قادربخش بلوچ
اج کی دنیا ابلاغ کی دنیا ھے سپر پاور امریکہ میں روزانہ دنیا بھر میں تبدیلیوں پر بریفنگ دی جاتی ھے لیکن تیسری دنیا کے ممالک کے شہریوں کو یہ بالکل علم نہیں کہ ان کا مستقبل کیا ھے اور ان کے رہنماؤں کا بیانیہ کیا ھے۔دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ جو امریکہ سے پنگا لے گا اس کا انجام اچھا نہیں ہو سکتا۔مڈل ایسٹ میں عرب دنیا کو کنٹرول کرنے کے لئے امریکہ نے اسرائیل کو طاقتور بنا دیا ہے۔۔اس وقت امریکہ ایران کو بھی آنکھیں دکھا رہا ھے۔اعلانکہ ایران کے بادشاہ کو ستر کے اواخر میں امریکہ نے ایران بدر کرکے خمینی کو فرانس سے لا کر ایرانی مسند اقتدار پر بھٹایا۔اب کیا ہونے والا ھے جلد طشت از بام ہوگا۔اس وقت پوری عرب دنیا بشمول ایران سے نزدیک بلوچستان کی شامیں بے کیف ہیں۔عرب دنیا میں۔عراق۔مصر شام۔تو امریکی آشیرباد سے تہس نہس ہوگئے ہیں۔اور اب سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات رومانوی اور کیف آور نہیں ہیں۔۔بلوچستان میں لوگوں کی نظریں ڈاکٹر مالک پر جمی ہوئی ہیں جسطرح دوسری جنگ عظیم میں۔چرچل نے امریکیوں کو حوصلہ دیا۔بالکل اسی طرح بلوچستان کی نگاہیں ڈاکٹر مالک بلوچ پر مرکوز ہیں۔لوگوں کو ازبر ھے کہ ڈاکٹر مالک واحد رہنما ہیں جو ہمیشہ انسانی بھلائی کا سوچھتے ہیں۔ان کے نزدیک انسانیت ہر چیز سے مقدم ھے اہل بلوچستان نیشنل پارٹی کے بیانیہ اور کارکرگی سے کافی متاثر ہیں۔کوئی مانے یا نہ مانے بلوچستان میں نیشنل پارٹی واحد پارٹی ھے جو عملا اپنے صوبے کی نماہندگی کر رہا ھے۔جان بلیدی جو سیاست کے سرد و گرم اور اسرار ورموز سے اچھی طرح واقف ہیں انکی ہمیشہ یہی کوشش رہی ھے کہ کسطرح اپنے عوام کے مستقبل کے سیاسی نقشے کو پر کیف بنایا جاے۔بلیدی صاحب نے ساری عمر دنیا سیاست کے ویران ریگزاروں کو اباد کرنے میں گزاری ھے اور یہ بھی ایک حقیقت ھے کہ بلیدی صاحب نے ویرانوں کو گلستان بنا دیا ھے۔اور انکی مہک اہل بلوچستان محسوس کر رہے ہیں۔بلیدی صاحب کی بلوچستان کے لیے جو اواز ایوان بالا میں گونجتا ھے تاریخ کے اوراق میں خوشبو کی طرح مہکے گا۔

