تحریر: محمد مظہررشید چودھری
اوکاڑہ کی کچہری میں قدم رکھتے ہی یہ احساس نمایاں ہوا کہ بار کے سالانہ انتخابات اب معمول کی سرگرمی نہیں رہے۔ ہر راہداری، ہر چیمبر اور ہر بیٹھک میں ایک ہی موضوع زیرِ بحث ہے۔ دس جنوری قریب آ رہا ہے اور اس کے ساتھ ہی سیاسی درجہ حرارت بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن اوکاڑہ کے 44ویں سالانہ انتخابات میں 1740 ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے، جن میں 235 خواتین وکلا شامل ہیں۔ پولنگ صبح 9 بجے سے شام 4 بجے تک ہوگی،جبکہ دوپہر 1بجے کھانے کا وقفہ ہوگا۔ بائیومیٹرک تصدیق کے بعد مینول ووٹنگ کا عمل ہوگا، جبکہ سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات نے انتخابی عمل کو خاصا سنجیدہ بنا دیا ہے۔ الیکشن بورڈ کے چیئرمین چودھری ریاض ایڈووکیٹ اور ممبران چودھری شکیل ایڈووکیٹ اور رائے محمد افراہیم ایڈووکیٹ کی کارکردگی پر مجموعی اطمینان پایا جاتا ہے۔بار کے اندر ایک نمایاں پہلو یہ بھی ہے کہ کئی اہم عہدوں پر اتفاقِ رائے پیدا ہو چکا ہے۔ نائب صدر رائے آصف محمود ایڈووکیٹ، جوائنٹ سیکرٹری ملک عرفان تحسین کھوکھر ایڈووکیٹ، فنانس سیکرٹری عابد نوناری ایڈووکیٹ، لائبریری سیکرٹری امجد اصغر ایڈووکیٹ اور آڈیٹر ملک غلام عباس اعوان ایڈووکیٹ بلا مقابلہ منتخب ہو چکے ہیں، جو وکلا برادری میں ایک حد تک ہم آہنگی کی علامت ہے۔اصل سیاسی مقابلہ صدر، جنرل سیکرٹری اور سینئر نائب صدر کے عہدوں پر ہے۔ صدر کے لیے فاروق اشرف سنگوکا ایڈووکیٹ اور علی عدنان قریشی ایڈووکیٹ آمنے سامنے ہیں۔ آج کی گفتگوؤں میں یہ بات کھل کر سامنے آئی کہ فاروق اشرف سنگوکا ایڈووکیٹ کو راؤ محمد اشرف ایڈووکیٹ کی بھرپور حمایت حاصل ہے، جو نہ صرف ایک سینئر وکیل بلکہ ممبر پنجاب بار کونسل بھی ہیں۔ ان کی سپورٹ فاروق اشرف سنگوکا کی مہم کو تنظیمی طاقت اور سیاسی تجربہ فراہم کر رہی ہے۔دوسری جانب علی عدنان قریشی ایڈووکیٹ کو چودھری امجد پرویز ایڈووکیٹ کی واضح اور کھلی حمایت حاصل ہے۔ چودھری امجد پرویز ایڈووکیٹ بھی ممبر پنجاب بار کونسل ہیں اور اوکاڑہ سمیت پنجاب بھر میں ایک مؤثر سیاسی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی سپورٹ نے علی عدنان قریشی کی انتخابی پوزیشن کو خاصا مستحکم بنا دیا ہے، خاص طور پر نوجوان وکلا اور مختلف برادریوں کے حلقوں میں۔جنرل سیکرٹری کے عہدے پر رائے عاطف شیر کھرل ایڈووکیٹ اور طارق نسیم منگن ایڈووکیٹ کے درمیان سخت مقابلہ جاری ہے۔ رائے عاطف شیر کھرل ایڈووکیٹ تجربے اور ذاتی روابط کے بل بوتے پر مضبوط دکھائی دیتے ہیں، جبکہ طارق نسیم منگن ایڈووکیٹ کی مہم نوجوان وکلا، خواتین اور سوشل میڈیا پر خاصی متحرک ہے۔سینئر نائب صدر کے عہدے پر سیدہ عاصمہ گیلانی ایڈووکیٹ اور ملک فیصل ریاض ایڈووکیٹ کا ون ٹو ون مقابلہ بار کی سیاست میں ایک نئی جہت کا اضافہ کر رہا ہے۔ خواتین وکلا کی منظم سرگرمی اور بھرپور رابطہ مہم یہ ظاہر کرتی ہے کہ اس بار خواتین ووٹ محض تعداد نہیں بلکہ ایک مؤثر قوت بن چکا ہے۔ مجموعی تاثر یہی کہ اوکاڑہ بار کی سیاست ایک تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔ برادری کی سیاست اپنی جگہ موجود ہے، مگر اس بار قیادت، کردار اور مستقبل کے ویژن پر بات زیادہ ہو رہی ہے۔ دس جنوری 2026 یہ فیصلہ کرے گا کہ یہ تبدیلی عارضی ہے یا مستقل۔آج انتخاب سے ایک دن پہلے یہی احساس غالب رہا کہ مقابلہ سخت ہے، خاموش ووٹر فیصلہ کن ہے، اور اس بار اوکاڑہ بار کا انتخاب صرف عہدوں کا نہیں بلکہ سمت کا انتخاب ہے٭
محمد مظہررشید چودھری (03336963372)

