وفاق کی جانب سے بلوچستان کیلئے گیس کی محدود ایلوکیشن صوبے کے عوام کیساتھ ناانصافی کے مترادف ہے،میر سرفراز بگٹی

کوئٹہ(این این آئی)وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے شدید سردی کے دوران کوئٹہ، زیارت، سوئی اور قلات میں گیس کی کم پریشر اور عدم دستیابی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کو اس کٹھن موسم میں اس طرح مشکلات سے دوچار کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت پی پی ایل اور سوئی سدرن گیس کمپنی کے حکام کا اعلیٰ سطحی اجلاس چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا جس میں اراکین بلوچستان اسمبلی نے خصوصی شرکت کی اجلاس میں مختلف علاقوں میں گیس پریشر میں کمی، طویل بندش اور عدم فراہمی سے متعلق شکایات پر تفصیلی غور کیا گیا وزیر اعلیٰ بلوچستان نے گیس حادثات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکام کو ہدایت کی کہ حفاظتی اقدامات کو مزید مؤثر، سخت اور نتیجہ خیز بنایا جائے تاکہ قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ یقینی ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ صارفین کے لیے گیس کی عدم دستیابی اور کم پریشر ناقابلِ قبول ہے اور اس کا فوری، مستقل اور قابلِ عمل حل نکالا جائے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ وفاقی وزارت توانائی کی جانب سے بلوچستان کے لیے گیس کی محدود ایلوکیشن صوبے کے عوام کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے جس کے باعث عوام شدید اذیت میں مبتلا ہیں انہوں نے کہا کہ اس سنگین صورتحال سے وزیر اعظم پاکستان کو باضابطہ طور پر خط لکھ کر آگاہ کیا جائے گا۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ افسوس کا مقام ہے کہ سوئی، جہاں سے ملک بھر کو گیس فراہم کی جاتی ہے، وہیں آج بھی گیس کے سنگین مسائل موجود ہیں اور خواتین لکڑیوں پر روٹی پکانے پر مجبور ہیں انہوں نے کہا کہ کوئٹہ اور دیگر سرد علاقوں میں عوام شدید سردی میں ٹھٹھر رہے ہیں جبکہ گیس دستیاب نہیں یہ صورتحال ہرگز برداشت نہیں کی جا سکتی وزیر اعلیٰ بلوچستان نے پی پی ایل اور سوئی سدرن گیس کمپنی کے حکام کو دو ٹوک الفاظ میں ہدایت دی کہ بلوچستان میں گیس بحران کو ہر صورت حل کیا جائے انہوں نے کہا کہ حکومت عوامی مسائل سے مکمل طور پر آگاہ ہے اس معاملے میں گیس کمپنیوں کا کسی قسم کا حیلہ بہانہ یا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی لہذا متعلقہ حکام عوام کی مشکلات کے فوری ازالے کے لیے موثر اقدامات اٹھائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں