عہد ساز شخصیت

تحریر: نور محسن

گزشتہ چار دہائیوں تک گوادر کی سیاست پر اثر انداز رہنے والے میر عبدالغفور کلمتی 74 برس کی عمر میں مختصر علالت کے بعد 5 جنوری 2024 کو کراچی میں اپنے گھر انتقال کر گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔

ابتدائی زندگی اور تعلیم
میر عبدالغفور کلمتی 1950 میں گوادر کے ایک معزز گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ماڈل ہائی اسکول گوادر سے حاصل کی اور بعد ازاں کراچی کے سندھ مدرستہ الاسلام سے گریجویشن کیا۔ اسی دوران وہ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے رکن بنے اور طلبہ سیاست میں سرگرم رہے۔ گریجویشن کے بعد کچھ عرصہ عمان کے شہر مسقط میں بینک ملازمت کی، مگر گوادر کی محبت انہیں واپس اپنے آبائی شہر لے آئی۔

سیاست میں آغاز
1985 میں جنرل ضیاء الحق کے غیر جماعتی انتخابات میں حصہ لے کر میر کلمتی پہلی مرتبہ ایم پی اے منتخب ہوئے۔ عوامی خدمت کو انہوں نے اپنا شعار بنایا۔ تاہم 1987 میں جیونی میں پولیس فائرنگ کے ایک سانحے نے ان کی سیاست کو شدید نقصان پہنچایا، حالانکہ اس واقعے سے ان کا کوئی تعلق نہ تھا۔ اس کے بعد وہ کئی برس تک خاموش رہے لیکن عوام سے رشتہ کبھی نہیں توڑا۔

بی این پی اور سیاسی سفر
1997 میں سردار عطا اللہ مینگل، میر حاصل بزنجو اور دیگر رہنماؤں کی قیادت میں بی این پی تشکیل پائی تو میر کلمتی بھی اس جماعت میں شامل ہوئے۔ اسی سال کے انتخابات میں وہ بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے اور دوسری مرتبہ صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ بی این پی کی حکومت قائم ہوئی مگر جلد ہی اختلافات کے باعث ٹوٹ گئی۔ بعد ازاں میر کلمتی وزیرِ جیل خانہ جات بھی رہے۔

2002 کے بعد وہ بی این ڈی پی سے وابستہ ہوئے۔ بیماری اور فالج کے حملے کے باوجود انہوں نے عوامی خدمت کا سلسلہ جاری رکھا۔ 2005 میں ضلعی ناظم اعلیٰ گوادر منتخب ہوئے۔ 2008 کے بعد انہوں نے اپنے فرزند میر حمل کلمتی کو سیاست میں متعارف کرایا، جو مسلسل تین بار ایم پی اے منتخب ہوئے۔

عوامی خدمت اور فلاحی کربدار، زر پبلک اسکول اور ڈھوریہ اکیڈمی قائم کیں، جہاں سینکڑوں بچے مفت تعلیم حاصل کرتے ہیں۔
– غریبوں اور ناداروں کی مالی امداد کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا۔
– ادبی خدمات میں بھی پیش پیش رہے؛ سید ظہور شاہ ہاشمی کی بلوچی ڈکشنری سید گنج سمیت کئی کتابوں کی اشاعت کے اخراجات برداشت کیے۔
میر عبدالغفور کلمتی ایک نرم دل، درگزر کرنے والے اور عوام دوست انسان تھے۔ انہوں نے ہمیشہ اپنے بچوں اور خاندان کو نصیحت کی کہ اگر کسی کو فائدہ نہ دے سکیں تو کبھی نقصان بھی نہ پہنچائیں۔ ان کی سیاست خدمت، سادگی اور انسان دوستی کی عملی مثال تھی۔
اللہ تعالیٰ میر عبدالغفور کلمتی کو اپنی رحمت میں جگہ دے اور ان کے فرزندوں کو عوامی خدمت اور نرم خو سیاست کے اسی راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

اپنا تبصرہ بھیجیں