اغوا برائے تاوان: مکران میں خوف کی حکومت، ریاست کی شکست

(حمید بلوچ)

ضلع کیچ، پنجگور اور پورے مکران ڈویژن میں اغوا برائے تاوان اب کوئی خفیہ جرم نہیں رہا بلکہ کھلے عام ہونے والا کاروبار بن چکا ہے۔ لوگ دن دہاڑے اٹھا لیے جاتے ہیں، تاوان مانگا جاتا ہے، اور کئی کیسز میں لاشیں واپس کی جاتی ہیں۔ یہ سب کچھ ہو رہا ہے، مگر ریاستی مشینری یا تو سو رہی ہے یا جان بوجھ کر آنکھیں بند کیے ہوئے ہے۔
پنجگور میں صوبائی اسمبلی کے رکن کے بھائی کا قتل اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہاں طاقت، عہدہ اور اثر و رسوخ بھی کسی کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتا۔ اگر ایک منتخب نمائندے کا خاندان محفوظ نہیں تو عام دکاندار، طالب علم یا مزدور کی حیثیت کیا ہے؟ یہ واقعہ صرف قتل نہیں تھا بلکہ ریاستی نظامِ انصاف پر عوامی اعتماد کا قتل تھا۔
آج تربت میں ہزاروں مرد و خواتین، بزرگ اور نوجوان، سڑکوں پر نکل آئے۔ یہ لوگ کسی نعروں کے شوقین نہیں بلکہ زندہ رہنے کا حق مانگنے نکلے ہیں۔ مائیں اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کے اغوا کے خوف سے لرز رہی ہیں، بہنیں اپنے بھائیوں کی واپسی کے لیے دعائیں نہیں بلکہ احتجاج کر رہی ہیں۔ یہ احتجاج اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام کے لیے اب خاموشی موت کے مترادف ہو چکی ہے۔
یہ سوال اب ناگزیر ہو چکا ہے کہ مکران میں ریاست کہاں ہے؟ پولیس کیوں بے اثر ہے؟ انٹیلی جنس ادارے کس کام میں مصروف ہیں؟ کیا یہ خطہ صرف انتخابات کے وقت یاد آتا ہے؟ اگر اغوا کار اتنے طاقتور ہیں کہ انہیں ہاتھ نہیں لگایا جا سکتا تو صاف اعلان کیا جائے کہ یہاں حکومت نہیں، جنگل کا قانون ہے۔
انتظامیہ کی یہ روش دراصل مجرموں کو پیغام دے رہی ہے کہ جرم کرو، پیسہ کماؤ اور محفوظ رہو۔ یہ پیغام نہ صرف خطرناک ہے بلکہ آنے والے وقت میں مزید خونریزی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ اگر فوری اور سخت کارروائی نہ کی گئی تو عوام کا یہ احتجاج کسی بھی وقت غصے کے طوفان میں بدل سکتا ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ زبانی جمع خرچ بند کیا جائے۔ اغوا کار نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑا جائے، ناکام افسران کو ہٹایا جائے، اور عوام کو یہ احساس دلایا جائے کہ وہ اس ملک کے شہری ہیں، یرغمال نہیں۔ اگر ریاست یہ ذمہ داری ادا نہیں کر سکتی تو تاریخ اسے ایک ناکام، بے حس اور ظالم ریاست کے طور پر یاد رکھے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں