سبی(نامہ نگار)نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے خاتون ٹیچر جاں بحق حملہ آور فرار٬تفصیلات کے مطابق صبح سویرے سبی شہر میں افسوسناک واقع پیش آیا جہاں پر گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول الہٰ آباد کے گیٹ پر، جہاں روزانہ معصوم بچیوں کی ہنسی گونجتی تھی، وہیں ایک خاتون ٹیچر جو اپنی طالبات کے لیے امید اور روشنی کی علامت تھیں، نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کا نشانہ بن گئیں نشانہ سے سبق دینے والی معلم قرآن ٹیچر موقع پر ہی جاں بحق ہوگئیں۔عینی شاہدین کے مطابق خاتون ٹیچر صبح معمول کے مطابق اسکول پہنچ رہی تھیں کہ اچانک موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے قریب سے فائرنگ کی اور فرار ہوگئے۔ گولیاں اس قدر قریب سے ماری گئیں کہ انہیں سنبھلنے کا موقع بھی نہ مل سکا۔لاش کو فوری طور پر سبی کے سرکاری اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے تصدیق کی کہ وہ موقع پر ہی دم توڑ چکی تھیں۔ واقعے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔پولیس، لیویز اور سیکیورٹی فورسز نے مشترکہ سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے جبکہ شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ تاحال کسی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ ٹارگٹڈ کارروائی معلوم ہوتا ہے پولیس نے واقع پیش آنے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لیکر سخت چیکنگ کا عمل شروع کردیا اہلیان سبی نے اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کیا اہلیان سبی نے وزیر اعلیٰ بلوچستان٬آئی جی پولیس بلوچستان اور ڈی آئی جی سبی رینج سمیت دیگر اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ حملہ آوروں کی گرفتاری کو یقینی بنا کر لواحقین کو انصاف فراہم کیاجاۓ اہلیان سبی نے ساتھ ہی خواتین اساتذہ کی سیکیورٹی کے لیے ٹھوس اقدامات اور لڑکیوں کے اسکولوں کی حفاظت یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔یہ سانحہ صرف ایک استاد کا قتل نہیں بلکہ علم، امید اور مستقبل پر حملہ ہے۔ ایسا حملہ جس کا جواب ریاست اور معاشرے دونوں کو مل کر دینا ہے

