تربت(رپورٹر) نیشنل پارٹی کے سابق مرکزی نائب صدر انجنیئر حمید بلوچ نے بلوچستان میں مسنگ پرسنز کے مسئلے پر سخت اور دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جبری گمشدگیاں ایک سنگین ریاستی جرم بن چکی ہیں، جس پر خاموشی مزید تباہی کو جنم دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان آج بھی لاپتہ افراد کے کرب سے گزر رہا ہے اور سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں بلوچ نوجوان لاپتہ ہیں، جن کے اہلِ خانہ دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔
انجنیئر حمید بلوچ نے کہا کہ اگر ریاست واقعی آئین اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے تو اسے فوراً تمام مسنگ پرسنز کو منظرِ عام پر لانا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بغیر مقدمہ، بغیر عدالت اور بغیر ثبوت کسی شہری کو لاپتہ کرنا بدترین آمریت ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ مسنگ پرسنز کے مسئلے کو طاقت کے زور پر دبانے کی کوششیں بلوچستان میں نفرت، بے اعتمادی اور بدامنی کو مزید بڑھا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر لاپتہ افراد کی اصل تعداد معلوم ہے تو اسے چھپانے کے بجائے قوم کے سامنے رکھا جائے، کیونکہ سچ چھپانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
انجنیئر حمید بلوچ نے مطالبہ کیا کہ تمام لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے، ذمہ داروں کا تعین کر کے انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن بندوق سے نہیں بلکہ انصاف سے آئے گا، اور جب تک جبری گمشدگیاں ختم نہیں ہوتیں، سیاسی استحکام محض ایک خواب ہی رہے گا۔

