوجود اس ریاست کو طاقت کے زور پر ایک ایسے ملک کے قبضے میں دے دیا گیا جس کا دعویٰ جمہوریت اور قانون کی بالادستی تھا۔ اس قبضے کے خلاف اٹھنے والی آواز کو دبانے کے لیے عسکری طاقت استعمال کی گئی۔ خوف و ہراس پھیلایا گیا۔ پورے خطے کو ایک کھلی جیل میں بدل دیا گیا۔جب حالات قابو سے باہر ہوئے تو معاملہ اقوام متحدہ میں لے جایا گیا۔ یہی وہ موڑ تھا جہاں عالمی برادری کے پاس تاریخ درست کرنے کا موقع موجود تھا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کشمیری عوام کو ان کا حق دینے کا وعدہ کیا اور واضح کیا کہ ریاست کا مستقبل عوام کی آزاد رائے سے طے ہو گا۔ یہ وعدہ کسی ایک فریق سے نہیں بلکہ پوری دنیا سے کیا گیا تھا مگر یہ وعدہ کاغذوں سے آگے نہ بڑھ سکا۔گزشتہ اٹھہتر برس اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ جب طاقت ور فریق وعدہ پورا نہ کرنا چاہے تو عالمی ادارے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ قراردادیں موجود ہیں اور دستاویزات بھی محفوظ ہیں مگر عمل ندارد۔ اس دوران کشمیری عوام نسل در نسل قربانیاں دیتے رہے۔ ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، اجتماعی سزائیں، اظہار رائے پر پابندیاں اور آبادی کے تناسب کو بدلنے کی کوششیں سب کچھ دنیا کے سامنے ہوتا رہا، مگر عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں رسمی بیانات سے آگے نہ بڑھ سکیں۔یہاں سوال یہ نہیں کہ اقوام متحدہ کے پاس اختیار نہیں۔سوال یہ ہے کہ اختیار استعمال کرنے کی نیت کہاں ہے؟یہی ادارہ مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان میں حق خودارادیت کو عملی جامہ پہنانے میں سرگرم نظر آیا۔ یہی ادارہ بعض ممالک کے خلاف فوری کارروائیوں کے لیے قراردادیں منظور کرتا رہا مگر کشمیر کے معاملے میں یہی ادارہ وقت گزاری کی علامت بن گیا۔عالمی طاقتوں کے دوہرے معیار اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں۔ جہاں مفادات وابستہ ہوں وہاں انسانی حقوق یاد آ جاتے ہیں اور جہاں مفادات کو خطرہ ہو وہاں اصولوں پر خاموشی چھا جاتی ہے۔ کشمیر بھی اسی خاموشی کی نذر ہے۔ یہ خاموشی صرف ایک خطے کے لیے نہیں بلکہ عالمی انصاف کے تصور کے لیے خطرہ ہے۔کشمیری عوام کسی ملک کے خلاف نفرت نہیں بلکہ اپنے حق کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔ وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ جو وعدہ ان سے کیا گیا تھا اسے پورا کیا جائے۔ وہ یہ نہیں مانگ رہے کہ کوئی ان پر احسان کرے۔وہ صرف انصاف چاہتے ہیں۔ یہی انصاف اگر عالمی ادارے فراہم نہیں کر سکتے تو ان کی اخلاقی حیثیت پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ہر سال پانچ جنوری کو کشمیری دنیا کو یاد دلاتے ہیں کہ وعدے ابھی باقی ہیں۔ یہ یاددہانی احتجاج نہیں بلکہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوشش ہے۔ یہ سوال آج بھی اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود ہے کہ اگر اقوام متحدہ کمزور اقوام کے حق کا تحفظ نہیں کر سکتی تو پھر اس کے وجود کا جواز کیا ہے؟کشمیر کی وادی آج بھی خون، آنسو اور انتظار کی علامت ہے۔ یہ انتظار صرف آزادی کا نہیں بلکہ انصاف کا بھی ہے۔ جب تک کشمیری عوام کو ان کا تسلیم شدہ حق نہیں ملتا، دنیا میں امن کے دعوے ادھورے رہیں گے۔ تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ انصاف کو جتنا مؤخر کیا جائے اس کی قیمت اتنی ہی زیادہ چکانا پڑتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ عالمی ضمیر کب جاگے گا؟ اور کشمیریوں سے کیا گیا وعدہ کب وفا ہو گا؟

rasheed03014033622@gmail.com
03014033622

اپنا تبصرہ بھیجیں