مانامہ بحرین (این این آئی) پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر صوبائی نائب صدر بلوچستان، ترجمان صدر زرداری و صوبائی وزیر زراعت میر علی حسن زہری صدرِ مملکتِ پاکستان آصف علی زرداری کے ہمراہ مملکتِ بحرین کے سرکاری دورے پر ہیں۔ اس اعلیٰ سطحی دورے کا مقصد پاکستان اور بحرین کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانا اور باہمی تعاون کو نئی جہت دینا ہے۔دورے کے دوران صدرِ پاکستان اور بحرین کی اعلیٰ قیادت کے مابین تفصیلی ملاقاتیں ہوئیں جن میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور باہمی مفاد کے مختلف امور پر جامع تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقاتوں میں خاص طور پر تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، بندرگاہوں، انفراسٹرکچر، افرادی قوت، سیاحت اور دیگر معاشی شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔بات چیت کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دونوں ممالک کے درمیان موجود برادرانہ تعلقات کو مضبوط معاشی شراکت داری میں تبدیل کیا جائے تاکہ سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں اور دونوں ملکوں کی معیشتوں کو تقویت ملے۔ بحرینی حکام کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا گیا جبکہ پاکستانی وفد نے سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر میر علی حسن زہری نے کہا کہ پاکستان اور بحرین کے تعلقات مشترکہ اقدار، باہمی احترام اور اعتماد پر مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بحرین کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے فروغ سے نہ صرف معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ میر علی حسن زہری نے مزید کہا کہ صوبائی سطح پر بھی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جا رہا ہے اور بیرونی سرمایہ کاروں کو مکمل تحفظ اور سہولیات دی جائیں گی۔ میر علی حسن زہری نے صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کی سفارتی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں پاکستان عالمی سطح پر فعال سفارت کاری کے ذریعے اپنے معاشی اور سیاسی مفادات کا مؤثر انداز میں تحفظ کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دورہ پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے اور دوست ممالک کے ساتھ تعلقات کو عملی تعاون میں بدلنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ صدرِ پاکستان کا بحرین کا یہ سرکاری دورہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون، سرمایہ کاری اور ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوگا، جس کے ثمرات مستقبل میں عوام تک پہنچیں گے۔

