تحریر: محمد مظہررشید چودھری
پاکستان میں بلدیاتی نظام جمہوریت کی بنیاد سمجھا جاتا ہے، جو عوام کو مقامی سطح پر فیصلہ سازی میں شامل کرتا ہے۔ تاہم، پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 (PLGA 2025) نے اس نظام کو نئی شکل دینے کی کوشش کی ہے، جو اکتوبر 2025 میں پنجاب اسمبلی سے منظور ہوا۔ اس قانون نے پرانے PLGA 2019/2022 کو ختم کر کے نئی ساخت متعارف کروائی، مگر اسے شدید تنقید کا سامنا ہے۔ جماعت اسلامی پاکستان (JI) نے اسے ’کالا قانون‘ قرار دے کر ایک چار روزہ عوامی ریفرنڈم کا انعقاد کیا، جو 15 سے 18 جنوری 2026 تک جاری رہا۔ یہ ریفرنڈم عوام کی رائے جاننے کا ذریعہ بنا، جہاں ہزاروں افراد نے شرکت کی اور قانون کی مخالفت کا اظہار کیا۔سانچ کے قارئین کرام! بلدیاتی ایکٹ 2025 یہ قانون پنجاب میں بلدیاتی اداروں کو دوبارہ منظم کرتا ہے، جس کا مقصد انتظامی کارکردگی بڑھانا ہے۔ تاہم، ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ مرکزی کنٹرول کو مضبوط کرتا ہے۔یونین کونسلز، تحصیل کونسلز، میونسپل کمیٹیاں، میونسپل کارپوریشنز، اور ٹاؤن کارپوریشنز۔ ضلعی کونسلز اور میٹروپولیٹن کارپوریشنز (جیسے لاہور میٹروپولیٹن) کو ختم کر دیا گیا ہے۔ اس کی جگہ ضلعی اتھارٹیز قائم کی گئی ہیں، جو صحت، تعلیم، اور سوشل ویلفیئر جیسے شعبوں کی نگرانی کریں گی۔ یونین کونسل،یہ سب سے بنیادی یونٹ ہے، جہاں 13 ممبران ہوں گے۔ ان میں 9 جنرل ممبران براہ راست عوامی ووٹ سے منتخب ہوں گے (ایک ووٹر ایک ووٹ کی بنیاد پر)۔ باقی 4 مخصوص نشستیں (عورتیں، نوجوان، اقلیتیں، اور مزدور/کسان) ان ڈائریکٹ طور پر منتخب ہوں گی۔ ہر یونین کونسل کی آبادی تقریباً 22,000 سے 27,000 افراد ہو گی۔ انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر ہوں گے۔ صرف یونین کونسل کے جنرل ممبران براہ راست منتخب ہوں گے، جبکہ چیئرمین، نائب چیئرمین، میئر، اور تحصیل کونسل کے چیئرمین ان ڈائریکٹ (منتخب ممبران کے ووٹ سے، شو آف ہینڈز کے ذریعے) منتخب ہوں گے۔ منتخب ممبران 30 دن کے اندر کسی سیاسی جماعت سے منسلک ہو سکتے ہیں، اور ڈیفیکشن کلاز (پارٹی تبدیل کرنے کی پابندی) لاگو ہو گا۔ انتخابات کا دورانیہ 5 سال ہے، اور انہیں الیکشن کمیشن آف پاکستان کروائے گا۔ امیدواروں کی کم از کم عمر، عام ممبران کے لیے 21 سال، سربراہوں کے لیے 25 سال۔ڈپٹی کمشنر کو ضلعی سطح پر کوآرڈینیٹر کا کردار دیا گیا ہے، جو تمام بلدیاتی اداروں کی نگرانی کرے گا، یہ نقطہ تنقید کا مرکز ہے، کیونکہ اسے بیوروکریٹک مداخلت کہا جاتا ہے۔ نئے اختیارات میں معاشی ترقی کی حکمت عملی اور غیر منصفانہ ٹیکسز کی سماعت شامل ہیں۔ اگر صوبائی منصوبے وقت پر مکمل نہ ہوں تو مقامی حکومتیں خود مکمل کر سکتی ہیں۔ ٹیکسز اور جرائم کی تفصیلات شیڈول IV، VII، اور VIII میں ہیں۔یہ نظام 2016 کے بعد پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی تاخیر کو ختم کرنے کا دعویٰ کرتا ہے، مگر ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ آئین کی دفعہ 140-A (جو مقامی حکومتوں کو سیاسی، انتظامی، اور مالی اختیارات کی منتقلی کو لازمی قرار دیتی ہے) کی خلاف ورزی ہے۔’