تحریر۔۔۔شاہد شکیل
آنے والے چند برس انسان اور مشین میں ایسے ہونگے جیسے تاریخ کے کسی موڑ پر خاموشی سے موسم بدل جاتا ہے، جدید ٹیکنالوجی بھی اسی طرح ہمارے گردو پیش میں داخل ہو رہی ہے،آہستہ، مسلسل اور اِس یقین کیساتھ کہ واپسی کا راستہ اب ممکن نہیں، یہ وہ دور ہوگا جب مشین محض آلہ نہیں رہے گی بلکہ رفیقِ کار بن جائے گی۔مصنوعی ذہانت جو کبھی صرف حساب لگانے یا چند سوالوں کے جواب دینے تک محدود تھی اب ایک ایسے معاون کی صورت اِختیار کر رہی ہے جو انسان کے ارادوں کو سمجھتا ہے،اُن کی تہہ تک جاتا ہے اور پھر خاموشی سے کام مکمل کر دیتا ہے،گویا انسان نے اپنے ذہن کا ایک سایہ تخلیق کر لیا ہو جو نہ سوتا ہے،نہ تھکتا ہے،نہ سوال کرتا ہے بس حکم کی تکمیل و تعبیر میں مصروف رہتا ہے۔آنے والے برسوں میں یہ سایہ صرف سکرین تک محدود نہیں رہے گا،یہ گھروں میں داخل ہو گا، دفتروں میں گردِش کرے گا،کارخانوں میں ہاتھ بنے گا اور ہسپتالوں میں آنکھ۔روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کا ملاپ ایک ایسی جسمانی عقل کو جنم دے گا جو نہ صرف سوچتی ہے بلکہ عمل بھی کرتی ہے یہ سب اِسی خاموش انقلاب کے مظاہر ہونگے۔جین ایڈیٹنگ اور بایو ٹیکنالوجی ایسے دروازے کھولیں گی جن کے پیچھے کبھی صرف تقدیر کا تصور تھا،بیماریاں جو نسلوں سے وراثت میں منتقل ہوتی تھیں اب شاید ایک لمحاتی مداخلت سے خاموش ہو جائیں،توانائی کے میدان میں بھی ایک نئی صبح نمودار ہو رہی ہے،بیٹریاں،جو کبھی محض ذخیرہ تھیں اب رفتار،تحفظ اور خود مختاری کی علامت بنتی جا رہی ہیں، گاڑیاں جو ایندھن کی محتاج تھیں اب خاموشی سے سرکتی ہوئی دور تک جائیں گی،بجلی محض روشنی نہیں رہے گی بلکہ نقل و حرکت،رابطے اور آزادی کا استعارہ بن جائے گی اور رابطے کی دنیا جہاں فاصلہ اب محض ایک لفظ رہ جائے گا،آنے والی نسل کی نیٹ ورک ٹیکنالوجی انسانی آواز، تصویر اور حرکات کو اِس طرح جوڑے گی کہ دور اور قریب کی تعریفیں دھندلا جائیں گی، ملاقاتیں سرحدوں سے آزاد ہونگی اور علم ایک جگہ ٹھہرنے کے بجائے بہتا رہے گا۔لیکن اِ س تمام ترقی کے ساتھ ایک سایہ بھی چلتا رہے گا،ڈیجیٹل سیکورٹی، نگرانی اور شناخت کا سوال پہلے سے زیادہ گہرا ہو گا،جہاں سہولت بڑھے گی وہاں اِحتیاط کی ضرورت بھی بڑھے گی،انسان کو یہ سیکھنا ہو گا کہ وہ ٹیکنالوجی کا صارف نہیں بلکہ اُس کا نگران بھی ہے کیونکہ طاقت ہمیشہ ذمہ داری مانگتی ہے۔یوں آنے والے سال دراصل ایجاد کے نہیں ادراک کے سال ہونگے،انسان یہ سمجھے گا کہ اُس نے کیا بنایا ہے؟ کیوں بنایا ہے؟ اور اُس کے ساتھ کیسے جینا ہے؟ آئندہ چند سال(یعنی 2026 سے 2030کے آس پاس) میں جدید ٹیکنالوجی کا منظر نامہ ایک نئی ایجاد سے زیادہ کئی ٹیکنالوجیز کے باہمی ملاپ سے بدلنے جا رہا ہے،اب ترقی کی رفتار صرف لیبارٹریز تک محدود نہیں رہے گی وہ روزمرہ زندگی، کاروبار، علاج اور ریاستی نظام تک میں اترتی جائے گی، خاموشی سے مگر فیصلہ کن انداز میں۔