بحران۔اور سیاسی حل

قادربخش بلوچ
تربت بلوچستان کی تاریخ کا مطالعہ کیا جاے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ھے کہ یہاں کے باسیوں نے سکھ کا دور دیکھا ہی نہیں ھے۔ھتو رام۔راے بہادر ھتو رام۔کی تاریخ بلوچستان۔جس میں چاکر اور گہرام۔ھانی اور شے مرید ۔بشمول چاکر ء شیہک کی رزمیہ داستانوں کی تفصلی زکر ھے۔اس کے علاوہ۔بلوچ اور بلوچستان کی تاریخ کی تفصیلات کتاب کی زینت ہیں۔ھتو رام چونکہ غیر بلوچ تھا لہذا انہوں نے بنا لگی لپٹی کے سب کچھ بیان کر دیا۔خیر یہ پرانی داستانیں ہیں۔مملکت خداداد میں بھی بلوچستان کی تاریخ میں خاصی تبدیلی رونما نہیں ہوا۔یہ بھی ایک حقیقت ھے کہ بجز مکران کے سارے بلوچستان کا نظام سرداری ھے۔کوئی نہیں مانتا تو بھلے نا مانے۔بلوچستان میں تبدیلی کی ایک لہر جو انیسو اٹھاسی میں نوجوان طلباء لاے۔البتہ اسی جمہوری لہر نے سارے بلوچستان کو متاثر کیا۔اور یہیں سے مکران کے بلوچ نوجوانوں نے سیاست کا اغاز کیا۔1988۔جن میں پہلی بار۔تربت سے ڈاکٹر مالک بلوچ واجہ اکرم۔واجہ منظور گچکی۔اور ایوب بلیدی بڑی شاندار انداز میں کامیاب ہوے۔یہیں سے ڈاکٹر مالک بلوچ کی سیاسی سفر عملا شروع ہوتی ھے۔ڈاکٹر مالک نے بلوچستان کو علم کا گہوارہ بنانے کی ٹھانی۔مکران کے ہر پسماندہ گاؤں میں اسکول بنادیا اور فوری طور پر اسکول کا اساتذہ بھی بھرتی کرکے اسکول کو ایک مکمل درسگاہ بنا دیا۔اور مالکی اسی ادا نے ڈاکٹر مالک بلوچ کو اکاش کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ورنہ بلوچستان میں وزیر اور وزیر اعلی۔تو بہت ہی اے اور چلے گئے۔مالک بلوچ ایک مکمل عوامی رہبر ہیں۔یہ ہمیشہ اپنی عوام کے ساتھ جڑے رہتے ہیں۔مالک بلوچ نے وزیر اعلی کے منصب سے پہلے بلوچستان میں اسکولوں کا ایک جال بچھایا تھا مکران میں کئی ہائی اسکول بن گئے۔پھر اپنے دور وزارت اعلی میں تربت میں میڈیکل کالج۔لا کالج۔ایلمنٹری کالج۔تربت یونیورسٹی۔بنا کر خود کو تاریخ میں امر کر دیا۔مالک بلوچ کی وزارت کا دور بلوچستان کی تاریخ کا سنہرا دور کہلاے گا کیونکہ بلوچ صاحب کے دور میں ہر چیز خالص میرٹ پر ہوتا تھا۔نیشنل پارٹی کے رہنما اور بلوچستان اور بلوچ کے حقوق کا ضامن سنیٹر جان محمد بلیدی نے بھی پسماندہ علاقوں میں تعلیم اور دیگر ضروریات زندگی پر بڑے خوبصورت اور منظم انداز میں کام کیا ھے۔بلوچستان اور بلوچ عوام کے لئے آسانیاں پیدا کرنا بلیدی صاحب کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔بلیدی صاحب کی شدید خواہش ھے کہ کچلے ہوے عوام کو جدید ترین طرز زندگی سے آشنا کیا جاے اور انہوں نے اس پر کافی کام بھی کیا ھے جان صاحب اہل بلوچستان کو ہمیشہ علم حاصل کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔اور وہ اپنی ساری توانائیاں اپنے لوگوں کو حصول علم کی کوششوں میں صرف کر رہے ہیں۔اور انہیں مکمل یقین ھے کہ وہ اس میں کامیاب ہی ہوں گے۔اور علم تغیانی سے سیراب ہونے کے بعد۔ہر سیاسی بحران کا حل خود بخود نکل اے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں