تحریر۔۔۔شاہد شکیل
فلو موسم ِ سرما کی ایک عام بیماری ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ انسان سردی کے باعث فلو کا شکار نہیں ہوتا بلکہ اِس کی اصل وجہ فلو وائرس ہوتے ہیں جو سرد موسم میں خاص طور پر پھیلتے ہیں اور ساز گار حالات پاتے ہیں،اچانک تیز بخار،سر اور جسم کے درد،نیز شدید کپکپی اِس بات کی ابتدائی علامات ہیں کہ فلو نے آپ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔فلو سے بچاؤ کیلئے ویکسینیشن کی سہولت موجود ہے،تاہم اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ “فلو کی ویکسین لگوانی چاہئے یا نہیں “؟کیونکہ احتیاط لازمی ہے اِسلئے ضروری یہ ہے کہ آپ اپنے جسم کو سرد موسم کیلئے پہلے سے تیار کریں اور اپنے مدافعتی نظام کو مضبوط بنائیں،وٹا منز سے بھر پور غذاء تازہ ہوا میں وقت گزارنا اور مناسب نیند آپ کو موسمِ سرما کیلئے صحت مند اور توانا رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔آرتھروز جو عموماََ جوڑوں کے درد کے نام سے جانا جاتا ہے،یہ بیماری خاص طور پر خزاں اور موسمِ سرما میں زیادہ تکلیف دہ ہو جاتی ہے،سرد موسم کے دوران عضلات اور خون کی نالیاں سکڑ جاتی ہیں جس کے نتیجے میں جوڑوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے اور درد میں اِضافہ محسوس ہوتا ہے،تاہم سردیوں میں صرف گھر تک محدود رہنا مناسب نہیں،تازہ ہوا میں نکلنا اور ہلکی پھلکی سر گرمی جاری رکھنا نہایت ضروری ہے اگر درد کے خوف سے حرکت کم کر دی جائے تو اس سے صورتِ حال مزید خراب ہو سکتی ہے،باقاعدہ جسمانی حرکت کے ساتھ ساتھ مناسب مقدار میں مائعات کا استعمال اور متوازن و صحت بخش غذاء آرتھروز پر مثبت اثرات مرتب کرتی ہے اور تکالیف میں کمی کا باعث بن سکتی ہے۔نیورو ڈرما ٹائٹس جلد کی ایک عام،دائمی اور سوزشی بیماری ہے جو اگرچہ متعدی نہیں ہوتی مگر مریض کیلئے خاصی تکلیف دہ ثابت ہو سکتی ہے،اِس کی نمایاں علامات میں جلد پر واضح تبدیلیاں اور شدید خارش شامل ہیں جو عموماََ وقفے وقفے سے شدت اِختیار کرتی ہیں، تقریباََ پانچ ڈگری سینٹی گریڈ کے درجہئ حرارت پر جلد میں موجود چکنائی پیدا کرنے والے غدود اپنی سرگرمی کم یا بند کر دیتے ہیں جس کے نتیجے میں جلد خشک، کھردری اور بعض اوقات پھٹنے لگتی ہے،اِس صورتِ حال میں سب سے اہم احتیاط جلد کو باقاعدگی سے کریم لگانا ہے، چکنائی سے بھر پور کریمیں سردیوں میں جلد کو بیرونی اثرات سے محفوظ رکھتی ہیں اور خارِش و دیگر تکالیف میں کمی لاتی ہیں،تاہم اگر جلد پر ایگزیما نمایاں طور پر ظاہر ہو جائے تو جلد کے ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرنا نہایت ضروری ہے۔سرد موسم میں غلط جسمانی انداز اِختیار کرنے کے باعث عضلات میں کھنچاؤ اور درد کا ہونا ایک عام سی بات ہے،جب انسان سردی محسوس کرتا ہے تو غیر ارادی طور پر کندھے سکیڑ لیتا ہے اور کمر کو قدرے جھکا لیتا ہے،جتنی زیادہ مرتبہ یہ کیفیت دہرائی جائے اتنی ہی جَلد عضلات اس پر منفی ردّعمل ظاہر کرنے لگتے ہیں۔ اِس لئے ضروری ہے کہ موسم کے مطابق گرم لِباس پہنیں اور عضلات کو سکون دینے کیلئے گرم پانی سے غسل کریں تاکہ تناؤ کم ہو اور درد میں افاقہ حاصل ہو سکے۔یہ بات بظاہر مذاق محسوس ہو سکتی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ بعض افراد سردی سے الرجی کا شکار ہوتے ہیں،ایسے حالات میں جلد پر سرخ اور خارِش زدہ دانوں یا دھبوں کی صورت میں ردّ عمل ظاہر ہوتا ہے، یہ الرجی بعض صورتوں میں نہایت خطرناک ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ شدید حالت میں جسم میں ہسٹا مین کی اچانک زیادتی ہو جاتی ہے جو دل اور دورانِ خون کے نظام کو صدمے سے دوچار کر سکتی ہے، اگر آپ سردی کی الرجی میں مبتلا ہیں تو موسمِ سرما میں الرجی کیلئے مخصوص مرہم، دستانے،ٹوپی اور مفلر کو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھیں۔اگر آپ دل اور دورانِ خون کے نظام سے متعلق مسائل کا شکار ہیں تو سردیوں کے موسم میں آپ کو خاص طور پر محتاط رہنے کی ضرورت ہے،کم درجہئ حرارت کے باعث خون کی نالیاں ہی نہیں بلکہ دل سے متعلق رگیں بھی سکڑ جاتی ہیں،ایسے میں خون کی روانی برقرار رکھنے کیلئے دل کو معمول سے کہیں زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے، یہ اِضافی دباؤ اُن افراد میں، جنہیں پہلے سے قلبی مسائل لاحق ہوں،سنگین پیچیدگیوں کا سبب بن سکتا ہے، اگر سینے میں غیر معمولی دباؤ یا بوجھ محسوس ہو تو فوراََ معالج سے رجوع کریں۔ یقیناََ آپ نے یہ کیفیت محسوس کی ہو گی کہ باہر سخت سردی ہو اور اچانک سر میں شدید دباؤ اور درد محسوس ہونے لگے،اِس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ٹھنڈی ہوا پیشانی اور سر کی جِلد سے ٹکراتی ہے جس کے نتیجے میں خون کی نالیاں سکڑ جاتی ہیں اور چہرے کے عضلات میں تناؤ پیدا ہو جاتا ہے،ایسی صورت میں سر کی جِلد کی ہلکی پھلکی مالِش اور حرارت پہنچانا مفید ثابت ہوتا ہے، عمومی طور پر جو افراد بار بار سر درد یا مائیگرین کا شکار رہتے ہیں انہیں موسمِ سرما میں ہمیشہ ٹوپی پہننے کی عادت ڈالنی چاہئے تاکہ سردی سے محفوظ رکھا جا سکے۔معدہ و آنتوں کے انفیکشن سرد موسم میں بھی نہیں رکتے،یہاں بھی بیماری کی بنیادی وجہ خود موسمِ سرما نہیں ہوتا جو آپ کو معدہ و آنتوں کے انفیکشن میں مبتلا کر دے بلکہ اصل سبب وہ درجہئ حرارت ہے جس میں وائرس خود کو زیادہ آرام دہ محسوس کرتے ہیں، بالکل فلو کی طرح،اس موسم میں بھی وائرس خاص طور پر سر گرم ہو جاتے ہیں اور تقریباََ ہر جگہ پائے جاتے ہیں، اپنے جسم کی حفاظت کیلئے تازہ ہوا میں وقت گزارنا،مناسب مقدار میں مائعات کا استعمال اور کافی آرام نہایت ضروری ہے تاکہ جسم معمول کے مطابق اپنے افعال انجام دیتا رہے۔