1۔مصنوعی ذہانت۔گفتگو سے عمل تک۔پچھلے چند برسوں میں مصنوعی ذہانت نے سمجھنے،لکھنے اور بولنے میں غیر معمولی ترقی کی مگر اگلا بڑا قدم یہ ہے کہ کام خود کرے، یعنی ایجنٹس جو آپ کیلئے تحقیق، منصوبہ بندی، فائل مینیجمنٹ، ای میل ڈرافٹنگ، ڈیٹا اینالیسس اور مختلف سافٹ وئیر ٹولز کے ساتھ عملی سطح پر ٹاسک مکمل کریں،اسی لئے 2026کے رحجانات میں ایجنٹک کو مرکزی حیثیت دی جا رہی ہے،نتیجہ یہ ہوگا کہ اے آئی محض مشیر نہیں رہے گا وہ ایک طرح سے ڈیجیٹل معاونِ کار بنے گا جو آپ کے اہداف کو چھوٹے حصوں میں توڑ کر خود کار طور پر کام کو آگے بڑھائے گا۔2۔دفاعی سائبر سیکورٹی۔جیسے جیسے اے آئی ٹولز عام ہونگے ویسے ہی فشنگ، جعلی آواز، ویڈیو اور خود کار ہیکنگ کی کوششیں بڑھیں گی،دفاعی دنیا میں اس کے جواب میں زیرو ٹرسٹ اور خود کار تھریٹ ڈیٹیکشن تیز ہوگا یعنی ایسے نظام جو ہر سرگرمی کو مشکوک سمجھ کر تصدیق کریں اور غیر معمولی رویے کو فوراََ روک سکیں۔3۔سافٹ وئیر سے جسمانی دنیا تک۔ اگلے چند سالوں میں روبوٹس کا کردار فیکٹریوں سے نکل کر گودام، ہسپتال،دیکھ بھال اور حتیٰ کہ گھریلو مدد تک پھیل سکتا ہے،یہ عمل صرف سکرین کے اندر نہیں رہے گا بلکہ حقیقی ماحول میں بدل جائے گا۔4۔بایوٹیک اور جین ایڈیٹنگ۔ یہ دور اس لحاظ سے منفرد ہے کی جین ایڈیٹنگ اب محض نظریہ نہیں رہا،آئندہ برسوں میں بایوٹک اور جین ایڈیٹنگ کی تھیراپیز مزید بیماریوں تک پہنچ سکتی ہیں،اس کا سماجی اثر گہرا ہوگا،علاج عمر بھر کی دوا سے بڑھ کر ممکنہ طور پر ایک بار کے علاج کی طرف جا سکتا ہے مگر قیمت، رسائی، اخلاقی سوالات اور طویل مدتی مانیٹرنگ جیسے پہلو ساتھ ساتھ چلیں گے۔ 5۔توانائی اور بیٹریاں۔ الیکٹرک گاڑیوں اور سٹوریج میں سب سے زیادہ بحث سالڈ سٹیٹ بیٹری کی ہے کیونکہ یہ نظریاتی طور پر زیادہ محفوظ، زیادہ توانائی کثافت اور چارجنگ دے سکتی ہے اس کے اثرات صرف گاڑیوں تک محدود نہیں،موبائل ڈیوائسز،گرڈ سٹوریج اور فائر سیفٹی کے معیار میں بھی تبدیلی آئے گی۔اے آئی بات کرنے سے کام کرنے کی طرف بڑھے گا۔ بایوٹیک میں جین ایڈیٹنگ جیسے طریقے علاج کے امکانات بدلیں گے۔ بیٹری اور توانائی میں سیفٹی،رینج اور چارجنگ ایک نئی مسابقت بن جائے گی۔ جی6کی بنیادیں اسی عرصے میں مضبوط ہونگی اگرچہ عام نفاذ نسبتاََ بعد میں متوقع ہے۔اصل سوال یہ نہیں کہ جدید ٹیکنالوجی کہاں تک پہنچے گی بلکہ یہ ہے کہ انسان خود کو کہاں تک سنبھال پائے گا کیونکہ مستقبل کی سب سے بڑی ایجاد شاید کوئی مشین نہیں ہو گی بلکہ وہ حکمت ہو گی جس سے انسان اپنی ہی تخلیق کے ساتھ توازن قائم رکھ سکے گا۔