جماعت اسلامی کی تنقید اور عوامی ریفرنڈم‘جماعت اسلامی نے PLGA 2025 کو ’عوام دشمن‘ اور ’غیر جمہوری‘ قرار دیا ہے۔ JI کے امیر حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ یہ قانون عوام کی آواز کو کمزور کرتا ہے، کیونکہ سربراہوں کا براہ راست انتخاب ختم کر کے ان ڈائریکٹ سلیکشن متعارف کیا گیا ہے، جو سیاسی جماعتوں کو کمزور کرتا ہے۔مزید برآں، ڈپٹی کمشنر کے وسیع اختیارات کو بیوروکریٹک کنٹرول کہا گیا ہے، جو مقامی سطح پر عوامی نمائندگی کو کم کرتا ہے۔ JI کی خواتین ونگ نے بھی عوامی آگاہی مہم چلائی، اور PTI جیسی دیگر جماعتوں نے اس کی حمایت کی۔اس تنقید کو عملی شکل دینے کے لیے JI نے 15 سے 18 جنوری 2026 تک چار روزہ عوامی ریفرنڈم کا انعقاد کیا۔ یہ ریفرنڈم پنجاب بھر میں کیمپوں، آن لائن پولز (poll.jamaat.org)، اور سوشل میڈیا کے ذریعے منعقد ہوا۔ سوال سادہ تھا، کیا آپ PLGA 2025 کو قبول کرتے ہیں یا مسترد؟ JI کے مطابق، یہ ریفرنڈم ایک خودمختار کمیشن کی نگرانی میں ہوا، اور پہلے دن ہی ہزاروں افراد نے شرکت کی، جو قانون کی مخالفت کا اظہار تھا۔ سانچ کے قارئین کرام! ریفرنڈم کے دوران JI نے عوام کو متحرک کرنے کے لیے ویڈیوز، پوسٹس، اور کیمپ استعمال کیے، اور اسے ’پنجاب عوامی ریفرنڈم‘ کا نام دیا۔ آج (18 جنوری 2026) ریفرنڈم کا آخری دن ہے، اور ابتدائی رپورٹس کے مطابق عوام کی بڑی تعداد نے قانون کو مسترد کیا ہے، مگر مکمل نتائج کا اعلان ابھی متوقع ہے۔جماعت کا دعویٰ ہے کہ یہ ریفرنڈم عوامی دباؤ سے قانون میں ترامیم لائے گا، اور وہ اس کے تحت انتخابات نہیں ہونے دیں گے۔عوامی ریفرنڈم جیسے اقدامات جمہوریت کی خوبصورتی ہیں، جو حکمرانوں کو عوامی جذبات سے آگاہ کرتے ہیں۔ PLGA 2025 کی تنقید جائز ہے، کیونکہ یہ مرکزی کنٹرول کو ترجیح دیتا ہے، مگر اس کے کچھ مثبت پہلو بھی ہیں جیسے انتظامی اصلاحات۔ عوام کی رائے کا احترام کرنے کے لیے درج ذیل تجاویز پیش کی جا سکتی ہیں: سربراہوں کا براہ راست انتخاب آئین کی روح کے مطابق ہو، تاکہ عوام کی نمائندگی مضبوط ہو۔ضلعی اتھارٹیز کو مالی اور انتظامی خودمختاری دی جائے، اور ڈپٹی کمشنر کا کردار صرف کوآرڈینیشن تک محدود ہو۔ریفرنڈم جیسے اقدامات کو سرکاری سطح پر اپنایا جائے، اور بلدیاتی قوانین میں عوامی مشاورت لازمی بنائی جائے۔ 2026 میں متوقع انتخابات کو تاخیر کا شکار نہ کیا جائے، اور تمام جماعتوں کو برابر مواقع دیے جائیں۔پاکستان میں بلدیاتی نظام کی کمزوری دیرینہ مسئلہ ہے، اور PLGA 2025 اسے حل کرنے کی کوشش ہے۔ تاہم، JI کا ریفرنڈم ایک یاد دہانی ہے کہ کوئی بھی قانون عوامی رضامندی کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اگر ریفرنڈم کے نتائج قانون کی مخالفت کرتے ہیں تو حکومت کو ترامیم پر غور کرنا چاہیے، کیونکہ جمہوریت عوامی رائے کی بنیاد پر قائم رہتی ہے٭
محمد مظہررشید چودھری (03336963372)

